(آیت 17){ وَمَاتِلْكَبِيَمِيْنِكَيٰمُوْسٰى:} اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں کیا ہے، بلکہ اس میں حکمت یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے عصا ہونے کا یقین ہو جائے، بعد میں سانپ بننے پر انھیں یہ شک پیدا نہ ہو کہ شاید میں نے کوئی اور چیز پکڑی ہوئی تھی۔ (واللہ اعلم) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے دل سے ہیبت دور کرنے اور مانوس کرنے کے لیے لاٹھی کے متعلق سوال فرمایا ہو، تا کہ انھیں اگلا حکم دیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اور اے موسیٰ! یہ تمہارے داہنے [13] ہاتھ میں کیا ہے؟
[13] اللہ کی موسیٰؑ سے ہم کلامی:۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے یہ سوال اس لئے نہیں کیا تھا کہ موسیٰؑ کو پتا نہ تھا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ بلکہ اس لئے کہا تھا کہ اسی لاٹھی کی ہیئت بدلنے والی تھی اور موسیٰؑ کو پہلے خود یہ یقین دلانا مقصود تھا کہ وہی تمہاری لکڑی کی لاٹھی اژدھا بن سکتی ہے جسے تم ہر وقت اپنے پاس رکھتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔