بے شک ہم اپنے رب پر اس لیے ایمان لائے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ہماری خطائیں بخش دے اور جادو کے وہ کام بھی جن پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے اور اللہ بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
En
ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا۔ اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے
ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پرایمان ﻻئے کہ وه ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناه،) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے، اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے واﻻ ہے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 72 میں تا آیت 74 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
73۔ 1 دوسرا ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ' ہماری وہ غلطیاں بھی معاف فرما دے جو موسیٰ ؑ کے مقابلے میں تیرے مجبور کرنے پر ہم نے عمل جادو کی صورت میں کیں۔ ' اس صورت میں مَااَکْرَھْتَنَا کا عطف خَطَایانا پر ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ بلا شبہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کر دیا تھا۔ اور اللہ ہی بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔