فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ وَ لَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی ﴿۴۷﴾
تو اس کے پاس جائو اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے، یقینا ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام اس پر جو ہدایت کے پیچھے چلے۔
En
(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے۔ اور انہیں عذاب نہ کیجیئے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو
En
تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 47) ➊ { فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ …:} اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تین چیزوں کی دعوت پہنچانے کا حکم دیا، ایک دعوت توحید کہ رب تو نہیں بلکہ وہ ہے جو تیرا بھی رب ہے اور جب وہ تیرے جیسے رب کہلانے والوں کا رب ہے تو باقی تمام مخلوق کا رب ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ دوسری دعوت رسالت کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس کا پیغام لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور تیسری قوم کی آزادی کا مطالبہ کہ رب تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان کی دعوت کے بعد خاص تیری طرف یہ پیغام بھی لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں آزاد رہ سکیں چلے جائیں اور یہ کہ انھیں ان مختلف قسم کے عذابوں سے رہا کر دے جن سے تو نے انھیں دو چار کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت میں غلام اور مظلوم اقوام کو غلامی سے نجات دلانا بھی شامل ہے۔ یہ کہنا کہ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں، غلط ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴۶ تا ۲۵۲)۔
➋ { قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ:} یہ اس بات کی تفصیل ہے کہ ”ہم تیرے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں“ یعنی یقین جانو کہ ہم تمھارے رب کی طرف سے اپنی رسالت کی نشانی اور دلیل بھی لے کر آئے ہیں، اگر تم اسے دیکھے بغیر ہی ایمان لے آؤ تو بہت ہی اچھا ہے، ورنہ ہم وہ بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
➌ { وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى:} اس میں ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ فرعون کو بھی سلام ہے، اگر وہ ہدایت قبول کرلے۔ معلوم ہوا کہ اگر وہ ہدایت قبول نہ کرے تو اسے کوئی سلام نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کافر بادشاہوں قیصر و کسریٰ وغیرہ کو جو خط لکھے ان میں یہی لکھا: [اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی] [بخاري: ۶۲۶۰] ” سلام ہو اس شخص پر جو اسلام کو قبول کرے “ یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے نہ سلامتی کی دعا ہے اور نہ ان کے لیے اللہ کی گرفت سے سلامتی کی کوئی صورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو لکھا: [أَسْلِمْ تَسْلَمْ] [بخاري: ۷] ”مسلمان ہو جاؤ تو سلامت رہو گے۔“
➋ { قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ:} یہ اس بات کی تفصیل ہے کہ ”ہم تیرے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں“ یعنی یقین جانو کہ ہم تمھارے رب کی طرف سے اپنی رسالت کی نشانی اور دلیل بھی لے کر آئے ہیں، اگر تم اسے دیکھے بغیر ہی ایمان لے آؤ تو بہت ہی اچھا ہے، ورنہ ہم وہ بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
➌ { وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى:} اس میں ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ فرعون کو بھی سلام ہے، اگر وہ ہدایت قبول کرلے۔ معلوم ہوا کہ اگر وہ ہدایت قبول نہ کرے تو اسے کوئی سلام نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کافر بادشاہوں قیصر و کسریٰ وغیرہ کو جو خط لکھے ان میں یہی لکھا: [اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی] [بخاري: ۶۲۶۰] ” سلام ہو اس شخص پر جو اسلام کو قبول کرے “ یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے نہ سلامتی کی دعا ہے اور نہ ان کے لیے اللہ کی گرفت سے سلامتی کی کوئی صورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو لکھا: [أَسْلِمْ تَسْلَمْ] [بخاري: ۷] ”مسلمان ہو جاؤ تو سلامت رہو گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
47۔ 1 یہ سلام تحیہ نہیں ہے، بلکہ امن و سلامتی کی طرف دعوت ہے۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام مکتوب میں لکھا تھا، و اَسْلِمْ، تَسْلَمْ، (اسلام قبول کرلے، سلامتی میں رہے گا) اس طرح مکتوب کے شروع میں آپ نے (وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى) 20۔ طہ:47) بھی تحریر فرمایا، (ابن کثیر) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مکتوب یا مجلس میں مخاطب کرنا ہو تو اسے انہی الفاظ میں سلام کہا جائے، جو مشروط ہے ہدایت کے اپنانے کے ساتھ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
47۔ لہٰذا اس کے پاس جاؤ اور اسے کہنا کہ: ہم تیرے رب کے رسول ہیں لہذا بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ [31] جانے کے لئے چھوڑ دے اور انھیں تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانی لے کر آئے ہیں اور جو شخص ہدایت کی پیروی کرے اس کے لئے سلامتی ہے
[31] فرعون کو دعوت دینے پانچ نکات:۔
گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا۔ ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنا کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دو نکات آ گئے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصاً تمہارا بھی پروردگار ہے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔ گویا اس ایک حملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آ گیا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انھیں ہمارے ہمراہ کر دے تاکہ وہ آزادانہ زندگی بسر کر سکیں اور یہ تیسرا نکتہ خاص اس قسم کے حالات کے مطابق تھا۔ چوتھا نکتہ یہ تھا کہ جو شخص اس راہ ہدایت یعنی اللہ کی توحید اور ہماری رسالت پر ایمان لے آئے گا اور اللہ ہی کی عبادت اور ہماری اطاعت کرے گا اس کے لئے اس دنیا میں امن اور سلامتی ہو گی اور آخر میں بھی۔ اور پانچویں یہ تھا کہ ہمیں بذریعہ وحی اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت سے منہ پھیرے گا آخر میں اس کے لئے عذاب ہو گا۔ گویا چوتھے اور پانچویں نکتہ میں ایمان کے نہایت اہم جزء ایمان بالآخرت کی دعوت پیش کی گئی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات کہہ دینا کہ ہمارا یہ دعویٰ رسالت بے دلیل نہیں بلکہ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔