اس آیت کی تفسیر آیت 66 میں تا آیت 68 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
67۔ یہ دیکھ کر موسیٰ اپنے دل میں [47] ڈر گئے۔
[47] بذریعہ وحی کامیابی کی بشارت:۔
قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ہے کہ جادوگروں نے بہت بڑا جادو پیش کیا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں ان جادوگروں کی لاٹھیاں اور رسیاں لوگوں کے سامنے سانپوں کی طرح حرکت کر رہی تھیں اور ایسے سانپوں سے میدان مقابلہ بھر گیا تھا۔ ان سانپوں نے لوگوں کو دہشت زدہ کر دیا تھا اور فرعون اور اس کے خاص درباری ان جادوگروں کے کارنامے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے اور ان کی داد دے رہے تھے۔ یہ صورت حال دیکھ کر موسیٰؑ خود بھی دل میں ڈرنے لگے تھے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس مقابلہ کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ اسلام کو وحی کی کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ بشارت بھی سنا دی کہ تم ہی کامیاب رہو گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔