(آیت 44) ➊ {فَقُوْلَالَهٗقَوْلًالَّيِّنًا:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت نرم بات کہیں، جس میں ترغیب ہو، اسے غصہ دلانے والی نہ ہو۔ ہر داعی کو یہی اسلوب اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ دعوت الی اللہ سے مقصود مخاطب کی ہدایت اور اصلاح ہوتی ہے نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا، یا سخت کلامی سے دل کا غصہ نکالنا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۱۲۵) اور آل عمران (۱۵۹) اللہ تعالیٰ نے وہ نرم بات بھی خود ہی سکھا دی، جیسا کہ آگے آیت (۴۷) میں آ رہا ہے اور دیکھیے سورۂ نازعات (۱۸، ۱۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَاعَائِشَةُ! إِنَّاللّٰهَرَفِيْقٌيُحِبُّالرِّفْقَوَيُعْطِيْعَلَیالرِّفْقِمَالَايُعْطِيْعَلَیالْعُنْفِوَمَالاَيُعْطِيْعَلٰیمَاسِوَاهٗ][مسلم، البر والصلۃ، باب فضل الرفق: ۲۵۹۳، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا]”اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ بہت نرمی والا ہے، نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو نہ سختی پر عطا کرتا ہے اور نہ اس (نرمی) کے سوا کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔“ اور یہ بھی فرمایا: [إِنَّالرِّفْقَلَايَكُوْنُفِيْشَيْءٍإِلَّازَانَهُوَلاَيُنْزَعُمِنْشَيْءٍإِلَّاشَانَهٗ][مسلم، أیضًا: ۲۵۹۴]”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس سے بھی نکال لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔“ ہاں اگر کہیں نرمی بالکل ہی بے اثر ٹھہرے اور کوئی شخص ہٹ دھرمی اور تکبر سے کسی طرح باز نہ آئے تو اس سے حق بات سختی کے ساتھ کہنے کی بھی اجازت ہے، کیونکہ وہاں ”حکمت “کا تقاضا یہی ہے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت (۴۶) میں ہے اور زیر تفسیر آیات میں آیت (۴۸) میں موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے۔ ➋ {لَعَلَّهٗيَتَذَكَّرُاَوْيَخْشٰى: ”لَعَلَّ“} کا لفظ ترجی (امید کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں امید کا ذکر آئے تو وہ بات یقینی ہوتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ فرعون نصیحت یا ڈرنے سے محروم رہے گا، پھر {”لَعَلَّ“ } کا لفظ کیوں فرمایا؟ اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک تویہ کہ یہ {”لَعَلَّ“ } موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی نسبت سے ہے کہ تم اس سے نرم بات اس امید کے ساتھ کہو کہ وہ نصیحت حاصل کرے گا یا ڈر جائے گا۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو تو علم نہیں تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ اسی طرح مخاطب کتنا بھی سرکش ہو داعی کو ہمیشہ امید کا چراغ دل میں روشن رکھنا لازم ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ {”لَعَلَّ“} کا لفظ ”امید ہے“ کے علاوہ{ ”كَيْ“} یعنی ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے سورۂ بقرہ (۲۱) میں فرمایا: «لَعَلَّكُمْتَتَّقُوْنَ» ”تاکہ تم بچ جاؤ۔“ {”يَتَذَكَّرُ“ } نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئے یا کم از کم ڈر کر ظلم سے باز آ جائے، کیونکہ ایک سرکش آدمی سے یہی امید کی جا سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 یہ وصف بھی اللہ سے دعا کے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سختی سے لوگ بدکتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں اور نرمی سے قریب آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں اگر وہ ہدایت قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ دیکھو، اسے نرمی سے بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے [29] یا (اللہ سے) ڈر جائے۔“
[29] دعوت کے لئے قوم کا لہجہ ضروری ہے:۔
کسی کے راہ راست پر آنے اور اسے قبول کرنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دعوت کو پوری سمجھ کر حق بات قبول کر لے اور دوسری یہ کہ اپنے برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہو جائے۔ یہ دونوں باتیں بتلا دیں اور انھیں تاکید کر دی کہ فرعون سے جو بات کہیں نرمی کے لہجہ میں کہیں۔ کیونکہ سختی سے بات کرنے سے بسا اوقات الٹا اثر ہوتا ہے۔ مخاطب اصل بات سمجھنے کی بجائے طرز تخاطب اور لہجہ کی بنا پر ضد اور مخالفت پر اتر آتا ہے۔ گویا تبلیغ اور دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ایک نہایت اہم سبق ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔