ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 77

وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا، پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا، نہ توپکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ ڈرے گا۔ En
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر
En
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 77) ➊ { وَ لَقَدْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى …:} فرعون کے جادوگروں کے مقابلے میں ناکام ہونے اور ان کے ایمان قبول کر لینے کے بعد ایک لمبی مدت گزری، جس میں بنی اسرائیل پر ظلم کے کئی پہاڑ ٹوٹتے رہے، ساتھ ہی فرعون اور اس کی قوم پر قحط، طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں اور خون کی صورت میں معجزے کے طور پر کئی عذاب آئے، جن میں سے ہر عذاب آنے پر وہ لوگ اپنے ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کرتے مگر عذاب ٹل جانے پر صاف مکر جاتے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ اس کا ذکر سورۂ اعراف (۱۳۰ تا ۱۳۵) میں تفصیل سے ہے۔ یہاں وہ ساری بات حذف کرکے فرعون کا انجام ذکر فرما دیا۔ اس لیے اس آیت کا عطف آیت (۵۶) «{وَ لَقَدْ اَرَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى پر ہے کہ فرعون کے تمام آیات (نشانیوں) کو جھٹلانے اور انکار کا انجام کیا ہوا؟ اس کا عطف موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کے مقابلے کے واقعہ پر نہیں۔ (بقاعی)
➋ {اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ …:} یہ قصہ تفصیل کے ساتھ سورۂ شعراء (۵۲ تا ۶۶) اور یونس (۹۰ تا ۹۲) میں مذکور ہے۔ یہاں { فَاجْعَلْ لَهُمْ طَرِيْقًا } (پس ان کے لیے راستہ بنا) کے بجائے { فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا } (پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ مار) فرمایا، مقصود لمبی بات کو مختصر کرنا ہے، یعنی { اِجْعَلْ لَهُمْ بِضَرْبِ الْبَحْرِ بِعَصَاكَ طَرِيْقًا } (سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کے ساتھ ان کے لیے اس میں خشک راستہ بنا)۔ گویا {اِضْرِبْ} میں {اِجْعَلْ} کا معنی سمو دیا ہے، اسے تضمین کہتے ہیں۔
➌ {لَا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى: لَا تَخْشٰى } کا مفعول ذکر نہیں فرمایا، تاکہ وہ عام رہے۔ معنی یہ ہو گا کہ نہ تو پکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ کسی بھی دوسری چیز سے ڈرے گا، مثلاً غرق ہونے، راستہ بھول جانے، بھوک پیاس سے ہلاک ہونے یا کسی اور دشمن کے حملے سے، غرض کسی بھی خطرے کا تجھے ڈر نہیں ہو گا۔ بعض مفسرین نے اس کا مفعول{ غَرْقًا } محذوف مانا ہے، یعنی تو غرق ہونے سے نہیں ڈرے گا، مگر محذوف مفعول مقام کی مناسبت سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے عام رکھنا بہتر ہے اور پھر اس میں غرق ہونا بھی آ جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

77۔ 1 جب فرعون ایمان بھی نہیں لایا اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کرنے پر آمادہ نہیں ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو یہ حکم دیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

77۔ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ ”میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ۔ پھر ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بناؤ۔ تمہیں نہ تو تعاقب کا خوف ہو اور نہ (ڈوب جانے کا) ڈر ہو“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭
چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔
چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔
بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔
چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔
فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔
اسی جیسی آیت «‏‏‏‏وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54]‏‏‏‏ ہے ’ یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ ‘ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:98]‏‏‏‏ ’ اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ ‘