ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۳۹﴾
اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
En
اور جو انکار کرکے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وه جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 38 میں تا آیت 40 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 قبولیت دعا کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ جنت میں آباد کرنے کے بجائے دنیا ہی میں رہ کر جنت کے حصول کی تلقین فرمائی اور حضرت آدم ؑ کے واسطے تمام بنو آدم کو جنت کا یہ راستہ بتلایا جا رہا ہے۔ کہ انبیاء علیہم کے ذریعے سے میری ہدایت (زندگی گزارنے کے احکام وضابطے) تم تک پہنچے گی جو اس کو قبول کرے گا وہ جنت کا مستحق اور بصورت دیگر عذاب الٰہی کا سزاوار ہوگا۔ ان پر خوف نہیں ہوگا۔ کا تعلق آخرت سے ہے۔ ای فیما یستقبلونہ من امر الاخرۃ اور حزن نہیں ہوگا کا تعلق دنیا سے۔ علی ما فاتھم من امورالدنیا (جو فوت ہوگیا امور دنیا سے یا اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آئے) جس طرح دوسرے مقام پر ہے آیت (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي) 20:259۔ جس نے میری ہدایت کی پیروی کی پس وہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) بدبخت۔ ابن کثیر۔ گویا آیت (لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 10:62 کا مقام ہر مومن صادق کو حاصل ہے یہ کوئی ایسا مقام نہیں جو صرف بعض اولیاء اللہ ہی کو حاصل ہے اور پھر مقام کا مفہوم بھی کچھ بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ تمام مومنین و متقین بھی اولیاء اللہ ہیں۔ اولیاء اللہ کوئی الگ مخلوق نہیں۔ ہاں البتہ اولیاء کے درجات میں فرق آسکتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلا یا [58] وہی اہل دوزخ ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے
[58] جنت میں دوبارہ داخلہ:
ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرمائی کہ بنی نوع انسان کے لئے میری طرف سے ہدایت (وحی) آتی رہے گی اور جو لوگ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ انہیں کچھ غم و اندوہ نہ ہو گا اور وہ اس جنت کے وارث ہوں گے، جہاں سے آدم وغیرہم کو نکالا گیا تھا۔ البتہ جو لوگ ہماری وحی کا انکار کریں گے اور شیطان سے دوستی رکھیں گے تو وہ دائمی طور پر دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنت کے حصول کی شرائط ٭٭
جنت سے نکالتے ہوئے جو ہدایت آدم علیہ السلام حواء اور ابلیس کو دی گئی اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ ہماری طرف سے کتابیں انبیاء اور رسول بھیجے جائیں گے، معجزات ظاہر کئے جائیں گے، دلائل بیان فرمائے جائیں گے، راہ حقوق واضح کر دی جائے گی، نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم بھی نازل فرمایا جائے گا، جو بھی اپنے زمانے کی کتاب اور نبی کی تابعداری کرے گا اسے آخرت کے میدان میں کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ ہی دنیا کے کھو جانے پر کوئی غم ہو گا۔ سورۃ طہٰ میں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ میری ہدایت کی پیروی کرنے والے نہ گمراہ ہوں گے، نہ بدبخت و بے نصیب۔ مگر میری یاد سے منہ موڑنے والے دنیا کی تنگی اور آخرت کے اندھا پن کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ یہاں بھی فرمایا کہ انکار اور تکذب کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں تو جہنم میں نہ موت آئے گی، نہ ہی خوشگوار زندگی ملے گی، ہاں جن موحد، متبع سنت لوگوں کو ان کی بعض خطاؤں پر جہنم میں ڈالا جائے گا یہ جل کر کوئلے ہو ہو کر مر جائیں گے اور پھر شفاعت کی وجہ سے نکال لیے جائیں گے۔ [صحیح مسلم185]‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے کہ بعض تو کہتے ہیں دوسری دفعہ جنت سے نکل جانے کے حکم کو ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہاں دوسرے احکام بیان کرنا تھے اور بعض کہتے ہیں پہلی مرتبہ جنت سے آسمان اول اتار دیا گیا تھا دوبارہ آسمان اول سے زمین کی طرف اتارا گیا لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»