ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 39

اَنِ اقۡذِفِیۡہِ فِی التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِیۡہِ فِی الۡیَمِّ فَلۡیُلۡقِہِ الۡیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاۡخُذۡہُ عَدُوٌّ لِّیۡ وَ عَدُوٌّ لَّہٗ ؕ وَ اَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ۚ وَ لِتُصۡنَعَ عَلٰی عَیۡنِیۡ ﴿ۘ۳۹﴾
یہ کہ تو اسے صندوق میں ڈال، پھر اسے دریا میں ڈال دے، پھر دریا اسے کنارے پرڈال دے ، اسے ایک میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھالے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ En
(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ
En
کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39) ➊ { اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ …:} یعنی تمھارا کام بس اتنا ہے کہ صندوق میں ڈال کر دریا (نیل) میں ڈال دو۔ آگے دریا کو ہمارا حکم یہ ہے کہ اسے راستے میں روکنے یا لے جا کر سمندر میں ڈالنے کے بجائے عین فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگا دے۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل سورۂ قصص (۷ تا ۱۳) میں ہے۔
➋ {وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ …:} یعنی تمھاری صورت ایسی بنائی اور اس میں اپنی طرف سے ایسی انوکھی دل ربائی رکھی کہ جو کوئی تمھیں دیکھتا بے اختیار محبت کرنے لگتا۔ { وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ } کا عطف { وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ } سے حاصل ہونے والے مفہوم پر ہے، جس کی تقدیر یوں ہو گی:{ وَ أَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ لِتُحَبَّ وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ } اور میں نے تجھ پر ایک انوکھی محبت ڈال دی، تاکہ تجھ سے محبت کی جائے اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ اس عطف کی مزید توجیہات مفصل کتب میں دیکھیں۔ { مَحَبَّةً } میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ایک انوکھی محبت ترجمہ کیا ہے، یعنی جو اسباب کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ بلااسباب خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 مراد فرعون ہے جو اللہ کا بھی دشمن اور حضرت موسیٰ ؑ کا بھی دشمن تھا۔ یعنی لکڑی کا وہ تابوت تیرتا ہوا جب شاہی محل کے کنارے پہنچا تو اسے باہر نکال کر دیکھا گیا، تو اس میں ایک معصوم بچہ تھا، فرعون نے اپنی بیوی کی خواہش پر پرورش کے لئے شاہی محل میں رکھ لیا۔ 39۔ 2 یعنی فرعون کے دل میں ڈال دی یا عام لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی۔ 39۔ 3 چناچہ اللہ کی قدرت کا اور اس کی حفاظت و نگہبانی کا کمال اور کرشمہ دیکھئے کہ جس بچے کی خاطر، فرعون بیشمار بچوں کو قتل کروا چکا، تاکہ وہ زندہ نہ رہے، اسی بچے کو اللہ تعالیٰ اس کی گود میں پلوا رہا ہے، اور ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، لیکن اس کی اجرت بھی اسی دشمن موسیٰ ؑ سے وصول کر رہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ کہ ”تم اس بچے (موسیٰ) کو صندوق میں رکھو پھر اس صندوق کو دریا [22] میں ڈال دے۔ دریا اس صندوق کو ساحل پر پھینک دے گا جسے میرا اور موسیٰ کا دشمن اٹھا لے گا۔ پھر (اے موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (کہ جو کوئی تمہیں دیکھے پیار کرنے لگے) اور یہ اس لئے کیا کہ میری نگرانی میں تمہاری پرورش [23] ہو۔
[22] سیدنا موسیٰ کی پیدائش اور صندوق میں ڈالنا:۔
ہوا یہ تھا کہ فرعون کو ایک ڈراؤنا سا خواب آیا جس کی تعبیر اسے درباری نجومیوں نے یہ بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہونے والا ہے جو تمہاری سلطنت کو تہ و بالا کر دے گا اور تمہاری ہلاکت کا موجب بنے گا اس کا توڑ فرعون نے یہ سوچا کہ آئندہ بنی اسرائیل کے ہاں جتنے لڑکے پیدا ہوں ان کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالا جائے اور اس حکم کی تعمیل کے لئے اس نے اپنے تمام اہل کاروں کو ہدایات جاری کر دیں اور دائیوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ جس وقت کسی بنی اسرائیل کے فرد یا سبطی کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ فوراً حکومت کو اس کی اطلاع کرے۔
تقدیر کے سامنے تدبیر کی ناکامی:۔
در اصل فرعون کی اپنی سلطنت کو بچانے کی یہ تدبیر، کہ بنی اسرائیل کے ہاں ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالا جائے، اس کی حماقت اور ناعاقبت اندیشی پر مبنی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ جو تعبیر نجومیوں نے بتلائی تھی اس کے متعلق دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ تعبیر غلط ہو۔ اس صورت میں اسے کسی تدبیر کی ضرورت ہی نہ تھی۔ دوسری یہ کہ وہ تعبیر درست ہو۔ اس صورت میں بھی فرعون کی کسی تدبیر کا کچھ فائدہ نہ تھا۔ اس لئے کہ تدبر سے اس تعبیر کو تبدیل کیا جا سکتا ہو تو وہ تعبیر درست کیسے قرار دی جا سکتی ہے۔ یہی دوسری صورت فرعون سے پیش آئی۔ اس کی اس ظالمانہ تدبیر کے باوجود تقدیر غالب آئی اور جو کچھ اللہ کی مشیت میں تھا وہ ہو کے رہا۔ فرعون کا یہ وحشیانہ حکم ایک طویل عرصہ سے بنی اسرائیل پر ڈھایا۔ بنی اسرائیل پر ڈھایا جا رہا تھا۔ جب سیدنا موسیٰؑ پیدا ہوئے۔ قرآن کی والدہ اس بچے کے فعل کے تصور سے سخت مغموم ہو گئیں۔ یکدم ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خیال ڈال دیا کہ اس بچے کی پیدائش کی خبر اہل کاروں کے پاس پہنچنے سے پیشتر ہی اسے ایک تابوت میں بند کر دے۔ پھر اس تابوت کو دریائے نیل کی موجوں کی سپرد کر دیا جائے۔ اس طرح ایک تو بچہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہونے کے منظر کی اذیت سے بچ جائیں گے دوسرے ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس بچے کی زندگی کی کوئی اور صورت پیدا کر دے۔
[23] تابوت کا فرعون کے سامنے پیش کیا جائے:۔
تابوت کو دریا کی موجوں کے حوالے کرنے تک کا کام تو سیدنا موسیٰؑ کی ماں نے سرانجام دیا۔ اس سے بعد کے سب کام اللہ تعالیٰ کے اپنے کارنامے اور سیدنا موسیٰؑ پر احسانات ہیں۔ دریا کی موجوں نے تابوت کو دریائے نیل کی اس شاخ کے رخ دھکیل دیا۔ جس پر فرعون کا محل واقع تھا۔ اس مقام پر ایک لہر اٹھی۔ جس نے اس تابوت کو ساحل پر فرعون کے محل کے پاس پھینک دیا۔ پھر اتفاق کی بات کہ یہ تابوت فرعون کے سامنے پیش کیا گیا جو اے موسیٰ! میرا بھی دشمن تھا اور تمہاری بھی دشمن تھا۔ تو میرا اس لحاظ سے کہ وہ میرا نافرمان تھا اور میرے مقابلہ پر اپنی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا اور تمہارا اس لئے کہ وہ تمہیں جان سے ہی ختم کر دینا چاہتا تھا۔ پھر میں نے تمہاری ایسی پیاری صورت بنا دی تھی کہ جو بھی تمہیں دیکھتا تمہیں پیار کرنے لگتا تھا اور اس کا دل تمہاری محبت سے بھر جاتا تھا۔ یہی بات تمہاری زندگی کا ذریعہ بن گئی اور یہ سب کچھ میری نگرانی میں اور میرے ارادہ سے ہو رہا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔