تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ جب شام سے واپس آئے تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! یہ کیا ہے؟“ کہا، میں شام گیا تو میں نے انھیں دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور افسروں کو سجدہ کرتے ہیں، میں نے دل میں چاہا کہ ہم آپ کے ساتھ اس طرح کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کام نہ کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ غیر اللہ کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ [ابن ماجہ، النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ: ۱۸۵۳]مگر افسوس کہ جاہل صوفی اور عوام جب پیروں کے پاس حاضری دیتے ہیں تو انھیں سجدہ کرتے ہیں اور وہ بھی اس پر خاموش رہ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
➋ ابلیس فرشتہ نہیں تھا بلکہ جنوں سے تھا۔ [الکہف: ۵۰] یہاں فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ابلیس فرشتہ تھا، یا یہ کہ اسے حکم ہی نہ تھا، بلکہ یہاں بات مختصر بیان ہوئی ہے۔ سورۂ اعراف (۱۲) میں تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو خاص طور پر سجدے کا حکم دیا تھا، فرمایا: { «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» } [الأعراف: ۱۲] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا، جب میں نے تجھے حکم دیا؟“
ابلیس کے انکار کا باعث اس کا کبر تھا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر ہو گا۔“ [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابلیس فرشتوں کے ایک قبیلہ میں سے تھا جنہیں جن کہتے تھے جو آگ کے شعلوں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس کا نام حارث تھا اور جنت کا خازن تھا۔ اس قبیلے کے سوا اور فرشتے سب کے سب نوری تھے۔ قرآن نے بھی ان جنوں کی پیدائش کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ» [55۔ الرحمن: 15] آگ کے شعلے کی جو تیزی سے بلند ہوتے ہیں اسے مارج کہتے ہیں جس سے جن پیدا کئے گئے تھے اور انسان مٹی سے پیدا کیا گیا۔ زمین میں پہلے جن بستے تھے۔ انہوں نے فساد اور خون ریزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو فرشتوں کا لشکر دے کر بھیجا انہی کو ”جن“ کہا جاتا تھا۔ ابلیس نے لڑ بھڑ کر مارتے اور قتل کرتے ہوئے انہیں سمندر کے جزیروں اور پہاڑوں کے دامنوں میں پہنچا دیا اور ابلیس کے دل میں یہ تکبر سما گیا کہ میں نے وہ کام کیا ہے جو کسی اور سے نہ ہو سکا۔ چونکہ دل کی اس بدی اور اس پوشیدہ خودی کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو تھا۔ جب پروردگار نے فرمایا کہ زمین میں خلیفہ پیدا کرنا چاہتا ہوں تو ان فرشتوں نے عرض کیا کہ ایسے کو کیوں پیدا کرتا ہے جو اگلی قوم کی طرح فساد و خونریزی کریں تو انہیں جواب دیا گیا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے یعنی ابلیس کے دل میں جو کبر و غرور ہے اس کا مجھی کو علم ہے تمہیں خبر نہیں۔
پھر آدم علیہ السلام کی مٹی اٹھائی گئی جو چکنی اور اچھی تھی۔ جب اس کا خمیر اٹھا تب اس سے آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور چالیس دن تک وہ یونہی پتلے کی شکل میں رہے ابلیس آتا تھا اور اس پر لات مار کر دیکھتا تھا تو وہ بجتی مٹی ہوتی جیسے کوئی کھوکھلی چیز ہو پھر منہ کے سوراخ سے گھس کر پیچھے کے سوراخ سے اور اس کے خلاف آتا جاتا رہا اور کہتا رہا کہ درحقیقت یہ کوئی چیز نہیں اور اگر میں اس پر مسلط کیا گیا تو اسے برباد کر کے چھوڑ دوں گا اور اسے مجھ پر مسلط کیا گیا تو میں ہر گز تسلیم نہ کروں گا۔
پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی اور وہ سر کی طرف سے نیچے کی طرف آئی تو جہاں جہاں تک پہنچتی گئی خون گوشت بنتا گیا۔ جب ناف تک روح پہنچی تو اپنے جسم کو دیکھ کر خوش ہوئے اور فوراً اٹھنا چاہا لیکن نیچے کے دھڑ میں روح نہیں پہنچتی تھی اس لیے اٹھ نہ سکے اسی جلدی کا کا بیان اس آیت میں ہے آیت «وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا» [17۔ الاسرآء: 11] یعنی انسان بےصبرا اور جلد باز ہے نہ تو خوشی نہ رنج میں۔ جب روح جسم میں پہنچی اور چھینک آئی تو کہا آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» اللہ تعالیٰ نے جواب دیا دعا «یرحمک اللہ» پھر صرف ابلیس کے ساتھی فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس کا وہ غرور و تکبر ظاہر ہو گیا اس نے نہ مانا اور سجدے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں اس سے بڑی عمر والا ہوں۔ اور اس سے قوی اور مضبوط ہوں۔ یہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں اور آگ مٹی سے قوی ہے۔ اس کے انکار پر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے ناامید کر دیا اور اسی لیے اسے ابلیس کہا جاتا ہے۔ اس کی نافرمانی کی سزا میں اسے راندہ درگاہ شیطان بنا دیا۔
ایک اور حدیث میں بھی اسی طرح مروی ہے جس کے متن میں کچھ کمی زیادتی بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ زمین کی مٹی لینے کے لیے جب جبرائیل علیہ السلام گئے تو زمین نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں کہ تو مجھ میں سے کچھ گھٹائے وہ واپس چلے گئے پھر ملک الموت کو بھیجا۔ زمین نے ان سے بھی یہی کہا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کا حکم پورا کئے بغیر واپس چلا جاؤں چنانچہ انہوں نے تمام روئے زمین سے ایک ایک مٹھی مٹی لی۔ چونکہ مٹی کا رنگ کہیں سرخ تھا کہیں سفید کہیں سیاہ اسی وجہ سے انسانوں کی رنگتیں بھی طرح طرح کی ہوئیں لیکن یہ روایت بھی بنو اسرائیل کی روایات سے ماخوذ ہے غالباً اس میں بہت سی باتیں نیچے کے لوگوں کی ملائی گئی ہیں۔ صحابی کا بیان ہی نہیں اگر صحابی کا قول بھی ہو تو بھی انہوں نے بعض اگلی کتابوں سے لیا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حسن فرماتے ہیں ابلیس کبھی فرشتہ نہ تھا اس کی اصل جنات سے ہے جیسے کہ آدم علیہ السلام کی اصل انس سے ہے اس کی اسناد صحیح ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اور شہر بن حوشب رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے۔ سعد بن مسعود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے جنات کو جب مارا تب اسے قید کیا تھا اور آسمان پر لے گئے تھے وہاں کی عبادت کی وجہ سے رہ پڑا۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شامیوں کو اپنے سرداروں اور علماء کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنے کی اجازت دینے والا ہوتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں کیونکہ ان کا ان پر بہت بڑا حق ہے۔ [سنن ابن ماجه:1852، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام رازی رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے بعض کہتے ہیں کہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا۔ آدم بطور قبلہ [یعنی سمت] کے تھے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ» [17۔ الاسرآء: 78] لیکن اس میں بھی اختلاف ہے اور پہلے ہی قول کا زیادہ صحیح ہونا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ یہ سجدہ آدم علیہ السلام کے اکرام بڑائی احترام اور سلام کے طور پر تھا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ماتحت تھا کیونکہ اس کا حکم تھا جس کی بجا آوری ضروری تھی۔
امام رازی رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو قوی قرار دیا ہے اور اس کے سوا دوسرے اقوال کو ضعیف قرار دیا ہے ایک تو آدم علیہ السلام کا بطور قبلہ کے ہونا جس میں کوئی بڑا شرف ظاہر نہیں ہوتا۔ دوسرے سجدے سے مراد پست عاجز ہونا نہ کہ زمین میں ماتھا ٹکا کر حقیقی سجدہ کرنا لیکن یہ دونوں تاویلیں ضعیف ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلا گناہ یہی تکبر ہے جو ابلیس سے سرزد ہوا۔ صحیح حدیث میں ہے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:91:صحیح] اسی تکبر کفرو عناد کی وجہ سے ابلیس کے گلے میں طوق لعنت پڑا اور رحمت سے مایوس ہو کر جناب باری سے دھتکارا گیا۔ یہاں «کان صار» کے معنی میں بتلایا گیا ہے جیسے کہ آیت «فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» [11-هود:43] اور آیت «فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [7-الأعراف:19] شاعروں کے شعروں میں بھی اس کا ثبوت ہے تو معنی یہ ہوئے کہ وہ کافر ہو گیا ابن فورک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کافروں میں سے تھا۔
بعض روایات میں ہے کہ غصہ کے وقت وہ اتنا پھول جاتا کہ اس کے جسم سے تمام راستہ رک جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے مارا۔ [صحیح مسلم:2932:صحیح] دجال کی تو ایسی بہت سی باتیں احادیث میں وارد ہیں مثلاً اس کا آسمان سے بارش برسانا زمین سے پیداوار اگانا زمین کے خزانوں کا اس کے پیچھے لگنا ایک نوجوان کو قتل کر کے پھر جلانا وغیرہ وغیرہ۔ [صحیح بخاری:7122:صحیح] سیدنا لیث بن سعد رضی اللہ عنہما اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر تم کسی کو پانی پر چلتے ہوئے اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے دیکھو تو اسے ولی نہ سمجھ بیٹھو جب تک کہ اس کے تمام اعمال و افعال قرآن و حدیث کے مطابق نہ پاؤ۔ اس سجدے کا حکم زمین و آسمان کے تمام فرشتوں کو تھا گو ایک جماعت کا قول یہ بھی ہے کہ صرف زمین کے فرشتوں کو یہ حکم تھا لیکن یہ ٹھیک نہیں قرآن کریم میں ہے آیت «فَسَجَدَ الْمَلٰىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ» [15۔ الحجر: 31-30] یعنی ابلیس کے سوا تمام فرشتوں نے سجدہ کیا پس اول تو جمع کا صیغہ لانا پھر «کلھم» سے تاکید کرنا پھر «اجمعون» کہنا اس کے بعد صرف ابلیس کا استثناء کرنا ان چاروں وجوہات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکم عام تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمرهم تعالى بالسجود لآدم إكراماً له وتعظيماً وعبودية لله تعالى؛ فامتثلوا أمر الله، وبادروا كلهم بالسجود، {إلا إبليس أبى} امتنع عن السجود، واستكبر عن أمر الله، وعلى آدم قال: {أأسجد لمن خلقت طيناً} وهذا الإباء منه، والاستكبار نتيجة الكفر الذي هو منطوٍ عليه، فتبينت حينئذ عداوته لله ولآدم وكفره واستكباره.
وفي هذه الآيات من العِبَر والآيات إثبات الكلام لله تعالى، وأنه لم يزل متكلماً يقول ما شاء، ويتكلم بما شاء وأنه عليم حكيم، وفيه أن العبد إذا خفيت عليه حكمة الله في بعض المخلوقات، والمأمورات؛ فالواجب عليه التسليم واتهامُ عقله والإقرار لله بالحكمة؛ وفيه اعتناء الله بشأن الملائكة وإحسانه بهم بتعليمهم ما جهلوا، وتنبيههم على ما لم يعلموه.
وفيه فضيلة العلم من وجوه:
منها: أن الله تعرف لملائكته بعلمه وحكمته.
ومنها: أن الله عرفهم فضل آدم بالعلم، وأنه أفضل صفة تكون في العبد.
ومنها: أن الله أمرهم بالسجود لآدم إكراماً له لمَّا بانَ فضل علمه.
ومنها: أن الامتحان للغير إذا عجزوا عما امتحنوا به ثم عرفه صاحب الفضيلة فهو أكمل مما عرفه ابتداء.
ومنها: الاعتبار بحال أبوي الإنس والجن وبيان فضل آدم وأفضال الله عليه وعداوة إبليس له، إلى غير ذلك من العبر.