فَوَسۡوَسَ اِلَیۡہِ الشَّیۡطٰنُ قَالَ یٰۤـاٰدَمُ ہَلۡ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الۡخُلۡدِ وَ مُلۡکٍ لَّا یَبۡلٰی ﴿۱۲۰﴾
پس شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا، کہنے لگا اے آدم ! کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور ایسی بادشاہی بتاؤں جو پرانی نہ ہو؟
En
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
En
لیکن شیطان نے اسے وسوسہ ڈاﻻ، کہنے لگا کہ میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 121،120) ➊ { فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ …:} قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھسلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے اور بعض میں آدم و حوا دونوں کی طرف۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم علیہ السلام ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے، حوا علیھا السلام کا ذکر ان کے تابع ہونے کی حیثیت سے ہے، لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا علیھا السلام کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے سے آدم علیہ السلام کو قابو کیا، وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ دونوں آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۲۰، ۲۱)۔
➋ {وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى …:} آدم علیہ السلام کا واقعہ نہایت عجیب ہے کہ اتنا عظیم شخص، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، فرشتوں سے اس کو سجدہ کروایا، کمال عقل بخشی، اپنی جنت میں ہر نعمت عطا فرمائی، اسے صاف لفظوں میں شیطان کی دشمنی سے آگاہ کر دیا اور دشمن کی بات ماننے پر جنت سے نکلنے کی تنبیہ بھی فرما دی، اتنے عظیم شخص کو اس کے اتنے مہربان پروردگار نے صرف ایک چیز سے منع فرمایا، مگر وہ اپنے رب کی اتنی عنایتوں اور شیطان کی واضح دشمنی کے علم کے باوجود اس کے ورغلانے سے اپنے رب کی حکم عدولی کیسے کر گزرا؟ جو شخص بھی اس واقعہ میں غور و فکر کرے گا اس کا تعجب بڑھتا ہی جائے گا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اللہ کی تقدیر کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہٹا سکتا ہے اور یہ کہ دلیل جتنی بھی واضح اور مضبوط ہو اس سے تبھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو اور اسے مقدر فرمایا ہو۔ (رازی) صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں موسیٰ علیہ السلام کے آدم علیہ السلام سے سوال اور ان کے جواب سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس حدیث سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ گناہ جب اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ہمارا کیا قصور ہے اور ہمیں ملامت کیوں کی جاتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے توبہ قبول ہونے اور گناہ معاف ہونے کے بعد یہ جواب دیا ہے، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جب ان سے پوچھا: «{ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ }» [الأعراف: ۲۲] کہ کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا تو انھوں نے نہ تقدیر کا بہانہ بنایا اور نہ اپنا قصور اللہ تعالیٰ کے ذمے لگایا، بلکہ صاف تسلیم کیا: «{ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [الأعراف: ۲۳] ”اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔“ اس کے برعکس ابلیس نے اپنا گناہ ماننے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا: «{ قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ }» [الأعراف: ۱۶] ”اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔“ گناہ کی معافی کے بغیر تقدیر کا عذر غلط ہے۔ ایک اور جواب جو اس سے بھی قوی ہے، یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ نے نافرمانی کیوں کی تھی؟ بلکہ انھوں نے انھیں اپنی اولاد کو جنت سے نکالنے اور مصیبت میں ڈالنے پر ملامت کی تھی، حالانکہ مصیبت پر ملامت نہیں کی جاتی، خواہ وہ کسی غلطی کی وجہ سے آئی ہو، بلکہ تسلی دی جاتی ہے، مثلاً اگر کسی کی غلطی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے تو اسے غلطی پر ملامت کے بجائے مصیبت میں تعزیت کی جاتی ہے کہ اللہ کی تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا، اس لیے غم مت کرو۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِحْتَجَّ آدَمُ وَ مُوْسٰی، فَقَالَ مُوْسَی يَا آدَمُ! أَنْتَ أَبُوْنَا، أَنْتَ خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوْسَی، اصْطَفَاكَ اللّٰهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُوْمُنِیْ عَلٰی أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللّٰهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِيْ بِأَرْبَعِيْنَ سَنَةً؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی، فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی] ”آدم اور موسیٰ علیھما السلام کی بحث ہو گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، تم ہمارے باپ ہو، تم نے ہمیں نامراد کر دیا اور ہمیں جنت سے نکال دیا۔ “ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ”اے موسیٰ! اللہ عز وجل نے تمھیں اپنے کلام کے لیے چنا اور تمھارے لیے اپنے ہاتھ سے (کتاب) لکھی۔ اے موسیٰ! کیا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مجھ پر طے کر دیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے، تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے۔“ [مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسٰی صلی اللہ علیہما وسلم: ۲۶۵۲]
➋ {وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى …:} آدم علیہ السلام کا واقعہ نہایت عجیب ہے کہ اتنا عظیم شخص، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، فرشتوں سے اس کو سجدہ کروایا، کمال عقل بخشی، اپنی جنت میں ہر نعمت عطا فرمائی، اسے صاف لفظوں میں شیطان کی دشمنی سے آگاہ کر دیا اور دشمن کی بات ماننے پر جنت سے نکلنے کی تنبیہ بھی فرما دی، اتنے عظیم شخص کو اس کے اتنے مہربان پروردگار نے صرف ایک چیز سے منع فرمایا، مگر وہ اپنے رب کی اتنی عنایتوں اور شیطان کی واضح دشمنی کے علم کے باوجود اس کے ورغلانے سے اپنے رب کی حکم عدولی کیسے کر گزرا؟ جو شخص بھی اس واقعہ میں غور و فکر کرے گا اس کا تعجب بڑھتا ہی جائے گا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اللہ کی تقدیر کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہٹا سکتا ہے اور یہ کہ دلیل جتنی بھی واضح اور مضبوط ہو اس سے تبھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو اور اسے مقدر فرمایا ہو۔ (رازی) صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں موسیٰ علیہ السلام کے آدم علیہ السلام سے سوال اور ان کے جواب سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس حدیث سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ گناہ جب اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ہمارا کیا قصور ہے اور ہمیں ملامت کیوں کی جاتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے توبہ قبول ہونے اور گناہ معاف ہونے کے بعد یہ جواب دیا ہے، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جب ان سے پوچھا: «{ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ }» [الأعراف: ۲۲] کہ کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا تو انھوں نے نہ تقدیر کا بہانہ بنایا اور نہ اپنا قصور اللہ تعالیٰ کے ذمے لگایا، بلکہ صاف تسلیم کیا: «{ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [الأعراف: ۲۳] ”اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔“ اس کے برعکس ابلیس نے اپنا گناہ ماننے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا: «{ قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ }» [الأعراف: ۱۶] ”اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔“ گناہ کی معافی کے بغیر تقدیر کا عذر غلط ہے۔ ایک اور جواب جو اس سے بھی قوی ہے، یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ نے نافرمانی کیوں کی تھی؟ بلکہ انھوں نے انھیں اپنی اولاد کو جنت سے نکالنے اور مصیبت میں ڈالنے پر ملامت کی تھی، حالانکہ مصیبت پر ملامت نہیں کی جاتی، خواہ وہ کسی غلطی کی وجہ سے آئی ہو، بلکہ تسلی دی جاتی ہے، مثلاً اگر کسی کی غلطی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے تو اسے غلطی پر ملامت کے بجائے مصیبت میں تعزیت کی جاتی ہے کہ اللہ کی تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا، اس لیے غم مت کرو۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِحْتَجَّ آدَمُ وَ مُوْسٰی، فَقَالَ مُوْسَی يَا آدَمُ! أَنْتَ أَبُوْنَا، أَنْتَ خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوْسَی، اصْطَفَاكَ اللّٰهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُوْمُنِیْ عَلٰی أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللّٰهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِيْ بِأَرْبَعِيْنَ سَنَةً؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی، فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی] ”آدم اور موسیٰ علیھما السلام کی بحث ہو گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، تم ہمارے باپ ہو، تم نے ہمیں نامراد کر دیا اور ہمیں جنت سے نکال دیا۔ “ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ”اے موسیٰ! اللہ عز وجل نے تمھیں اپنے کلام کے لیے چنا اور تمھارے لیے اپنے ہاتھ سے (کتاب) لکھی۔ اے موسیٰ! کیا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مجھ پر طے کر دیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے، تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے۔“ [مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسٰی صلی اللہ علیہما وسلم: ۲۶۵۲]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
120۔ پھر شیطان نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا: ”آدم! میں تمہیں وہ درخت نہ بتاؤں جس سے ابدی زندگی اور لازوال [86] سلطنت حاصل ہوتی ہے۔“
[86] کیا شیطان نے پہلے حوا کو بہکایا تھا؟ شیطان آدمؑ کا بڑا ہوشیار اور مکار دشمن تھا اس نے وسوسہ ہی ایسا دلفریب ڈالا جس نے آدم کے دل کو موہ لیا۔ علاوہ ازیں مدت مدید گزرنے کی وجہ سے سیدنا آدمؑ اپنے پروردگار سے کیا ہوا وعدہ بھول ہی چکے تھے۔ شیطان نے پٹی یہ پڑھائی کہ اگر تم اس درخت کا پھل چکھ لو گے۔ تو اس جنت میں ہمیشہ کے لئے مقیم ہو جاؤ گے اور تمہیں ابدی زندگی حاصل ہو جائے گی اور جنت کی نعمتوں پر تمہارا تصرف و اختیار قائم و دائم رہے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقام پر شیطانی وسوسہ کی نسبت صرف سیدنا آدمؑ کی طرف کی گئی ہے اور ایک دوسرے مقام پر دونوں کی طرف کی ہے۔ اس لئے کہ اس معاملہ میں حوا کی حیثیت صرف بالتبع تھی۔ لیکن بائبل کی روایت یوں ہے کہ شیطان نے پہلے سیدہ حوا کو بہکایا۔ پھر حوا نے سیدنا آدمؑ کو پھل کھانے پر آمادہ کر لیا۔ بائبل کی اس روایت کو بعض مفسرین نے بھی نقل کر دیا۔ جب کہ یہ روایت قرآن کی اس آیت کے مطابق غلط قرار پاتی ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614]
اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔