ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 100

مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡہُ فَاِنَّہٗ یَحۡمِلُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وِزۡرًا ﴿۱۰۰﴾ۙ
جو اس سے منہ پھیرے گا تو یقینا وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ En
جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اُٹھائے گا
En
اس سے جو منھ پھیر لے گا وه یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ ﻻدے ہوئے ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101،100){ مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ …:} منہ پھیرنے سے مراد اس نصیحت پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے۔ { وِزْرًا } پر تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، بڑا بوجھ، بھاری بوجھ۔ { حِمْلًا } بمعنی {مَحْمُوْلٌ} ہے، جیسے {ذِبْحٌ} بمعنی {مَذْبُوْحٌ} ہے، اٹھایا ہوا (بوجھ)۔ { سَآءَ } فعل ذم ہے، جس کا فاعل ضمیر مبہم {هُوَ} ہے اور جس کے ابہام کی توضیح { حِمْلًا } تمیز کے ساتھ کی گئی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی اس پر ایمان نہیں لائے گا اور اس میں جو کچھ درج ہے، اس پر عمل نہیں کرے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

100۔ جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت کے دن گناہ کا بوجھ [70] اٹھائے ہوئے ہو گا۔
[70] وزر بمعنی گناہ کا بوجھ یا پاپ کے گٹھری۔ اب جو شخص عمر بھر نہ قرآن کے نزدیک آئے، نہ اس کی کوئی ہدایت ماننے کو تیار ہو تو لامحالہ اس کی زندگی شتر بے مہار کی طرح ہو گی جو اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں پر مشتمل ہو گی۔ لہٰذا اسے اپنے اعمال کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دنیا میں تو ایسے بوجھ کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہاں اس بوجھ کو مادی شکل دے دی جائے گی اور وہ اس بوجھ تلے پس رہا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب سے اعلی کتاب ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا، ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت و حمد والے ہیں۔ کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ بابرکت نہیں ملی۔ ہرطرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔
اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا۔ اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے، وہ جہنمی ہے، کتابی ہو یا غیر کتابی، عجمی ہو یا عربی، اس کا منکر جہنمی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے۔ پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت و شقاوت والا۔ جو یہاں برباد ہوا، وہ وہاں دوزخی بنا۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چھٹکارا حاصل ہو، نہ بچ سکے، برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا۔