ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 34

وَّ نَذۡکُرَکَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۳۴﴾
اور تجھے بہت یاد کریں۔ En
اور تجھے کثرت سے یاد کریں
En
اور بکثرت تیری یاد کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 33 میں تا آیت 35 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یہ دعاؤں کی علت بیان کی کہ اس طرح ہم تبلیغ رسالت کے ساتھ ساتھ تیری تسبیح اور تیرا ذکر بھی زیادہ کرسکیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ اور خوب خوب تیرا [20] چرچا کریں۔
[20] سیدنا موسیٰؑ کے چار مطالبات:۔
اللہ کا یہ حکم سن کر آپ نے اپنی حالت کا جائزہ لیا اور چند معروضات پیش کر دیں۔ ایک یہ کہ مجھے اتنا حوصلہ عطا فرما کہ میں یہ کام سرانجام دے سکوں اور مجھے اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ دوسرے یہ کہ میری زبان سے لکنت دور کر دے۔ کہتے ہیں کہ بچپن میں آپ نے اپنی زبان پر آگ کا کوئلہ رکھ لیا تھا جس سے آپ کی زبان میں گرہ پڑ گئی تھی اور آپ ہکلا کر بات کرتے تھے۔ اس گرہ کو دور کر دینے کی آپ نے درخواست کی تاکہ میں وضاحت سے بات کر سکوں اور لوگ میری بات آسانی سے سمجھ سکیں اور تیسرے یہ کہ اس گرانار ذمہ داری کے کام کے لئے مجھے ایک مددگار بھی عطا فرما اور چوتھے یہ کہ اس کام کے لئے مناسب ترین آدمی میرا بھائی ہارون ہے۔ اس کو بھی نبوت عطا فرما اور میرے ہمراہ کر دے۔ وہ مجھ سے فصیح اللسان بھی ہے۔ پھر ایک ایک دو گیارہ والا معاملہ ہے۔ کم از کم ہم دونوں تو ایک دوسرے کے مونس و غمگسار ہوں گے۔ پھر ہم مل کر ہی تیری تسبیح و تقدیس اور ذکر بھی کرتے رہا کریں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔