تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ …:} یہ قصہ تفصیل کے ساتھ سورۂ شعراء (۵۲ تا ۶۶) اور یونس (۹۰ تا ۹۲) میں مذکور ہے۔ یہاں {” فَاجْعَلْ لَهُمْ طَرِيْقًا “} (پس ان کے لیے راستہ بنا) کے بجائے {” فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا “} (پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ مار) فرمایا، مقصود لمبی بات کو مختصر کرنا ہے، یعنی {” اِجْعَلْ لَهُمْ بِضَرْبِ الْبَحْرِ بِعَصَاكَ طَرِيْقًا “} (سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کے ساتھ ان کے لیے اس میں خشک راستہ بنا)۔ گویا {”اِضْرِبْ“} میں {”اِجْعَلْ“} کا معنی سمو دیا ہے، اسے تضمین کہتے ہیں۔
➌ {لَا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى: ” لَا تَخْشٰى “} کا مفعول ذکر نہیں فرمایا، تاکہ وہ عام رہے۔ معنی یہ ہو گا کہ نہ تو پکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ کسی بھی دوسری چیز سے ڈرے گا، مثلاً غرق ہونے، راستہ بھول جانے، بھوک پیاس سے ہلاک ہونے یا کسی اور دشمن کے حملے سے، غرض کسی بھی خطرے کا تجھے ڈر نہیں ہو گا۔ بعض مفسرین نے اس کا مفعول{ ”غَرْقًا“ } محذوف مانا ہے، یعنی تو غرق ہونے سے نہیں ڈرے گا، مگر محذوف مفعول مقام کی مناسبت سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے عام رکھنا بہتر ہے اور پھر اس میں غرق ہونا بھی آ جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔
بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔
فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔
اسی جیسی آیت «وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ہے ’ یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ ‘ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» ۱؎ [11-هود:98] ’ اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ظهر موسى بالبراهين على فرعون وقومه؛ مكث في مصر يدعوهم إلى الإسلام ويسعى في تخليص بني إسرائيل من فرعون وعذابِهِ، وفرعونُ في عتوٍّ ونفور، وأمره شديدٌ على بني إسرائيل، ويريه الله من الآيات والعبر ما قصَّه الله علينا في القرآن، وبنو إسرائيل لا يقدِرون أن يُظْهِروا إيمانَهم ويعلِنوه، قد اتَّخذوا بيوتهم مساجدَ، وصبروا على فرعون وأذاه، فأراد الله تعالى أن ينجِّيهم من عدوِّهم ويمكِّن لهم في الأرض؛ ليعبدوه جَهْراً ويُقيموا أمره، فأوحى إلى نبيِّه موسى أن يواعِدَ بني إسرائيل سرًّا ويسيروا أولَ الليل ليتمادوا في الأرض، وأخبره أنَّ فرعون وقومه سَيَتَّبعونه، فخرجوا أولَ الليل، جميعُ بني إسرائيل [هم] ونساؤُهم وذرِّيَّتُهم، فلما أصبح أهل مصر، وإذا هم ليس فيهم منهم داعٍ ولا مجيبٌ، فَحَنَقَ عليهم عدوُّهم فرعون، وأرسل في المدائن من يَجْمَعُ له الناس ويحضُّهم على الخروج في أثر بني إسرائيل، [ليوقع بهم وينفذ غيظه، واللَّه غالب على أمره، فتكاملت جنود فرعون فسار بهم يتبع بني إسرائيل] فاتَّبَعوهم مشرِقين، فلما تراءى الجمعانِ؛ قال أصحابُ موسى: إنَّا لَمدركون، وقلقوا، وخافوا: البحر أمامهم. وفرعون من ورائهم؛ قد امتلأ عليهم غيظاً وحنقاً، وموسى مطمئنُّ القلب ساكنُ البال، قد وَثِقَ بوعد ربِّه فقال: {كلاَّ إنَّ معي ربي سيهدينِ}؛ فأوحى الله إليه أن يَضْرِبَ البحر بعصاه، فضربه، فانفرق اثني عشر طريقاً، وصار الماء كالجبال العالية عن يمين الطرق ويسارها، وأيبس الله طُرُقهم التي انفرق عنها الماء، وأمرهم الله أن لا يخافوا من إدراكِ فرعونَ ولا يَخْشَوا من الغرق في البحر، فسلكوا في تلك الطرق، فجاء فرعونُ وجنودُه، فسلكوا وراءهم، حتَّى تكامل قوم موسى خارجين وقوم فرعون داخلين؛ أمر الله البحر، فالتطم عليهم، وغَشِيَهم من اليمِّ ما غَشِيَهم، وغرقوا كلُّهم، ولم ينجُ منهم أحدٌ، وبنو إسرائيل ينظُرون إلى عدوِّهم، قد أقرَّ الله أعيُنَهم بهلاكِهِ ، وهذا عاقبة الكفر والضلال وعدم الاهتداء بهدي الله، ولهذا قال تعالى: {وأضلَّ فرعونُ قومَه}: بما زيَّن لهم من الكفر، وتهجين ما أتى به موسى، واستخفافِهِ إيَّاهم، وما هداهم في وقت من الأوقات، فأوردهم موارد الغيِّ والضَّلال، ثم أوردهم مورد العذاب والنَّكال.