ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 55

مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾
اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔ En
اسی (زمین) سے ہم تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے
En
اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 55){ مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ …:} یعنی تم سب کے باپ آدم علیہ السلام کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمھاری غذائیں اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جو موت تک چلتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ موت کے بعد دوبارہ مٹی میں جاؤ گے، پھر کوئی انسان قبر میں دفن ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کے اجزا مٹی میں جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں قیامت کے دن انھی اجزا کو دوبارہ روح پھونک کر زندہ کر دیا جائے گا، فرمایا: «{ قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ [الأعراف: ۲۵] فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔ بعض روایات میں دفن کے وقت مٹی کی پہلی مٹھی ڈالتے ہوئے { مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ }، دوسری مٹھی ڈالتے ہوئے { وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ } اور تیسری مٹھی ڈالتے وقت { وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى } پڑھنے کا ذکر ہے، مگر وہ روایات ضعیف ہیں، البتہ آیت پڑھے بغیر تین مٹھی مٹی ڈالنا مسنون ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی جِنَازَةٍ ثُمَّ أَتٰی قَبْرَ الْمَيِّتِ فَحَثٰی عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ ثَلاَثًا] [ابن ماجہ، الجنائز، باب ما جاء في حثو التراب في القبر: ۱۵۶۵، صحیح] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے پر نماز پڑھی، پھر میت کی قبر پر آئے اور اس کے سر کی طرف (مٹی کی) تین مٹھیاں ڈالیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

55۔ 1 بعض روایات میں دفنانے کے بعد تین مٹھیاں (یا بکے) مٹی ڈالتے وقت اس آیت کا پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، لیکن سنداً یہ روایات ضعیف ہیں۔ تاہم آیت کے بغیر تین لپیں ڈالنے والی روایت، جو ابن ماجہ میں ہے، صحیح ہے، اس لئے دفنانے کے بعد دونوں ہاتھوں سے تین تین مرتبہ مٹی ڈالنے کو علماء نے مستحب قرارا دیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب الجنائر صفحہ 152۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ [37] نکالیں گے۔
[37] انسان کا زمین سے دائمی تعلق:۔
اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی تین کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان تینوں کا تعلق زمین سے ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین یا مٹی سے پیدا کیا اور اس کی تمام تر ضروریات اسی سے متعلق کر دیں۔ پیدائش سے لے کر موت تک یہ ایک مرحلہ ہوا۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک ہے۔ اس مرحلے میں انسان اسی زمین میں دفن ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کی میت مٹی بن کر مٹی ہی میں رل مل جاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی سب لوگوں کو مٹی کھا جاتی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے جسم کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور بعض دوسرے لوگ بھی ایسے ہو سکتے ہیں جن کے اجسام ان کی قبروں میں محفوظ ہوں۔ اور تیسرا مرحلہ بعث بعد الموت ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس مٹی میں ملے ہوئے ذرات کو جمع کر کے سب لوگوں کو زندہ کر کے اپنے حضور حاضر کرے گا۔ گویا پہلے دو مراحل تیسرے مرحلہ کے لئے دلیل کا کام دیتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔