اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾
یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔
En
یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں
En
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 5) { هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ:} الف لام کمال کا ہے، اس لیے ”پورے کامیاب“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی وہی متقی جن میں یہ اوصاف ہوں گے رب تعالیٰ کی طرف سے سیدھے راستے پر قائم رہیں گے اور وہی مکمل کامیابی سے سرفراز ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں ہدایت دے گا اور جنت بھی۔ [ديكهيے يونس: ۹]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1 یہ ان اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ و عمل اور عقیدہ صحیحہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ محض زبان سے اظہار ایمان کو کافی نہیں سمجھتے۔ کامیابی سے مراد آخرت میں رضائے الٰہی اور اس کی رحمت و مغفرت کا حصول ہے۔ اس کے ساتھ دنیا میں بھی خوش حالی اور سعادت و کامرانی مل جائے تو سبحان اللہ۔ ورنہ اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوسرے گروہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جو صرف کافر ہی نہیں بلکہ اس کا کفر وعناد اس انتہا تک پہنچا ہوا ہے جس کے بعد اس سے خیر اور قبول اسلام کی توقع ہی نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ ایسے ہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے [9] (نازل شدہ) ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح [10] پانے والے ہیں
[9] دیکھئے یہاں اسلام کے تین اہم بنیادی ارکان کا اجمالاً ذکر کر دیا گیا ہے اور اجمال ہی کی وجہ سے روزہ اور حج کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ جن لوگوں میں مندرجہ بالا پانچ صفات پیدا ہو جائیں گی، وہ صرف روزہ اور حج ہی نہیں دوسرے تمام شرعی اوامر و نواہی پر عمل کرنے کے لیے از خود مستعد ہو جائیں گے اور درج ذیل حدیث میں نماز روزہ اور زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے۔ حج چونکہ زندگی میں صرف ایک بار اور وہ بھی صاحب استطاعت پر فرض ہے لہٰذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ارکان اسلام کی اہمیت اور ترتیب
طلحہ بن عبید اللہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی اور ہم بھن بھن کی طرح اس کی آواز سنتے رہے، وہ نزدیک آیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کی بابت پوچھ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ”اسلام، دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا۔“ اس نے کہا: اس کے علاوہ تو میرے ذمے کچھ نہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ”الا یہ کہ تو نفل (یا کوئی نفلی نماز) پڑھے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ اس نے پوچھا: اس کے علاوہ اور تو کوئی روزہ میرے ذمے نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں الا یہ کہ تو کوئی نفلی روزہ رکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زکوٰۃ کے متعلق بتایا تو کہنے لگا: ”بس۔ اور تو کوئی صدقہ میرے ذمہ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ الا یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔ ‘ پھر وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو یہ کہتا جاتا تھا: اللہ کی قسم! میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا (کامیاب ہو گیا) “ [بخاري، كتاب الايمان، باب الزكوٰة من الاسلام]
[10] فلاح سے مراد عذاب دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیت 185 میں یہ صراحت موجود ہے۔
[10] فلاح سے مراد عذاب دوزخ سے نجات اور جنت میں داخلہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیت 185 میں یہ صراحت موجود ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہدایت یافتہ لوگ ٭٭
یعنی وہ لوگ جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے مثلاً غیب پر ایمان لانا، نماز قائم رکھنا، اللہ کے دئیے ہوئے میں سے دینا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اترا اس پر ایمان لانا، آپ سے پہلے جو کتابیں اتریں ان کو ماننا، دار آخرت پر یقین رکھ کر وہاں کام آنے کے لیے نیک اعمال کرنا۔ برائیوں اور حرام کاریوں سے بچنا۔ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں جنہیں اللہ کی طرف سے نور ملا، اور بیان و بصیرت حاصل ہوا اور انہی لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہدایت کی تفسیر ”نور“ اور ”استقامت“ سے کی ہے اور ”فلاح“ کی تفسیر اپنی چاہت کو پا لینے اور برائیوں سے بچ جانے کی کی ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے نور، دلیل، ثابت قدمی، سچائی اور توفیق میں حق پر ہیں اور یہی لوگ اپنے ان پاکیزہ اعمال کی وجہ سے نجات، ثواب اور دائمی جنت پانے کے مستحق ہیں اور عذاب سے محفوظ ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ دوسرے «أُولَـٰئِكَ» کا اشارہ اہل کتاب کی طرف ہے جن کی صفت اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے جیسے پہلے گزر چکا۔
اس اعتبار سے آیت «وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ» ۱؎ [2-البقرة:4] الخ، پہلے کی آیت سے جدا ہو گا اور مبتدا بن کر مرفوع ہو گا اور اس کی خبر آیت «وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۲؎ [2-البقرة:5] ہو گی لیکن پسندیدہ قول یہی ہے کہ اس کا اشارہ پہلے کے سب اوصاف والوں کی طرف ہے اہل کتاب ہوں یا عرب ہوں۔
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ آیت «يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ» ۳؎ [2-البقرة:3] سے مراد عرب ایماندار ہیں اس کے بعد کے جملہ سے مراد اہل کتاب ایماندار ہیں۔ پھر دونوں کے لیے یہ بشارت ہے کہ یہ لوگ ہدایت اور فلاح والے ہیں۔ اور یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ آیتیں عام ہیں اور یہ اشارہ بھی عام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد، ابوالعالیہ، ربیع بن انس، اور قتادہ سے یہی مروی ہے۔
{ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اے اللہ کے رسول! قرآن پاک کی بعض آیتیں تو ہمیں ڈھارس دیتی ہیں اور امید قائم کرا دیتی ہیں اور بعض آیتیں کمر توڑ دیتی ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ ہم ناامید ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا ”لو میں تمہیں جنتی اور جہنمی کی پہچان صاف صاف بتا دوں“، پھر آپ نے «الم» سے «مُفْلِحُونَ» ۴؎ [2-البقرة:1-5] تک پڑھ کر فرمایا یہ تو جنتی ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے خوش ہو کر فرمایا «الْحَمْدُ لِلَّـه» ہمیں امید ہے کہ ہم انہی میں سے ہوں، پھر آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا» سے «عَظِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:6-7] تک تلاوت کی اور فرمایا یہ جہنمی ہیں، انہوں نے کہا ہم ایسے نہیں آپ نے فرمایا ”ہاں۔“ } ۶؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:40/1:ضعیف]
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے نور، دلیل، ثابت قدمی، سچائی اور توفیق میں حق پر ہیں اور یہی لوگ اپنے ان پاکیزہ اعمال کی وجہ سے نجات، ثواب اور دائمی جنت پانے کے مستحق ہیں اور عذاب سے محفوظ ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ دوسرے «أُولَـٰئِكَ» کا اشارہ اہل کتاب کی طرف ہے جن کی صفت اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے جیسے پہلے گزر چکا۔
اس اعتبار سے آیت «وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ» ۱؎ [2-البقرة:4] الخ، پہلے کی آیت سے جدا ہو گا اور مبتدا بن کر مرفوع ہو گا اور اس کی خبر آیت «وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۲؎ [2-البقرة:5] ہو گی لیکن پسندیدہ قول یہی ہے کہ اس کا اشارہ پہلے کے سب اوصاف والوں کی طرف ہے اہل کتاب ہوں یا عرب ہوں۔
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ آیت «يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ» ۳؎ [2-البقرة:3] سے مراد عرب ایماندار ہیں اس کے بعد کے جملہ سے مراد اہل کتاب ایماندار ہیں۔ پھر دونوں کے لیے یہ بشارت ہے کہ یہ لوگ ہدایت اور فلاح والے ہیں۔ اور یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ آیتیں عام ہیں اور یہ اشارہ بھی عام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مجاہد، ابوالعالیہ، ربیع بن انس، اور قتادہ سے یہی مروی ہے۔
{ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اے اللہ کے رسول! قرآن پاک کی بعض آیتیں تو ہمیں ڈھارس دیتی ہیں اور امید قائم کرا دیتی ہیں اور بعض آیتیں کمر توڑ دیتی ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ ہم ناامید ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا ”لو میں تمہیں جنتی اور جہنمی کی پہچان صاف صاف بتا دوں“، پھر آپ نے «الم» سے «مُفْلِحُونَ» ۴؎ [2-البقرة:1-5] تک پڑھ کر فرمایا یہ تو جنتی ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے خوش ہو کر فرمایا «الْحَمْدُ لِلَّـه» ہمیں امید ہے کہ ہم انہی میں سے ہوں، پھر آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا» سے «عَظِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:6-7] تک تلاوت کی اور فرمایا یہ جہنمی ہیں، انہوں نے کہا ہم ایسے نہیں آپ نے فرمایا ”ہاں۔“ } ۶؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:40/1:ضعیف]