تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا: ” فُتُوْنًا “ ”فَتَنَ يَفْتِنُ“} کا مصدر ہے، جیسا کہ {”قُعُوْدٌ“} اور {”خُرُوْجٌ“} وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بے سروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت کا سامان تھا۔ حافظ ابن کثیر نے ایک لمبی حدیث ”حدیث فتون“ مکمل ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے۔
➌ { ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى:} یعنی تمھارا راہ بھول کر وادی طویٰ میں آنا اور میرے ساتھ کلام اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر اور اچانک نہیں تھا، بلکہ عین میرے مقرر کردہ وقت اور فیصلے کے مطابق تھا۔ اگرچہ ہر کام ہی اللہ کی تقدیر سے ہے، مگر اس{ ” قَدَرٍ “ } سے مراد خاص طور پر طے کرنا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا: «وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ» {”صَنَعَ يَصْنَعُ“ } کا معنی بنانا ہے، {”اِصْطَنَعَ“} باب افتعال سے ہے، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا اور حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے کام یعنی رسالت و نبوت کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ تمام احسانات کا خلاصہ ہے.
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن حسن تدبيره أنَّ موسى لما وقع في يد عدوِّه؛ قلقتْ أمُّه قلقاً شديداً، وأصبح فؤادها فارغاً، وكادت تُخْبِرُ به، لولا أنَّ الله ثبَّتها وربط على قلبها؛ ففي هذه الحالة حرَّم الله على موسى المراضع؛ فلا يقبل ثديَ امرأةٍ قطُّ؛ ليكون مآلُه إلى أمِّه فترضِعَه ويكونَ عندها مطمئنَّة ساكنةً قريرة العين، فجعلوا يعرضون عليه المراضع؛ فلا يقبلُ ثدياً، فجاءتْ أختُ موسى، فقالت لهم: {هل أدلُّكم}: على أهل بيتٍ يكفُلونه لكم وهم له ناصحونَ، {فَرَجَعْناك إلى أمِّك كي تَقَرَّ عينُها ولا تحزنْ وقتلتَ نفساً}: وهو القبطيُّ لما دخل المدينة وقتَ غفلةٍ من أهلها وَجَدَ رجلين يقتتلانِ: واحدٌ من شيعة موسى والآخر من عدوِّه قبطيٌّ، فاستغاثه الذي من شيعتِهِ على الذي من عدوِّه، فوَكَزَهُ موسى فقضى عليه، فدعا الله وسأله المغفرةَ فَغَفَرَ له، ثم فرَّ هارباً لما سمع أنَّ الملأ طَلَبوه يريدون قتله. {فنجَّيْناك من الغمِّ}: من عقوبة الذنب ومن القتل، {وفَتَنَّاك فُتوناً}؛ أي: اختبرناك وبَلَوْناك فوجدناك مستقيماً في أحوالك، أو نقَّلْناك في أحوالك وأطوارك حتى وصلتَ إلى ما وصلتَ إليه. {فلبثتَ سنين في أهل مَدْيَنَ}: حين فرَّ هارباً من فرعون وملئه حين أرادوا قتله، فتوجَّه إلى مدين، ووصل إليها، وتزوَّج هناك، ومكث عشر سنين أو ثمان سنين، {ثم جئتَ على قَدَرٍ يا موسى}؛ أي: جئت مجيئاً ليس اتفاقاً من غير قصدٍ ولا تدبيرٍ منَّا، بل بقدرٍ ولطف منَّا ، وهذا يدلُّ على كمال اعتناء الله بكليمه موسى عليه السلام.