ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 60

وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۰﴾
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، بلاشبہ سب لوگوں نے اپنی پینے کی جگہ معلوم کر لی، کھاؤ اور پیو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔ En
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
En
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی ﻻٹھی پتھر پر مارو، جس سے باره چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروه نے اپنا چشمہ پہچان لیا (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ پیو اورزمین میں فساد نہ کرتے پھرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60) {الْحَجَرَ} کا ترجمہ اس پتھر پر اس لیے کیا ہے کہ الف لام عہد کا ہے الف لام جنس کا مانیں تو کوئی بھی پتھر مراد ہو سکتا ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے: وہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے، سیاح اسے جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگاف اس میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ بارہ چشموں میں یہ مصلحت تھی کہ بنی اسرائیلی قبیلے بھی بارہ ہی تھے، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ نکال دیا، تاکہ ان کے درمیان پانی پر جھگڑا نہ ہو۔ مگر ہزاروں سال کے بعد یہ بات یقین کے ساتھ کس طرح کہی جا سکتی ہے کہ یہ وہی چٹان ہے اور بعد میں نہیں بنی، جب کہ اس کی کوئی سند بھی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) یہ واقعہ بعض کے نزدیک تیہ کا اور بعض کے نزدیک صحرائے سینا کا ہے وہاں پانی کی طلب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ چناچہ پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے قبیلے بھی بارہ تھے۔ ہر قبیلہ اپنے اپنے چشمے سے سیراب ہوتا۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ ؑ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے انہیں کہا کہ: ”فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔“ [76] چنانچہ اس چٹان سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور (قوم موسیٰ کے بارہ قبیلوں میں سے) ہر قبیلہ نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا۔ (ساتھ ہی ہم نے انہیں یہ کہہ دیا تھا کہ) ”اللہ کے عطا کردہ رزق سے کھاؤ، پیو، مگر (ایک دوسرے کی چیزیں غصب کر کے) [77] زمین میں فساد نہ مچاتے پھرنا“
[76] بارہ چشموں کا پھوٹنا:۔
یہ واقعہ بھی اسی وادی سینا میں پیش آیا۔ سایہ اور غذا کے علاوہ انہیں پانی کی بھی شدید ضرورت تھی اور وہاں دور تک کہیں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ لوگوں نے موسیٰؑ سے پانی کی شکایت کی تو موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے پانی کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان سے اتنی کثیر اور وافر مقدار میں پانی نکالا جو اس لاکھوں کے لشکر کی روزانہ ضروریات کے لیے کافی ہوتا تھا۔ یہ قوم بارہ قبیلوں میں منقسم تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان میں 12 ہی چشمے رواں کر دیے۔ کوئی شگاف بڑا تھا، کوئی چھوٹا اور یہی صورت ان بارہ قبیلوں کے افراد کی تعداد کی تھی۔ پانی کی اس طرح تقسیم سے ان میں پانی پر باہمی جھگڑے کے امکانات ختم ہو گئے۔ یہ چٹان اب بھی جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے۔ جسے سیاح جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگافوں کے نشان اب بھی اس میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ [77] یعنی یہ خداداد مفت کی نعمتیں جو تمہیں مہیا ہیں۔ ایک دوسرے سے چھین کر یا چرا کر خواہ مخواہ فتنہ اور جھگڑے کے مواقع پیدا نہ کرتے رہنا۔
فساد فی الارض کیا ہے؟ فساد فی الارض کی مذمت تو سبھی کرتے ہیں، مگر فساد فی الارض ہے کیا چیز؟ اس بات کی تعیین میں ہر شخص کے نقطہ نظر کے مطابق اختلاف واقع ہو جاتا ہے۔ عموماً فساد فی الارض کا مطلب چوری، ڈاکہ، لوٹ مار، قتل و غارت اور ایک دوسرے کے حقوق کو غصب کرنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ فساد فی الارض کا صرف ایک پہلو ہے۔ مدینہ کے مسلمانوں نے منافقوں سے کہا کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہنے لگے کہ ہم مفسد کب ہیں؟ بلکہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ [2: 11] موسیٰؑ فرعون، قارون اور ہامان کو مفسد قرار دیتے تھے تو فرعون اور اس کے درباری سیدنا موسیٰؑ اور آپ کے پیروکاروں کو فسادی قرار دیتے تھے۔ فرعون کے درباریوں نے فرعون سے کہا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ وہ زمین میں فساد مچاتے پھریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں؟تو اس فرعون نے اس قسم کے فساد فی الارض کی اصلاح کا طریقہ سوچ کر کہا کہ ”ہم لوگ ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان لوگوں پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔“ [7: 127]
ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے نقطہ نظر کے مطابق فساد فی الارض اور اصلاح دونوں کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ فساد فی الارض حقیقتاً ہے کیا چیز؟ اس سوال کا جواب بالکل آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت اور اس کے نظام امن میں خلل ڈالنے والا مفسد یا فسادی ہوتا ہے۔ فرعون کو چونکہ موسیٰؑ اور آپ کی قوم سے بغاوت کا خطرہ تھا۔ لہٰذا اس نے انہیں مفسد قرار دے دیا اور شرعی نقطہ نظر سے حاکم مطلق اور مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لحاظ سے جو شخص بھی اللہ کے اور بندوں کے آپس میں باہمی حقوق پر ڈاکہ ڈالے گا۔ وہ فساد فی الارض کا مجرم ہو گا اور اسی لحاظ سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم قرار پاتا ہے اور اللہ کے دین کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں یا خفیہ مشورے کرنا یا بغاوت کرنا بھی اتنا ہی شدید جرم ہے جتنا ڈاکہ ڈالنا یا چوری و زنا کرنا۔ اس فرق کو ہم یوں بھی واضح کر سکتے ہیں کہ شرک اور زنا بالرضا ایک دنیا دار معاشرہ میں جرم نہیں سمجھا جاتا۔ جب کہ شرعی نقطہ نظر سے یہی باتیں فساد فی الارض میں سرفہرست شمار ہوتی ہیں۔ نیز ایک دین بیزار حکومت کے خلاف جہاد کرنا اس حکومت کے نظریہ کے مطابق بغاوت اور بہت بڑا جرم ہے۔ جبکہ شرعی نقطہ نظر سے یہ فساد فی الارض کے خاتمہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس وضاحت سے آپ قرآن میں مختلف مقامات پر مذکور فساد فی الارض کا مفہوم آسانی سے سمجھ سکیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یہود پر تسلسل احسانات ٭٭
یہ ایک اور نعمت یاد دلائی جا رہی ہے کہ جب تمہارے نبی علیہ السلام نے تمہارے لیے پانی طلب کیا تو ہم نے اس پتھر سے چشمے بہا دئیے جو تمہارے ساتھ رہا کرتا تھا اور تمہارے ہر قبیلے کے لیے اس میں سے ایک ایک چشمہ ہم نے جاری کرا دیا جسے ہر قبیلہ نے جان لیا اور ہم نے کہہ دیا کہ من و سلویٰ کھاتے رہو اور ان چشموں کا پانی پیتے رہو بے
محنت کی روزی کھا پی کر ہماری عبادت میں لگے رہو نافرمانی کر کے زمین میں فساد مت پھیلاؤ ورنہ یہ نعمتیں چھن جائیں گی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ ایک چکور پتھر تھا جو ان کے ساتھ ہی تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے بحکم اللہ اس پر لکڑی ماری چاروں طرف سے تین تین نہریں بہ نکلیں۔ یہ پتھر بیل کے سر جتنا تھا جو بیل پر لاد دیا جاتا تھا۔ جہاں اترتے رکھ دیتے اور عصا کی ضرب لگتے ہی اس میں سے نہریں بہ نکلیں۔ جب کوچ کرتے اٹھا لیتے نہریں بند ہو جاتیں اور پتھر کو ساتھ رکھ لیتے۔ یہ پتھر طور پہاڑ کا تھا ایک ہاتھ لمبا اور ایک ہاتھ چوڑا تھا بعض کہتے ہیں یہ جنتی پتھر تھا دس دس ہاتھ لمبا چوڑا تھا دو شاخیں تھیں جو چمکتی رہتی تھیں۔ ایک اور قول میں ہے کہ یہ پتھر آدم کے ساتھ جنت سے آیا تھا اور یونہی ہاتھوں ہاتھ پہنچتا ہوا شعیب کو ملا تھا انہوں نے لکڑی اور پتھر دونوں موسیٰ علیہ السلام کو دئے تھے بعض کہتے ہیں یہ وہی پتھر ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام اپنے کپڑے رکھ کر نہا رہے تھے اور بحکم الٰہی یہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا تھا اسے موسیٰ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام کے مشورے سے اٹھا لیا تھا جس سے آپ کا معجزہ ظاہر ہوا۔
زمخشری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حجر پر الف لام جنس کے لیے ہے عہد کے لیے نہیں یعنی ک
سی ایک پتھر پر عصا مارو یہ نہیں کہ فلاں پتھر ہی پر مارو حسن سے بھی یہی مروی ہے اور یہی معجزے کا کمال اور قدرت کا پورا اظہار ہے آپ کی لکڑی لگتے ہی وہ بہنے لگتا اور پھر دوسری لکڑی لگتے ہی خشک ہو جاتا بنی اسرائیل آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ پتھر گم ہو گیا تو ہم پیاسے مرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم لکڑی نہ مارو صرف زبانی کہو تاکہ انہیں یقین آ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ہر ایک قبیلہ اپنی اپنی نہر کو اس طرح جان لیتا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی پتھر کے پاس کھڑا رہ جاتا اور لکڑی لگتے ہی اس میں سے چشمے جاری ہو جاتے جس شخص کی طرف جو چشمہ جاتا وہ اپنے قبیلے کو بلا کر کہہ دیتا کہ یہ چشمہ تمہارا ہے یہ واقعہ میدان تیہ کا ہے سورۃ الاعراف میں بھی اس واقعہ کا بیان ہے «وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَفَانبَجَسَتْ» [7-الأعراف:160]‏‏‏‏ لیکن چونکہ وہ سورت مکی ہے اس لیے وہاں ان کا بیان غائب کی ضمیر سے کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو احسانات ان پر نازل فرمائے تھے وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائے ہیں اور یہ سورت مدنی ہے اس لیے یہاں خود انہیں خطاب کیا گیا ہے۔ سورۃ الاعراف میں «فَانبَجَسَتْ» [7-الأعراف:160]‏‏‏‏ کہا اور یہاں «فَانفَجَرَتْ» کہا اس لیے کہ وہاں اول اول جاری ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں آخری حال کا بیان ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور ان دونوں جگہ کے بیان میں دس وجہ سے فرق ہے جو فرق لفظی بھی ہے اور معنوی بھی زمخشری نے اپنے طور پر ان سب وجوہ کو بیان کیا ہے اور حقیقت اس میں قریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»