اِذۡ تَمۡشِیۡۤ اُخۡتُکَ فَتَقُوۡلُ ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی مَنۡ یَّکۡفُلُہٗ ؕ فَرَجَعۡنٰکَ اِلٰۤی اُمِّکَ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَ لَا تَحۡزَنَ ۬ؕ وَ قَتَلۡتَ نَفۡسًا فَنَجَّیۡنٰکَ مِنَ الۡغَمِّ وَ فَتَنّٰکَ فُتُوۡنًا ۬۟ فَلَبِثۡتَ سِنِیۡنَ فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ ۬ۙ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوۡسٰی ﴿۴۰﴾
جب تیری بہن چلی جاتی تھی، پس کہتی تھی کیا میں تمھیں اس کا پتا دوں جو اس کی پرورش کرے؟ پس ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے۔ اور تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا، پھر کئی سال تو مدین والوں میں ٹھہرا رہا، پھر تو ایک مقرر اندازے پر آیا اے موسیٰ!
En
جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے
En
(یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے، اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه غمگین نہ ہو۔ اور تو نے ایک شخص کو مار ڈاﻻ تھا اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا، پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے موسیٰ! تو آیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 41،40) ➊ {” اِذْ تَمْشِيْۤ اُخْتُكَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۱۱ تا ۱۳) اور {” وَ قَتَلْتَ نَفْسًا “} سے آخر آیت تک کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۱۴ تا ۲۸)۔
➋ {وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا: ” فُتُوْنًا “ ”فَتَنَ يَفْتِنُ“} کا مصدر ہے، جیسا کہ {”قُعُوْدٌ“} اور {”خُرُوْجٌ“} وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بے سروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت کا سامان تھا۔ حافظ ابن کثیر نے ایک لمبی حدیث ”حدیث فتون“ مکمل ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے۔
➌ { ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى:} یعنی تمھارا راہ بھول کر وادی طویٰ میں آنا اور میرے ساتھ کلام اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر اور اچانک نہیں تھا، بلکہ عین میرے مقرر کردہ وقت اور فیصلے کے مطابق تھا۔ اگرچہ ہر کام ہی اللہ کی تقدیر سے ہے، مگر اس{ ” قَدَرٍ “ } سے مراد خاص طور پر طے کرنا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا: «وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ» {”صَنَعَ يَصْنَعُ“ } کا معنی بنانا ہے، {”اِصْطَنَعَ“} باب افتعال سے ہے، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا اور حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے کام یعنی رسالت و نبوت کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ تمام احسانات کا خلاصہ ہے.
➋ {وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا: ” فُتُوْنًا “ ”فَتَنَ يَفْتِنُ“} کا مصدر ہے، جیسا کہ {”قُعُوْدٌ“} اور {”خُرُوْجٌ“} وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بے سروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت کا سامان تھا۔ حافظ ابن کثیر نے ایک لمبی حدیث ”حدیث فتون“ مکمل ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے۔
➌ { ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى:} یعنی تمھارا راہ بھول کر وادی طویٰ میں آنا اور میرے ساتھ کلام اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر اور اچانک نہیں تھا، بلکہ عین میرے مقرر کردہ وقت اور فیصلے کے مطابق تھا۔ اگرچہ ہر کام ہی اللہ کی تقدیر سے ہے، مگر اس{ ” قَدَرٍ “ } سے مراد خاص طور پر طے کرنا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا: «وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ» {”صَنَعَ يَصْنَعُ“ } کا معنی بنانا ہے، {”اِصْطَنَعَ“} باب افتعال سے ہے، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا اور حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے کام یعنی رسالت و نبوت کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ تمام احسانات کا خلاصہ ہے.
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 یہ اس وقت ہوا، جب ماں نے تابوت دریا میں پھینک دیا تو بیٹی سے کہا، ذرا دیکھتی رہو، یہ کہاں کنارے لگتا ہے اور اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے؟ جب اللہ کی مشیت سے موسیٰ ؑ فرعون کے محل میں پہنچ گئے، شیرخوارگی کا عالم تھا، چناچہ دودھ پلانے والی عورتوں اور آیاؤں کو بلایا گیا لیکن موسیٰ ؑ کسی کا دودھ نہ پیتے موسیٰ ؑ کی بہن خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہی تھی، بالآخر اس نے کہا میں تمہیں ایسی عورت بتاتی ہوں جو تمہاری یہ مشکل دور کر دے گی، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ اپنی ماں کو، جو موسیٰ ؑ کی بھی ماں تھی، بلا لائی، جب ماں نے بیٹے کو چھاتی سے لگایا تو موسیٰ ؑ نے اللہ کی تدبیر و مشیت سے غٹا غٹ دودھ پینا شروع کردیا۔ 40۔ 2 یہ ایک دوسرے احسان کا ذکر ہے، جب موسیٰ ؑ سے غیر ارادی طور پر ایک فرعونی کو صرف گھونسہ مارنے سے مرگیا، جس کا ذکر سورة قصص میں آئے گا 40۔ 3 فتون دخول اور خروج کی طرح مصدر ہے یعنی ابتلیناک ابتلاء یعنی ہم نے تجھے خوب آزمایا۔ یا یہ جمع ہے فتنہ کی جیسے حجرۃ کی حجور اور بدرۃ کی بدور کی جمع ہے یعنی ہم نے تجھے کئی مرتبہ یا بار بار آزمایا یا آزمائشوں سے نکالا مثلا جو سال بچوں کے قتل کا تھا تجھے پیدا کیا تیری ماں نے تجھے سمندر کی موجوں کے سپرد کردیا تمام دایاؤں کا دودھ تجھ پر حرام کردیا تو نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی تھی جس پر اس نے تیرے قتل کا ارادہ کرلیا تھا تیرے ہاتھوں قبطی کا قتل ہوگیا وغیرہ ان تمام مواقع آزمائش میں ہم ہی تیری مدد اور چارہ سازی کرتے رہے۔ 40۔ 4 یعنی فرعونی کے غیر ارادی قتل کے بعد تو یہاں سے نکل کر مدین چلا گیا اور وہاں کئی سال رہا۔ 40۔ 5 یعنی ایسے وقت میں تو آیا جو وقت میں نے اپنے فیصلے اور تقدیر میں تجھ سے ہم کلامی اور نبوت کے لئے لکھا ہوا تھا یا قَدَرٍ سے مراد، عمر ہے یعنی عمر کے اس مرحلے میں آیا جو نبوت کے لئے موزوں ہے۔ یعنی چالیس سال کی عمر میں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ جب تمہاری بہن (لب ساحل تمہارے ساتھ ساتھ) چل رہی تھی۔ (اور جب فرعون نے صندوق اٹھا لیا) تو انھیں کہنے لگی: کیا میں تمہیں ایسے شخص کا پتہ دوں جو اس بچے کی (ٹھیک طرح) پرورش کر سکے؟ پھر ہم نے تمہاری ماں کے پاس لوٹا دیا تاکہ وہ اپنی آنکھ ٹھنڈی [24] کرے اور غمزدہ نہ رہے۔ نیز تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا تو ہم نے تمہیں اس غم سے نجات [25] دی پر تمہیں مختلف آزمائشوں سے گزارا۔ پھر تم کئی سال مدین والوں کے ہاں ٹھہرے رہے۔ پھر اب تم اے موسیٰ! تقدیر کے مطابق ٹھیک رہے [26]۔ وقت پر یہاں آ گئے
[24] فرعون کے ہاں موسیٰ کی تربیت:۔
پھر تمہاری تربیت کا یہ سامان کیا۔ کہ جب تمہاری والدہ نے تابوت کو دریا کے حوالے کیا تو اس نے اپنی بیٹی یعنی تمہاری بہن کو یہ تاکید کر دی تھی کہ دریا کے بہاؤ کے ساتھ چلتی جائے۔ اور اس تابوت کی نگرانی کرتی رہے کہ اس تابوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔ تا آنکہ اسے پتہ چل گیا کہ تم فرعون کے گھر میں پہنچ گئے ہو۔ ایسا پیارا بچہ دیکھ کر فرعون کی بیوی آسیہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں، کیوں نہ ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ بالآخر اس نے اپنے خاوند فرعون کو اس بات کا قائل کر لیا۔ اب سوال یہ تھا کہ کون سی انا پریا دائی سیدنا موسیٰؑ کو دودھ پلائے۔ جو بھی انا لائی جاتی سیدنا موسیٰ اس کا دودھ پینے سے ایا کراہتے تھے۔ بڑا ٹیڑھا مسئلہ بن گیا تھا۔ جب یہ بات عام ہوئی تو سیدنا موسیٰ کی بہن نے وہاں حاضر ہو کر کہا۔ میں تمہیں ایک ایا کی نشاندہی کرتی ہوں مجھے امید ہے کہ یہ بچہ اس کا دودھ ضرور پی لے گا۔ چنانچہ موسیٰ کی بہن نے اپنی ماں کا اتا پتا بتلایا۔ اسے بتلایا گیا۔ تو بچہ فی الواقع اس کا دودھ پینے لگا۔ پھر فرعون اور اس کی بیوی نے یہ بچہ سیدنا موسیٰؑ کی ماں کے ہی حوالہ کر دیا اور اس کی سرکاری خزانہ سے تنخواہ بھی مقرر کر دی گئی۔ اور اسے بچہ سمیت واپس اپنے گھر بھیج دیا گیا۔ اس طرح اے موسیٰ! ہم نے حیرت انگیز طریقے سے تمہاری پرورش کا بندوبست کر دیا۔ تم خود بھی اپنی ماں کے پاس پہنچ گئے۔ تربیت بھی ہونے لگی اور تمہاری ماں کی آنکھیں بھی ٹھنڈی رہیں۔ اس طرح ہم نے تمہیں موت کے منہ سے بچایا اور بچپن میں تمہاری تربیت کا انتظام اسی فرعون کے ہاتھوں کروایا جو تمہاری ہی جان کے درپے تھا۔
[25] سیدنا موسیٰ کے ہاتھوں ایک قبطی کا مر جانا:۔
اس واقعہ کی تفصیل تو سورۃ قصص میں آئے گی۔ اجمال یہ ہے کہ سیدنا موسیٰ کے ہاتھوں ایک قبطی (فرعونی) نا دانستہ طور پر مارا گیا تھا۔ آپ نے اسے صرف مکہ مارا تھا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ تو ہم نے تمہیں مدین کی راہ دکھائی اور اس کے نتیجہ میں جو تمہیں سزا کے طور پر اپنی موت کا خطرہ تھا اس سے نجات دی۔ اس کے بعد بھی تم پر کئی آزمائشوں کے دوار آئے۔ جن میں ہم تمہاری مدد کرتے رہے۔
[26] تقدیر کے مطابق اسباب ضرور بنتے چلے جاتے ہیں:۔
تم مدین پہنچے تو بالکل ایک اجنبی مسافر تھے۔ پھر ہم نے تمہارے لئے ایسے سامان مہیا کر دیئے کہ تم مدین میں شعیبؑ کے پاس با عزت طور پر رہنے لگے۔ سالہا سال ان کی بکریاں چرائیں۔ اس سے بھی تمہاری تربیت مقصود تھی۔ پھر شعیبؑ کی بیٹی سے تمہارا نکاح ہوا تو تمہاری یہ ضرورت بھی پوری ہو گئی۔ پھر مدین میں معینہ مدت گزارنے کے بعد تمہیں اپنے وطن واپس جانے کا خیال آیا۔ سردیوں کی طویل اور اندھیری رات میں تم بال بچوں سمیت سفر کر رہے تھے تو راستہ بھول گئے۔ اور اب تم آگ دیکھ کر ادھر آگئے ہو تو راستہ کا اتا پتا معلوم کرو۔ اور اپنے گھر والوں کے لئے کچھ آگ کے انگارے لے جاؤ تو یہ سب کچھ اتفاقاً ہی نہیں ہو گیا۔ بلکہ تم ٹھیک ہماری مشیت اور اندازہ کے مطابق یہاں پہنچے ہو۔ ہمیں تم کو یہاں اس وقت اور اس حال میں لانا مقصود تھا تو تمہارے لئے حالات ہی ایسے پیدا کر دیئے کہ تم از خود یہاں پہنچ گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔