فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنۡہَا مَنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرۡدٰی ﴿۱۶﴾
سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہو جائے گا۔
En
تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ دے تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ
En
پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 16){فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا …:} اس آیت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ مفسر زمخشری کے الفاظ میں یہ ہے: ”جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ جم غفیر ہیں، کیونکہ کفار کے لیے قیامت کو تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل کوئی چیز نہیں، نہ ہی وہ اس سے زیادہ کسی چیز کا انکار کرتے ہیں۔ سو ایسا ہر گز نہ ہو کہ ان کی طرف سے آنے والے مصائب کی کثرت اور ان کی بہت بڑی تعداد تمھیں خوف زدہ کر دے اور ان کی کثرت تمھارے قدم پھسلنے کا باعث بن جائے۔ یاد رکھو کہ وہ جس قدر بھی تعداد میں زیادہ ہوں وہ صرف اور صرف اپنی خواہش نفس کے پیچھے چل رہے ہیں، کسی دلیل و برہان کے پیچھے نہیں اور اس میں بہت بڑی ترغیب ہے کہ دلیل کا علم اور اس کی پیروی لازم ہے اور تقلید سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تقلید اور اہل تقلید کا انجام ہلاکت ہے۔“ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دنیا پرست لوگوں، خصوصاً کفار کی مجلس اور ان سے نرمی اور مداہنت اختیار کرنے سے پرہیز لازم ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نہ روک دے اس سے “ یعنی قیامت کے یقین لانے سے یا نماز سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کیا ہے؟“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 اس لئے کہ آخرت پر یقین کرنے سے یا اس کے ذکر و مراقبے سے گریز، دونوں ہی باتیں ہلاکت کا باعث ہیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ لہٰذا جو شخص قیامت پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا [12] ہوا ہے وہ تمہیں قیامت (کے ذکر) سے روک نہ دے ورنہ تم بھی ہلاک ہو جاؤ
[12] اور پانچویں یہ بات کہ جو شخص روز آخرت پر ایمان نہیں لاتا اور اس کا ذہن اللہ کے سامنے جوابدہی کے تصور سے خالی ہوتا ہے وہ اپنی خواہشات کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ دنیا کی دلچسپیوں اور دل فریبیوں میں ایسا مستغرق ہوتا ہے کہ اسے اللہ کبھی بھولے سے یاد نہیں آتا۔ لہٰذا تم ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے ساتھ تمہیں بھی لے ڈوبیں۔ یہ تھیں وہ بنیادی تعلیمات جو سیدنا موسیٰؑ کو نبوت کے آغاز میں ہی بتلا دی گئیں اور یہ پانچویں ہدایت بالخصوص اس لئے دی گئی کہ آپ ایک جابر، سرکش اور دنیا پرست حکمران کے پاس اللہ کا پیغام لے کر جانے والے تھے اور اس کام کے لئے ایسی استقامت اور ثابت قدمی کی ضرورت تھی جو اقامت دین کے لئے ضروری ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔
جیسے فرمان ہے «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187] قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔
جیسے فرمان ہے «قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187] قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔