ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 48

اِنَّا قَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡنَاۤ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰی مَنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿۴۸﴾
بے شک ہم، یقینا ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ En
ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے
En
ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 48){ اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَاۤ …:} توحید و رسالت اور بنی اسرائیل کو اپنے ظلم و ستم اور غلامی سے آزاد کرنے کی دعوت کے ساتھ ہی خوش خبری بھی سنائی کہ جو ہدایت کی پیروی کرے گا سلامت رہے گا۔ اس آیت میں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیا کہ ہمیں وحی کے ذریعے سے بتایا گیا ہے کہ جو جھٹلائے گا اور منہ پھیرے گا اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔ اس ڈرانے میں بھی نرم سے نرم الفاظ، جو ممکن تھے، ملحوظ رکھے، یہ نہیں فرمایا کہ تم پر عذاب نازل ہو گا۔ اس سلامتی اور عذاب دونوں کو عام رکھا، اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی سلامتی اور عذاب شامل ہیں۔ یہ مضمون سورۂ نازعات (۳۰ تا ۳۹) اور سورۂ قیامہ (۳۱ تا ۳۵) وغیرہ میں بھی بیان ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو شخص اسے جھٹلائے گا اور منہ موڑے گا، اس کے لئے یقیناً عذاب ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ ہماری طرف وحی کی گئی ہے۔ یعنی ہم جو خبر دے رہے ہیں، اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ﴿ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى یعنی اس شخص کے لیے عذاب ہے جس نے اللہ اور انبیاء و رسل کی خبر کی تکذیب کی اور ان کی اطاعت سے منہ موڑا۔ اس میں فرعون کو ایمان و تصدیق اور دونوں نبیوں کی اطاعت و اتباع کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے متضاد امور سے ڈرایا گیا ہے۔ مگر اس کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور اس نے اپنے رب کا انکار کر دیا اور ظلم و عناد کی بنا پر اس بارے میں جھگڑا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّا قد أوحي إلينا}؛ أي: خبرنا من عند الله لا من عند أنفسنا؛ {أنَّ العذابَ على من كَذَّبَ وتولَّى}؛ أي: كذَّب بأخبار الله وأخبار رسلِهِ، وتولَّى عن الانقياد لهم واتِّباعهم، وهذا فيه الترغيب لفرعون بالإيمان والتصديق واتِّباعهما والترهيب من ضدِّ ذلك، ولكن لم يُفِدْ فيه هذا الوعظ والتذكير، فأنكر ربَّه وكفر وجادل في ذلك ظلماً وعناداً.