فرمایا اے آدم! انھیں ان کے نام بتا، تو جب اس نے انھیں ان کے نام بتا دیے، فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بے شک میں ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں جانتا ہوں اور جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔
En
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم ﴿علیہ السلام﴾ سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ﻇاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 32 میں تا آیت 34 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 اسماء سے مراد مسمیات (اشخاص و اشیاء) کے نام اور ان کے خواص و فوائد کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعے حضرت آدم علیہ کو سکھلا دیا۔ پھر جب ان سے کہا گیا کہ آدم ؑ ان کے نام بتلاؤ تو انہوں نے فورا سب کچھ بیان کردیا جو فرشتے بیان نہ کرسکے۔ اسطرح اللہ تعالیٰ نے ایک تو فرشتوں پر حکمت تخلیق آدم واضح کردی۔ دوسرے دنیا کا نظام چلانے کے لئے علم کی اہمیت و فضیلت بیان فرما دی جب یہ حکمت و اہمیت فرشتوں پر واضح ہوئی تو انہوں نے اپنے قصور علم و فہم کا اعتراف کرلیا۔ فرشتوں کے اس اعتراف سے یہ بھی واضح ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے اللہ کے برگزیدہ بندوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا ”اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان اشیاء کے نام بتا دو۔“ تو جب آدم نے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دیئے [45] تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: ”کیا میں نے تمہیں یہ نہ کہا تھا کہ میں ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور ان باتوں کو بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو؟“
[45] جب فرشتوں کو آدم کے ہمہ علمی احاطہ کا علم ہو گیا اور انہوں نے اپنے عجز علمی کا اعتراف کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وہ بات بتا دی جو وہ نہیں جانتے تھے اور وہ یہ تھی کہ انسان میں اگر فتنہ و شر کا پہلو ہے تو صلاح و خیر کا پہلو بھی موجود ہے اور صلاح و خیر کا پہلو غالب ہے۔ اسی لیے اسے خلیفہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اپنے علمی کمال کی وجہ سے اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ اس قصہ سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ علم عبادت سے افضل ہے۔ عبادت کا تعلق صرف مخلوق سے ہے۔ جب کہ علم کا تعلق خالق و مخلوق دونوں سے اور سب سے بڑا عالم اور علیم تو خود اللہ تعالیٰ ہے۔ بلا شبہ انسان فرشتوں جیسی اور جتنی عبادت نہیں کر سکتا۔ تاہم علم کی بنا پر فرشتوں سے افضل اور مستحق خلافت قرار پایا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں