اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ؕ۱۲﴾
بے شک میں ہی تیرا رب ہوں، سو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے، بے شک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔
En
میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دو۔ تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طویٰ میں ہو
En
یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) ➊ { فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ:} غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا: [خَالِفُوا الْيَهُوْدَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّوْنَ فِيْ نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۲، و صححہ الألباني] ”یہودیوں کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔“ اگر دوسری حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کی رو سے جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض تھا۔ وہ حدیث یہ ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۳] ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتا پہن کر (دونوں طرح) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“
➋ { اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”طویٰ اس وادی کا نام ہے۔“ [طبري بسند حسن] یہ الفاظ دلیل ہیں کہ اس وقت موسیٰ علیہ السلام کے جوتے ناپاک تھے، اگر وہ پاک ہوتے تو اس وادی کو پاک بتا کر جوتے اتارنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ؟ قَالُوْا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِيْهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًی، وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْيَنْطُرْ فإِنْ رَأَی فِيْ نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيْهِمَا] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۰، و صححہ الألباني] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے، دوران نماز آپ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنی بائیں طرف رکھ دیے۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ نے اپنی نماز پوری کی تو فرمایا: ”تمھارے جوتے اتارنے کا باعث کیا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ لے، پھر اگر اپنے جوتوں میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے مل کر صاف کر لے اور انھیں پہن کر نماز پڑھ لے۔“
یہ حدیث دلیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو جوتے اتارنے کے حکم کی وجہ وادی کا پاک ہونا اور جوتوں کا ناپاک ہونا تھا۔ یہ وجہ نہ تھی کہ کسی مقدس جگہ میں جوتے پہن کر جانا منع ہے، کیونکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مسجد پاک ترین جگہ ہے اور اسے پاک رکھنے کا حکم بھی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۵) اور سورۂ حج (۲۶) اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے: [أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب اتخاذ المساجد فی الدور: ۴۵۵۔ ترمذی: ۵۹۴۔ ابن ماجہ: ۷۵۸، صحیح] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ انھیں صاف ستھرا رکھا جائے اور خوشبو دار بنایا جائے۔“ جوتے پاک ہوں تو مسجد میں جا سکتے ہیں تو کسی اور جگہ کیوں نہیں جا سکتے؟ بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے، اس لیے انھیں اتارنے کا حکم ہوا، مگر یہ روایات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے جوتوں میں کیا چیز تھی جو وادی مقدس کے لائق نہ تھی، کیونکہ پاک جوتے جب مسجد نبوی میں پہنے جا سکتے ہیں تو تین مسجدوں سے زیادہ مقدس جگہ کون سی ہوگی؟
➌ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے تھے اور نہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ورنہ جبریل علیہ السلام کو جوتوں میں نجاست کی اطلاع کے لیے دوران نماز آپ کے پاس آنے کی ضرورت نہ تھی اور اگر موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے ہوتے تو نہ راستہ بھولتے اور نہ آگ کو عام آگ سمجھتے، نہ اللہ تعالیٰ کو وادی مقدس کا بتا کر انھیں جوتے اتارنے کا حکم دینا پڑتا اور نہ یہ کہہ کر تعارف کروانا پڑتا کہ میں تیرا رب تجھ سے مخاطب ہوں اور نہ اس کے بعد جبریل علیہ السلام کو بار بار آ کر وحی پہنچانا پڑتی۔ مگر افسوس کہ ولیوں اور نبیوں کو غیب دان کہنے والے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔
➍ اوپر کی حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتے پاک کرنے کے لیے کپڑے کو پاک کرنے کی طرح دھونا ضروری نہیں، بلکہ صرف مٹی سے مل کر صاف کر دینا کافی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث ہر اس بہانے کا جواب ہے جو جوتوں سمیت نماز سے روکنے والے کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ یہ سفر کے لیے ہے، یا یہ کسی میدان وغیرہ میں نماز کے لیے ہے مسجد کے لیے نہیں، یا یہ کہ جوتا نیا ہو تو جائز ہے، یا یہ کہ دھویا ہوا ہو تو ٹھیک ہے، یا یہ کہ جوتا پہننا اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے ادب کے خلاف ہے وغیرہ، ان تمام باتوں کا جواب اسی حدیث پر غور کر نے سے مل جاتا ہے۔
➎ جیسا کہ اوپر گزرا جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض نہیں مستحب ہے۔ اس لیے اگر لا علم لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خوف ہو تو جوتوں سمیت نماز پڑھنے سے پہلے انھیں اچھی طرح سمجھانا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ متنفر ہو کر نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔
➋ { اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”طویٰ اس وادی کا نام ہے۔“ [طبري بسند حسن] یہ الفاظ دلیل ہیں کہ اس وقت موسیٰ علیہ السلام کے جوتے ناپاک تھے، اگر وہ پاک ہوتے تو اس وادی کو پاک بتا کر جوتے اتارنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ؟ قَالُوْا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِيْهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًی، وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْيَنْطُرْ فإِنْ رَأَی فِيْ نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيْهِمَا] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۰، و صححہ الألباني] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے، دوران نماز آپ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنی بائیں طرف رکھ دیے۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ نے اپنی نماز پوری کی تو فرمایا: ”تمھارے جوتے اتارنے کا باعث کیا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ لے، پھر اگر اپنے جوتوں میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے مل کر صاف کر لے اور انھیں پہن کر نماز پڑھ لے۔“
یہ حدیث دلیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو جوتے اتارنے کے حکم کی وجہ وادی کا پاک ہونا اور جوتوں کا ناپاک ہونا تھا۔ یہ وجہ نہ تھی کہ کسی مقدس جگہ میں جوتے پہن کر جانا منع ہے، کیونکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مسجد پاک ترین جگہ ہے اور اسے پاک رکھنے کا حکم بھی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۵) اور سورۂ حج (۲۶) اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے: [أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب اتخاذ المساجد فی الدور: ۴۵۵۔ ترمذی: ۵۹۴۔ ابن ماجہ: ۷۵۸، صحیح] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ انھیں صاف ستھرا رکھا جائے اور خوشبو دار بنایا جائے۔“ جوتے پاک ہوں تو مسجد میں جا سکتے ہیں تو کسی اور جگہ کیوں نہیں جا سکتے؟ بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے، اس لیے انھیں اتارنے کا حکم ہوا، مگر یہ روایات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے جوتوں میں کیا چیز تھی جو وادی مقدس کے لائق نہ تھی، کیونکہ پاک جوتے جب مسجد نبوی میں پہنے جا سکتے ہیں تو تین مسجدوں سے زیادہ مقدس جگہ کون سی ہوگی؟
➌ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے تھے اور نہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ورنہ جبریل علیہ السلام کو جوتوں میں نجاست کی اطلاع کے لیے دوران نماز آپ کے پاس آنے کی ضرورت نہ تھی اور اگر موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے ہوتے تو نہ راستہ بھولتے اور نہ آگ کو عام آگ سمجھتے، نہ اللہ تعالیٰ کو وادی مقدس کا بتا کر انھیں جوتے اتارنے کا حکم دینا پڑتا اور نہ یہ کہہ کر تعارف کروانا پڑتا کہ میں تیرا رب تجھ سے مخاطب ہوں اور نہ اس کے بعد جبریل علیہ السلام کو بار بار آ کر وحی پہنچانا پڑتی۔ مگر افسوس کہ ولیوں اور نبیوں کو غیب دان کہنے والے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔
➍ اوپر کی حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتے پاک کرنے کے لیے کپڑے کو پاک کرنے کی طرح دھونا ضروری نہیں، بلکہ صرف مٹی سے مل کر صاف کر دینا کافی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث ہر اس بہانے کا جواب ہے جو جوتوں سمیت نماز سے روکنے والے کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ یہ سفر کے لیے ہے، یا یہ کسی میدان وغیرہ میں نماز کے لیے ہے مسجد کے لیے نہیں، یا یہ کہ جوتا نیا ہو تو جائز ہے، یا یہ کہ دھویا ہوا ہو تو ٹھیک ہے، یا یہ کہ جوتا پہننا اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے ادب کے خلاف ہے وغیرہ، ان تمام باتوں کا جواب اسی حدیث پر غور کر نے سے مل جاتا ہے۔
➎ جیسا کہ اوپر گزرا جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض نہیں مستحب ہے۔ اس لیے اگر لا علم لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خوف ہو تو جوتوں سمیت نماز پڑھنے سے پہلے انھیں اچھی طرح سمجھانا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ متنفر ہو کر نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 جوتیاں اتارنے کا حکم اس لئے دیا کہ اس میں تواضع کا اظہار اور شرف و تکریم کا پہلو زیادہ اور وادی کی پاکیزگی اس کا سبب تھا، جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔ تاہم اس کے دو پہلو ہیں۔ یہ حکم وادی کی تعظیم کے لئے تھا یا اس لئے کہ وادی کی پاکیزگی کے اثرات ننگے پیر ہونے کی صورت میں موسیٰ ؑ کے اندر زیادہ جذب ہو سکیں۔ واللہ اعلم۔ 12۔ 2 طُوَی وادی کا نام ہے، اسے بعض نے منصرف اور بعض نے غیر منصرف کہا ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ میں تمہارا پروردگار ہوں۔ اس وقت تم طویٰ کے مقدس میدان میں ہو۔ لہذا جوتے اتار لو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭
جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [28-القصص:30] ’ اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ ‘
یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔
طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ۱؎ [79-النازعات:16]
میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔
کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔
یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔
جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597]
بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}
یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔
طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ۱؎ [79-النازعات:16]
میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔
کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔
یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔
جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597]
بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}