تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187] قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فلا يصدُّك ويشغَلُك عن الإيمان بالساعة والجزاء والعمل لذلك مَنْ كان كافراً بها، غير معتقدٍ لوقوعها، يسعى في الشكِّ فيها والتشكيك، ويجادلُ فيها بالباطل، ويقيم من الشُّبه ما يقدر عليه؛ متبعاً في ذلك هواه، ليس قصدُهُ الوصول إلى الحق، وإنَّما قُصاراه اتِّباع هواه؛ فإيَّاك أن تصغي إلى مَنْ هذه حالُه أو تقبلَ شيئاً من أقواله وأعماله الصادَّة عن الإيمان بها والسعي لها سعيها. وإنَّما حذَّر الله تعالى عمَّن هذه حاله؛ لأنَّه من أخوف ما يكون على المؤمن بوسوسته وتدجيله وكون النفوس مجبولةً على التشبُّه والاقتداء بأبناء الجنس، وفي هذا تنبيهٌ وإشارةٌ إلى التحذير عن كلِّ داع إلى باطل، يصدُّ عن الإيمان الواجب أو عن كمالِهِ، أو يوقع الشبهةَ في القلب، وعن النظر في الكتب المشتملة على ذلك.
وذكر في هذا الإيمان به وعبادته والإيمان باليوم الآخر؛ لأن هذه الأمور الثلاثة أصولُ الإيمان وركنُ الدين، وإذا تمَّت؛ تمَّ أمر الدين، ونقصُه أو فقدُه بنقصِها أو نقص شيء منها. وهذه نظيرُ قوله تعالى في الإخبار عن ميزان سعادةِ الفِرَق الذين أوتوا الكتاب وشقاوتهم: {إنَّ الذين آمنوا والذين هادوا والصَّابئينَ والنَّصارى مَنْ آمنَ بالله واليوم الآخر وعَمِلَ صالحاً فلا خوفٌ عليهم ولا هم يَحْزَنونَ}. وقوله: {فتردى}؛ أي: تهلك وتشقى إنِ اتَّبعت طريق من يصدُّ عنها، وقولُه تعالى: