(آیت 82) {وَالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …:} کفر پر وعید کے بعد ایمان اور عمل صالح پر بشارت ہے اور یہ قرآن کا عام اسلوب ہے کہ بشارت و نذارت دونوں اکٹھی ذکر ہوتی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 یہ یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے جنت یا جہنم کا اصول بیان کیا جا رہا ہے، جس کے نامہء اعمال میں برائیاں ہی برائیاں ہونگی، یعنی کفر اور شرک، اور جو مومن گنہگار ہونگے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا وہ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما کر بطور سزا کچھ عرصہ جہنم میں رکھنے کے بعد یا نبی کی شفاعت سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا جیسا کہ یہ باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہی لوگ جنت کے مستحق ہیں جس میں [95] وہ ہمیشہ رہیں گے
[95] یہاں اہل ایمان کا اور جنت کا ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ قرآن کا انداز ہی یہ ہے کہ دوزخ کے ساتھ جنت کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جہنمی کون؟ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال سراسر بد ہیں جو نیکیوں سے خالی ہے وہ جہنمی ہے اور جو شخص اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور سنت کے مطابق عمل کرے وہ جنتی ہے۔ جیسے ایک جگہ فرمایا «لَّيْسَبِأَمَانِيِّكُمْوَلَاأَمَانِيِّأَهْلِالْكِتَابِمَنيَعْمَلْسُوءًايُجْزَبِهِوَلَايَجِدْلَهُمِندُونِاللَّـهِوَلِيًّاوَلَانَصِيرًا»۱؎[4۔ النسآء: 123] یعنی ’ نہ تو تمہارے منصوبے چل سکیں گے اور نہ اہل کتاب کے۔ ہر برائی کرنے والا اپنی برائی کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر بھلائی کرنے والا ثواب پائے گا اپنی نیکو کاری کا اجر پائے گا مگر برے کا کوئی مددگار نہ ہو گا ‘۔ کسی مرد کا، عورت کا، بھلے آدمی کا کوئی عمل برباد نہ ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں برائی سے مطلب کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مراد شرک ہے۔ ۱؎[تفسیر ابن ابی حاتم:252/1:ضعیف] ابووائل ابوالعالیہ، مجاہد، عکرمہ، حسن، قتادہ، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے یہی مروی ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد کبیرہ گناہ ہیں جو تہ بہ تہ ہو کر دل کو گندہ کر دیں۔ ۱؎[تفسیر ابن ابی حاتم:153/2] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں مراد شرک ہے جس کے دل پر بھی قابض ہو جائے۔ ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کا قول ہے جو گناہوں پر ہی مرے اور توبہ نصیب نہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہوں کو حقیر نہ سمجھا کرو وہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں دیکھتے نہیں ہو کہ اگر کئی آدمی ایک ایک لکڑی لے کر آئیں تو انبار لگ جاتا ہے پھر اگر اس میں آگ لگائی جائے تو بڑی بڑی چیزوں کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ ۱؎[مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ] پھر ایمانداروں کا حال بیان فرمایا کہ جو تم جیسا عمل نہیں کرتے بلکہ تمہارے کفر کے مقابلہ میں ان کا ایمان پختہ ہے تمہاری بد اعمالیوں کے مقابلہ میں ان کے پاکیزہ اعمال مستحکم ہیں انہیں ابدی راحتیں اور ہمیشہ کی مسکن جنتیں ملیں گی۔اور اللہ کے عذاب و ثواب دونوں لازوال ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔