ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 15

اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰی ﴿۱۵﴾
یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔ En
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے
En
قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ { اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ:} توحید، عبادت اور نماز کی تاکید کے بعد ایمان کے ایک اور بنیادی رکن قیامت کے یقینی ہونے کا ذکر فرمایا، تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کی جزا دی جائے۔ اس صورت میں { لِتُجْزٰى اٰتِيَةٌ } کے متعلق ہو گا۔ قیامت کا یقین ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے، ورنہ باز پرس اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین نہ ہو تو جائز و ناجائز کی تمیز کون کرتا ہے؟
➋ {اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى …: } یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ جس کام کے متعلق {كَادَ يَكَادُ} استعمال ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ واقع ہونے کے قریب ہے مگر واقع نہیں ہوا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۲۰): «{ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ (بجلی قریب ہے کہ ان کی نگاہوں کو اُچک لے) میں ہے۔ مفسرین نے اس کے بہت سے جواب دیے ہیں، مگر مجھے ابن جزی رحمہ اللہ کے جواب پر اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقت کو پوشیدہ رکھا ہے اور کسی کو نہیں بتایا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ قیامت کے واقع ہونے کو بھی چھپا کر رکھتا اور کسی کو اس کی خبر نہ دیتا، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے اسے پوشیدہ نہیں رکھا، بلکہ اس کے واقع ہونے کی بات سب کو بتا دی ہے، تاکہ لوگ بالکل غافل نہ رہیں۔ اس صورت میں {كَادَ} اور { أُخْفِيْ } دونوں اپنے اصل معنی پر رہتے ہیں کہ قریب تھا کہ قیامت کا واقع ہونا چھپا لیا جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ (التسہیل)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اسے ظاہر [11] کرنے ہی والا ہوں تاکہ ہر شخص اپنی کوشش کا بدلہ پائے۔
[11] خفی کا لغوی مفہوم:۔
اخفها خفی کا معروف معنی چھپنا اور پوشیدہ ہونا ہے اور اخفی کا معنی چھپانا۔ اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہو گا۔ ”میں اسے چھپائے ہوئے ہوں“ پھر یہ لفظ لغت ذوی الاضداد سے بھی ہے۔ جس کا معنی ہے ظاہر کر دینا، کہتے ہیں خفی المظر القارۃ، یعنی بارش نے چوہے کو بل سے نکال کر ظاہر کر دیا یا بے نقاب گویا ہم نے دوسرے معنی کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ اس سے مطلب زیادہ واضح ہوتا ہے۔ گویا جو آواز اس میدان میں آرہی تھی وہ اللہ کی طرف سے وحی ہو رہی تھی اور قرآن کی صراحت کے مطابق اللہ کا بندے سے ہم کلام ہونا بھی وحی ہی کی تین قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ آپ گئے تو تھے آگ لینے کو اور اللہ کی مہربانی یہ ہوئی کہ آپ کو پیغمبری عطا ہو گئی اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ سیدنا موسیٰؑ کو خود بھی پہلے علم نہ تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہونے والی ہے اور اس وحی میں آپ کو سب سے پہلے دین کی نہایت اہم اور بنیادی باتیں بتلائی گئیں۔
اسلام کی بنیادی تعلیمات:۔
پہلی یہ کہ اللہ ہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔ یہ کائنات از خود ہی وجود میں نہیں آ گئی۔ دوسری یہ کہ اس کائنات کی تخلیق و تملیک میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں۔ تیسری یہ کہ اس باتوں کے نتیجہ میں عبادت کا وہ اکیلا ہی مستحق ہے اور نماز اللہ سے تعلق قائم رکھنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد رکھنے کے لئے نماز قائم کرنا ضروری ہے۔ اس سے کبھی غفلت نہ کرنا چاہئے اور اگر بھول جائے تو جب یاد آئے نماز ادا کرنا ضروری ہے اور چوتھی یہ ہے کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے اور جلد ہی آنے والی ہے۔ تاہم اس کا معین وقت بتلانا خلاف مصلحت ہے اور قیامت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے۔ یہ وہ اصول دین ہیں جو سیدنا آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزمان تک تمام انبیاء و رسل کو وحی کئے جاتے رہے اور ان میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» ‏‏‏‏کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔
جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65]‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187]‏‏‏‏ قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔
ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔
پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔