ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 16

فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنۡہَا مَنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرۡدٰی ﴿۱۶﴾
سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہو جائے گا۔ En
تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ دے تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ
En
پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16){فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا …:} اس آیت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ مفسر زمخشری کے الفاظ میں یہ ہے: جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ جم غفیر ہیں، کیونکہ کفار کے لیے قیامت کو تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل کوئی چیز نہیں، نہ ہی وہ اس سے زیادہ کسی چیز کا انکار کرتے ہیں۔ سو ایسا ہر گز نہ ہو کہ ان کی طرف سے آنے والے مصائب کی کثرت اور ان کی بہت بڑی تعداد تمھیں خوف زدہ کر دے اور ان کی کثرت تمھارے قدم پھسلنے کا باعث بن جائے۔ یاد رکھو کہ وہ جس قدر بھی تعداد میں زیادہ ہوں وہ صرف اور صرف اپنی خواہش نفس کے پیچھے چل رہے ہیں، کسی دلیل و برہان کے پیچھے نہیں اور اس میں بہت بڑی ترغیب ہے کہ دلیل کا علم اور اس کی پیروی لازم ہے اور تقلید سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تقلید اور اہل تقلید کا انجام ہلاکت ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دنیا پرست لوگوں، خصوصاً کفار کی مجلس اور ان سے نرمی اور مداہنت اختیار کرنے سے پرہیز لازم ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: نہ روک دے اس سے یعنی قیامت کے یقین لانے سے یا نماز سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کیا ہے؟ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 اس لئے کہ آخرت پر یقین کرنے سے یا اس کے ذکر و مراقبے سے گریز، دونوں ہی باتیں ہلاکت کا باعث ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ لہٰذا جو شخص قیامت پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا [12] ہوا ہے وہ تمہیں قیامت (کے ذکر) سے روک نہ دے ورنہ تم بھی ہلاک ہو جاؤ
[12] اور پانچویں یہ بات کہ جو شخص روز آخرت پر ایمان نہیں لاتا اور اس کا ذہن اللہ کے سامنے جوابدہی کے تصور سے خالی ہوتا ہے وہ اپنی خواہشات کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ دنیا کی دلچسپیوں اور دل فریبیوں میں ایسا مستغرق ہوتا ہے کہ اسے اللہ کبھی بھولے سے یاد نہیں آتا۔ لہٰذا تم ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے ساتھ تمہیں بھی لے ڈوبیں۔ یہ تھیں وہ بنیادی تعلیمات جو سیدنا موسیٰؑ کو نبوت کے آغاز میں ہی بتلا دی گئیں اور یہ پانچویں ہدایت بالخصوص اس لئے دی گئی کہ آپ ایک جابر، سرکش اور دنیا پرست حکمران کے پاس اللہ کا پیغام لے کر جانے والے تھے اور اس کام کے لئے ایسی استقامت اور ثابت قدمی کی ضرورت تھی جو اقامت دین کے لئے ضروری ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» ‏‏‏‏کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔
جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65]‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187]‏‏‏‏ قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ شخص، جو قیامت کا انکار کرتا ہے اور اس کے واقع ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت اور جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہ دے۔ وہ اس بارے میں شک کرتا ہے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس بارے میں باطل دلائل کے ذریعے سے بحث کرتا ہے، خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے، مقدور بھر قیامت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے، اس کا مقصد حق تک پہنچنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی بات پر کان دھرنے اور اس کے اقوال و افعال کو، جو قیامت پر ایمان لانے سے روکتے ہیں، قبول کرنے سے بچیے۔
جس شخص کا یہ حال ہے اس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جس کا دجل اور اس کی وسوسہ اندازی مومن کے لیے سب سے زیادہ ڈرنے کی چیز ہے اور نفوس انسانی کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ابنائے جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔ اس میں تنبیہ اور اشارہ ہے کہ ہر اس شخص سے بچا جائے جو باطل کی طرف دعوت دیتا ہے، ایمان واجب یا اس کی تکمیل سے روکتا ہے اور قلب میں شبہات پیدا کرتا ہے، نیز ان تمام کتابوں سے بچا جائے جو باطل نظریات پر مشتمل ہیں۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، آخرت پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ تینوں امور ایمان کی اساس اور دین کا ستون ہیں۔ اگر یہ امور کامل ہیں تو دین بھی کامل ہے اور ان امور کے فقدان یا ان کے ناقص رہنے سے دین بھی ناقص رہ جاتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جس میں ان گروہوں کی سعادت اور شقاوت کی میزان کے بارے میں خبر دی گئی ہے، جن کو کتاب عطا کی گئی تھی۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَادُوْا وَالصّٰؔبِـُٔوْنَ وَالنَّ٘صٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۰۰ (المائدۃ:5؍69) بے شک جو لوگ ایمان لائے یا یہودی ہوئے یا صابی یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل بھی کرے گا، ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ فَتَرْدٰى یعنی اگر آپ اس شخص کے راستے پر گامزن ہوئے جو مذکورہ امور سے روکتا ہے تو آپ ہلاک ہو کر بدبختی کا شکار ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فلا يصدُّك ويشغَلُك عن الإيمان بالساعة والجزاء والعمل لذلك مَنْ كان كافراً بها، غير معتقدٍ لوقوعها، يسعى في الشكِّ فيها والتشكيك، ويجادلُ فيها بالباطل، ويقيم من الشُّبه ما يقدر عليه؛ متبعاً في ذلك هواه، ليس قصدُهُ الوصول إلى الحق، وإنَّما قُصاراه اتِّباع هواه؛ فإيَّاك أن تصغي إلى مَنْ هذه حالُه أو تقبلَ شيئاً من أقواله وأعماله الصادَّة عن الإيمان بها والسعي لها سعيها. وإنَّما حذَّر الله تعالى عمَّن هذه حاله؛ لأنَّه من أخوف ما يكون على المؤمن بوسوسته وتدجيله وكون النفوس مجبولةً على التشبُّه والاقتداء بأبناء الجنس، وفي هذا تنبيهٌ وإشارةٌ إلى التحذير عن كلِّ داع إلى باطل، يصدُّ عن الإيمان الواجب أو عن كمالِهِ، أو يوقع الشبهةَ في القلب، وعن النظر في الكتب المشتملة على ذلك.

وذكر في هذا الإيمان به وعبادته والإيمان باليوم الآخر؛ لأن هذه الأمور الثلاثة أصولُ الإيمان وركنُ الدين، وإذا تمَّت؛ تمَّ أمر الدين، ونقصُه أو فقدُه بنقصِها أو نقص شيء منها. وهذه نظيرُ قوله تعالى في الإخبار عن ميزان سعادةِ الفِرَق الذين أوتوا الكتاب وشقاوتهم: {إنَّ الذين آمنوا والذين هادوا والصَّابئينَ والنَّصارى مَنْ آمنَ بالله واليوم الآخر وعَمِلَ صالحاً فلا خوفٌ عليهم ولا هم يَحْزَنونَ}. وقوله: {فتردى}؛ أي: تهلك وتشقى إنِ اتَّبعت طريق من يصدُّ عنها، وقولُه تعالى: