تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً:} یہاں { ”اَوْ“ } شک کے لیے نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کیا شک ہو سکتا ہے، بلکہ { ”بَلْ“ } کے معنی میں ہے، یعنی وہ پتھر کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ { ”قَسْوَةٌ“ } سے اسم تفضیل {” اَقْسَي“} آتا ہے، مگر مزید سختی کے اظہار کے لیے { ”اَشَدُّ قَسْوَةً“ } فرمایا، ترجمہ میں اس کا خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے نافرمان لوگوں کے دلوں کی سختی کو پتھروں کی سختی سے تشبیہ دینے کے بعد پتھروں کا شکوہ دور فرمایا کہ پروردگارا! ہم سخت ہی سہی، مگر اتنے بھی سخت نہیں کہ ان ظالموں کو ہم سے تشبیہ دی جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی نرمی کے بیان کے لیے ان کی تین قسمیں بیان فرمائیں۔
➌ ”اللہ کے ڈر سے“ اس کا تعلق پتھروں کی تینوں قسموں سے ہے۔ معلوم ہوا کہ پتھروں سے نہروں کا پھوٹ نکلنا، ان کا پھٹ جانا اور ان سے پانی کا نکلنا اور ان کا گر پڑنا اللہ کے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ پتھر تو بے جان چیز ہیں، وہ کیسے ڈرتے ہیں، تو جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل والی مخلوقات کے علاوہ ان میں بھی ایک شعور اور فہم رکھا ہے، جس کی حقیقت وہی جانتا ہے، اگر فلسفے کا مارا ہوا کوئی شخص انکار کرے تو کرے، اہل السنہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ }» [بنی إسرائیل: ۴۴] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ “ اور فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ}» [النور: ۴۱] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقینًا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔“ اور فرمایا: «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَ كَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ» [الحج: ۱۸] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بے شک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ }» [الأحزاب: ۷۲] ”بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔“ اور فرمایا: «{ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ }» [الحشر: ۲۱]”اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینًا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔ “ اور فرمایا: «{ اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَ الشَّمَآىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ }» [النحل: ۴۸] ”اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ }» [حٰمٓ السجدۃ: ۲۱] ”اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔“ اسی طرح صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [بخاری،: ۷۳۳۳] اور آپ نے فرمایا: ”میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھے بعثت سے قبل سلام کہا کرتا تھا۔“ [أحمد: 89/5، ح: ۲۰۸۶۹۔ مسلم: ۲۲۷۷] اسی طرح کھجور کے تنے کا بآواز بلند رونے کا واقعہ ہے۔ [صحیح ابن حبان: ۶۵۰۷] اتنے واضح دلائل کے بعد انکار صاف گمراہی ہے، ہم پر قرآن کے الفاظ حجت ہیں اور ان کے ظاہر معنی کی پیروی فرض ہے۔
➍ { ”بِغَافِلٍ“ } میں باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”ہرگز“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس مقتول کے بھتیجے نے اپنے چچا کے دوبارہ زندہ ہونے اور بیان دینے کے بعد جب مر گیا تو کہا کہ اس نے جھوٹ کہا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:234/2] اور پھر کچھ وقت گزر جانے کے بعد بنی اسرائیل کے دل پھر پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے کیونکہ پتھروں سے تو نہریں نکلتی اور بہنے لگتی ہیں بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں ان سے چاہے وہ بہنے کے قابل نہ ہوں بعض پتھر خوف اللہ سے گر پڑتے ہیں لیکن ان کے دل کسی وعظ و نصیحت سے کسی پند و موعظت سے نرم ہی نہیں ہوتے۔
یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پتھروں میں ادراک اور سمجھ ہے اور جگہ ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا» ۱؎ [17۔ الاسرآء: 44] یعنی ’ ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان کی تمام مخلوق اور ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ حلم و بردباری والا اور بخشش و عفو والا ہے ‘۔
ابوعلی جیانی نے پتھر کے خوف سے گر پڑنے کی تاویل اولوں کے برسنے سے کی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں رازی رحمہ اللہ بھی غیر درست بتلاتے ہیں اور فی الواقع یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ اس میں لفظی معنی بے دلیل کو چھوڑنا لازم آیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
نہریں بہہ نکلنا زیادہ رونا ہے۔ پھٹ جانا اور پانی کا نکلنا اس سے کم رونا ہے گر پڑنا دل سے ڈرنا ہے، بعض کہتے ہیں یہ مجازاً کہا گیا جیسے اور جگہ ہے «يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ» ۱؎ [18-الكهف:77] یعنی ’ دیوار گر پڑنا چاہ رہی تھی ‘۔ ظاہر ہے کہ یہ مجاز ہے۔ حقیقتاً دیوار کا اردہ ہی نہیں ہوتا۔
اور جگہ ہے کہ پہاڑ بھی قرآن سے متاثر ہو کر ڈر کے مارے پھٹ پھٹ جاتے اور جگہ فرمان ہے «وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» ۱؎ [41-سورة فصلت-21] یعنی ’ گناہ گار لوگ اپنے جسموں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم سے اس اللہ نے بات کرائی جو ہر چیز کو بولنے کی طاقت عطا فرماتا ہے ‘۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ { جس کھجور کے تنے پر ٹیک لگا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ پڑھا کرتے تھے جب منبر بنا اور وہ تنا ہٹا دیا گیا تو وہ تنا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:918] صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2277] { حجر اسود کے بارے میں ہے کہ جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہو گا یہ اس کے ایمان کی گواہی قیامت والے دن دے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:961، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور اس طرح کی بہت سی آیات اور حدیثیں ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں میں ادراک و حس ہے اور یہ تمام باتیں حقیقت پر محمول ہیں نہ کہ مجاز پر۔
آیت میں لفظ «او» جو ہے اس کی بابت قرطبی اور رازی رحمہ اللہ علیہما تو کہتے ہیں کہ یہ تخییر کے لیے ہے یعنی ان کے دلوں کو خواہ جیسے پتھر سمجھ لو یا اس سے بھی زیادہ سخت۔
رازی رحمہ اللہ نے ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ ابہام کے لیے ہے گویا مخاطب کے سامنے باوجود ایک بات کا پختہ علم ہونے کے دو چیزیں بطور ابہام پیش کی جا رہی ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ مطلب یہ ہے کہ بعض دل پتھر جیسے اور بعض اس سے زیادہ سخت ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس لفظ کے جو معنی یہاں پر ہیں وہ بھی سن لیجئے اس پر تو اجماع ہے کہ آؤ شک کے لیے نہیں یا تو یہ معنی میں واو کے ہے یعنی ان کے دل پتھر جیسے اور اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے جیسے «وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا» ۱؎ [76۔ الانسان: 24] میں اور «عُذْرًا أَوْ نُذْرًا» ۱؎ [المرسلات: ٦] میں شاعروں کے اشعار میں اور واؤ کے معنی میں جمع کے لیے آیا ہے یا او یہاں پر معنی میں بل یعنی بلکہ کے ہے جیسے «كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4۔ النسآء: 77] میں اور «وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ» ۱؎ [37۔ الصافات: 147] میں اور «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53۔ النجم: 9] میں بعض کا قول ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وہ پتھر جیسے ہیں یا سختی میں تمہارے نزدیک اس سے بھی زیادہ بعض کہتے ہیں صرف مخاطب پر ابہام ڈالا گیا ہے اور یہ شاعروں کے شعروں میں بھی پایا جاتا ہے کہ باوجود پختہ علم و یقین کے صرف مخاطب پر ابہام ڈالنے کے لیے ایسا کلام کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34۔ سبأ: 24] یعنی ’ ہم یا تم صاف ہدایت یا کھلی گمراہی پر ہیں ‘۔ تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کا ہدایت پر ہونا اور کفار کا گمراہی پر ہونا یقینی چیز ہے لیکن مخاطب کے ابہام کے لیے اس کے سامنے کلام مبہم بولا گیا۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ تمہارے دل ان دو سے خارج نہیں یا تو وہ پتھر جیسے ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت یعنی بعض ایسے اس قول کے مطابق یہ بھی ہے «كَمَثَلِ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًا» ۱؎ [2۔ البقرہ: 17] پھر فرمایا «او کصیب» اور فرمایا ہے «کسراب» پھر فرمایا «او کظلمات» مطلب یہی ہے کہ بعض ایسے اور بعض ایسے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر ابن مردویہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور سخت دل والا اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2411،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو بیان فرمایا ہے اور اس کے ایک طریقہ کو غریب کہا ہے۔
بزار میں انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ { چار چیزیں بدبختی اور شقاوت کی ہیں خوف اللہ سے آنکھوں سے آنسو نہ بہنا، دل کا سخت ہو جانا، امیدوں کا بڑھ جانا، لالچی بن جانا۔ } ۱؎ [بزار فی کشف الاستار:343:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم قست قلوبكم}؛ أي: اشتدت وغلظت فلم تؤثر فيها الموعظة {من بعد ذلك}؛ أي: من بعد ما أنعم الله عليكم بالنعم العظيمة وأراكم الآيات، ولم يكن ينبغي أن تقسو قلوبكم لأن ما شاهدتم مما يوجب رقة القلب وانقياده، ثم وصف قسوتها بأنها {كالحجارة} التي هي أشد قسوة من الحديد، لأن الحديد؛ والرصاص إذا أذيب في النار ذاب بخلاف الأحجار، وقوله: {أو أشد قسوة}؛ أي: أنها لا تقصر عن قساوة الأحجار، وليست «أو» بمعنى بل.
ثم ذكر فضيلة الأحجار على قلوبهم فقال: {وإن من الحجارة لما يتفجر منه الأنهار وإن منها لما يشقق فيخرج منه الماء وإن منها لما يهبط من خشية الله}، فبهذه الأمور فَضَلَتْ قلوبَكم. ثم توعدهم تعالى أشد الوعيد فقال: {وما الله بغافل عمَّا تعملون}، بل هو عالم بها حافظ لصغيرها وكبيرها، وسيجازيكم على ذلك أتم الجزاء وأوفاه.
واعلم أن كثيراً من المفسرين رحمهم الله قد أكثروا في حشو تفاسيرهم من قصص بني إسرائيل، ونزَّلوا عليها الآيات القرآنية، وجعلوها تفسيراً لكتاب الله، محتجين بقوله - صلى الله عليه وسلم -: «حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج».
والذي أرى أنه وإن جاز نقل أحاديثهم على وجه تكون مفردة غير مقرونة ولا منزلة على كتاب الله، فإنه لا يجوز جعلها تفسيراً لكتاب الله قطعاً إذا لم تصح عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وذلك أن مرتبتها كما قال - صلى الله عليه وسلم -: «لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم» ، فإذا كانت مرتبتها أن تكون مشكوكاً فيها، وكان من المعلوم بالضرورة من دين الإسلام أن القرآن يجب الإيمان به والقطع بألفاظه ومعانيه، فلا يجوز أن تجعل تلك القصص المنقولة بالروايات المجهولة التي يغلب على الظن كذبها، أو كذب أكثرها معاني لكتاب الله مقطوعاً بها، ولا يستريب بهذا أحد، ولكن بسبب الغفلة عن هذا حصل ما حصل، والله الموفق.