تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ:} قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے غیب پر ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت بھی ضروری ہے، اس کی پہلی اور دائمی علامت بلاناغہ نماز ہے، پانچ وقت اذان سن کر نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر جو شخص اطاعت پر تیار ہی نہ ہو اسے ہدایت کیسے ہو؟ نماز قائم کرنے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز ادا کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [بخاری، الأذان، باب من قال لیؤذن فی السفر…: ۶۲۸، عن مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ]
ارکان نماز کو اعتدال اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے ارکان نماز ادا نہ کرنے والے آدمی سے فرمایا تھا: ”دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز پڑھی ہی نہیں۔“ [بخاری، الأذان، باب وجوب القراءۃ …: ۷۵۷، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
جماعت کا اہتمام بھی نماز قائم کرنے میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی میں ہوں یا بادیہ میں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر شیطان ان پر غالب آ چکا ہوتا ہے۔“ [أبو داوٗد، کتاب الصلوۃ، باب التشدید فی ترک الصلوۃ: ۵۴۷، عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا بھی اقامتِ صلاۃ کا حصہ ہے۔“ [بخاری، الأذان، باب إقامۃ الصف…: ۷۲۳، عن أنس رضی اللہ عنہ] اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نماز میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم خوب اچھی طرح ملاتے تھے، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہر نمازی اپنا پاؤں اور کندھا ساتھ والے کے پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔“ [بخاری، الأذان، باب إلزاق المنکب …: ۷۲۵]
➌ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} ”جو کچھ ہم نے انھیں دیا“ اس سے مراد ہر نعمت ہے، مثلاً مال و اولاد، علم و عقل، قوت و صحت، عزت و وقار وغیرہ۔” ہر نعمت میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے ہیں“ ساری نعمت خرچ کرنے کا مطالبہ ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ محمد (۳۶ تا ۳۸) اس میں ذاتی ملکیت کے منکروں (کمیونسٹوں) کا رد ہے، کیونکہ ملکیت نہ ہو گی تو خرچ کس سے کرے گا۔ خرچ میں فرض و نفل ہر قسم کا خرچ ہے اور جو شخص اللہ کے لیے اس کی عطا کردہ نعمت خرچ کرنے پر تیار ہی نہیں وہ قرآن سے رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[5] اس کی کم از کم حد دن بھر میں پانچ فرض نمازوں کی بروقت اور با جماعت ادائیگی ہے۔ اِلا یہ کہ جماعت میں شامل نہ ہونے کے لیے کوئی شرعی عذر موجود ہو۔ یہ دوسری شرط ہوئی۔
[6] رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت ہے جو جسم یا روح کی پرورش میں مددگار ثابت ہو۔ اگر اللہ نے کسی کو علم و ہنر دیا ہے تو وہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ جوانی اور صحت دی تو اسے جہاد میں یا ضعیفوں کی مدد کرنے میں خرچ کرے اور مال و دولت ہے تو اسے فقراء، یتیموں مسکینوں وغیرہ پر خرچ کرے اور اس خرچ کی کم از کم حد فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ادا کرنا ہے اور بلند تر درجہ یہ ہے کہ جو کچھ ضرورت سے زائد ہو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دے (2: 219) یہ تیسری شرط ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایمان کہتے ہیں عمل کو“، ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ ”یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے“ ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/1]
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ زبان سے، دل سے، عمل سے، غیب پر ایمان لانا اور اللہ سے ڈرنا۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے۔ میں کہتا ہوں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لینے کو، قرآن میں بھی ایمان اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔
جیسے فرمایا «يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ» ۲؎ [9-التوبة:61] الخ یعنی ’اللہ کو مانتے ہیں اور ایمان والوں کو سچا جانتے ہیں‘۔
یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا تھا «وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ» ۳؎ [12-يوسف:17] الخ یعنی ’تو ہمارا یقین نہیں کرے گا اگرچہ ہم سچے ہوں‘۔ اس طرح ایمان یقین کے معنی میں آتا ہے جب اعمال کے ذکر کے ساتھ ملا ہوا ہو۔
جیسے فرمایا: «إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» ۴؎ [84-الانشقاق:25] ہاں جس وقت اس کا استعمال مطلق ہو تو ایمان شرعی جو اللہ کے ہاں مقبول ہے وہ اعتقاد قول اور عمل کے مجموعہ کا نام ہے ۵؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:35/1]
اکثر ائمہ کا یہی مذہب ہے بلکہ امام شافعی، امام احمد اور امام ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ ایمان نام ہے زبان سے کہنے اور عمل کرنے کا۔ ایمان بڑھتا گھٹتا رہتا ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سے آثار اور حدیثیں بھی آئی ہیں جو ہم نے بخاری شریف کی شرح میں نقل کر دی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
جیسے فرمان ہے: «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ» ۱؎ [67-الملك:12] الخ یعنی ’جو لوگ اپنے رب سے در پردہ ڈرتے رہتے ہیں‘۔
اور جگہ فرمایا: «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَـٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ» ۲؎ [50-ق:33] یعنی ’جو شخص اللہ تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرے اور جھکنے والا دل لے کر آئے‘۔ حقیقت میں اللہ کا خوف ایمان کا اور علم کا خلاصہ ہے۔
جیسے فرمایا: «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» ۳؎ [35-فاطر:28] الخ یعنی ’جو بندے ذی علم ہیں صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں‘۔
بعض کہتے ہیں وہ غیب پر بھی ایسا ہی ایمان رکھتے ہیں جیسا حاضر پر اور ان کا حال منافقوں جیسا نہیں کہ جب ایمان والوں کے سامنے ہوں تو اپنا ایماندار ہونا ظاہر کریں لیکن جب اپنے والوں میں ہوتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔
ان منافقین کا حال اور جگہ اس طرح بیان ہوا ہے: «إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ» ۴؎ [63-المنافقون:1] یعنی ’منافق جب تیرے پاس آئیں گے تو کہیں گے کہ ہماری تہ دل سے شہادت ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے اللہ خوب جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق تجھ سے جھوٹ کہتے ہیں‘۔
اس معنی کے اعتبار سے «بِالْغَيْبِ» حال ٹھہرے گا یعنی وہ ایمان لاتے ہیں درآنحالیکہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ «غیب» کا لفظ جو یہاں ہے، اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہو سکتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض دیگر اصحاب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ پوشیدہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت، دوزخ وغیرہ۔ وہ امور جو قرآن میں مذکور ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔ عطا ابن ابورباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا، غیب پر ایمان لانے والا ہے۔ اسماعیل بن ابوخالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد تقدیر پر ایمان لانا ہے۔ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں اس لیے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے اور ان سب پر ایمان لانا واجب ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک مرتبہ صحابہ کے فضائل بیان ہوتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے والوں کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہی تھا لیکن اللہ کی قسم ایمانی حیثیت سے وہ لوگ افضل ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ پھر آپ نے «الم» سے لے کر «مُفْلِحُونَ» تک آیتیں پڑھیں ۱؎۔ [سنن سعید بن منصور:544/2] (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک، حاکم) ۲؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:34/1] امام حاکم رحمہ اللہ اس روایت کو صحیح بتاتے ہیں۔
تفسیر ابن مردویہ میں ہے۔ صالح بن جبیر کہتے ہیں کہ ابو جمعہ انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بیت المقدس میں آئے۔ رجاء بن حیوہ رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی تھے، جب وہ واپس جانے لگے تو ہم انہیں چھوڑنے کو ساتھ چلے، جب الگ ہونے لگے تو فرمایا تمہاری ان مہربانیوں کا بدلہ اور حق مجھے ادا کرنا چاہیئے۔
اس حدیث میں «وجاوہ» کی قبولت کی دلیل ہے جس میں محدثین کا اختلاف ہے۔ میں نے اس مسئلہ کو بخاری شریف میں خوب واضح کر دیا ہے بعد والوں کی تعریف اسی بنا پر ہو رہی ہے اور ان کا بڑے اجر والا ہونا اسی حیثیت کی وجہ سے ہے ورنہ علی الاطلاق ہر طرح سے بہتر اور افضل تو صحابہ رضی اللہ عنہم ہی ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ سے پوچھا: ”تمہارے نزدیک ایمان لانے میں کون زیادہ افضل ہے“، انہوں نے کہا، فرشتے۔ فرمایا: ”وہ ایمان کیوں نہ لائیں وہ تو اپنے رب کے پاس ہی ہیں“، لوگوں نے پھر کہا انبیاء، فرمایا: ”وہ ایمان کیوں نہ لائیں ان پر تو وحی نازل ہوتی ہے۔“ کہا پھر ہم۔ فرمایا: ”تم ایمان کو قبول کیوں نہ کرتے؟ جب کہ میں تم میں موجود ہوں سنو! میرے نزدیک سب سے زیادہ افضل ایمان والے وہ لوگ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے۔ صحیفوں میں لکھی ہوئی کتاب پائیں گے اس پر ایمان لائیں گے“} ۲؎۔ [مسند ابویعلی:160:ضعیف] اس کی سند میں مغیرہ بن قیس ہیں۔ ابوحاتم رازی انہیں منکر الحدیث بتاتے ہیں۔
لیکن اسی کے مثل ایک اور حدیث ضعیف سند ہے۔ مسند ابویعلیٰ تفسیر ابن مردویہ مستدرک حاکم میں بھی مروی ہے اور حاکم اسے صحیح بتاتے ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۳؎۔ [مسند بزار:2840:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں وقتوں کا خیال رکھنا، وضو اچھی طرح کرنا، رکوع، سجدہ پوری طرح کرنا، اقامت صلوٰۃ ہے۔ مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں وقت کی نگہبانی کرنا۔ مکمل طہارت کرنا، رکوع، سجدہ پورا کرنا، تلاوت اچھی طرح کرنا۔ التحیات اور درود پڑھنا اقامت صلوٰۃ ہے ۲؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37/1]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ» ۳؎ [2-البقرة:3] کے معنی زکوٰۃ ادا کرنے کے ہیں۔ ۴؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:243/1]
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہے اس سے مراد آدمی کا اپنے بال بچوں کو کھلانا پلانا ہے، خرچ میں قربانی دینا جو قرب الہٰی حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنی استعداد کے مطابق بھی شامل ہے جو زکوٰۃ کے حکم سے پہلے کی آیت ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کی سات آیتیں جو سورۃ برأت میں ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے یہ حکم تھا کہ اپنی اپنی طاقت کے مطابق تھوڑا بہت جو میسر ہو دیتے رہیں ۵؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:243/1]
میں کہتا ہوں قرآن کریم میں اکثر جگہ نماز کا اور مال خرچ کرنے کا ذکر ملا جلا آتا ہے اس لیے کہ نماز اللہ کا حق اور اس کی عبادت ہے جو اس کی توحید، اس کی ثناء، اس کی بزرگی، اس کی طرف جھکنے، اس پر توکل کرنے، اس سے دعا کرنے کا نام ہے اور خرچ کرنا مخلوق کی طرف احسان کرنا ہے جس سے انہیں نفع پہنچے۔ اس کے زیادہ حقدار اہل و عیال اور غلام ہیں، پھر دور والے اجنبی۔ لہٰذا تمام واجب خرچ اخراجات اور فرض زکوٰۃ اس میں داخل ہیں۔
عربی لغت میں «صلوٰۃ» کے معنی دعا کے ہیں۔ عرب شاعروں کے شعر اس پر شاہد ہیں۔ پھر شریعت میں اس لفظ کا استعمال نماز کے لیے ہونے لگا جو رکوع سجود اور دوسرے خاص افعال کا نام ہے جو مخصوص اوقات میں جملہ شرائط صفات اور اقسام کے ساتھ بجا لائی جاتی ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ نماز کو «صلوٰۃ» اس لیے کہا جاتا ہے کہ نمازی اللہ تعالیٰ سے اپنے عمل کا ثواب طلب کرتا ہے اور اپنی حاجتیں اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ جو دو رگیں پیٹھ سے لے کر ریڑھ کی ہڈی کی دونوں طرف آتی ہیں انہیں عربی میں «صلوین» کہتے ہیں چونکہ نماز میں یہ ہلتی ہیں اس لیے اسے «صلوٰۃ» کہا گیا ہے۔ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں بعض نے کہا یہ ماخوذ ہے «صلی» سے، جس کے معنی ہیں جھک جانا اور لازم ہو جانا۔
جیسے قرآن میں آیت «لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى» ۲؎ [92-الليل:15] الخ یعنی ’جہنم میں ہمیشہ نہ رہے گا مگر بدبخت‘۔
بعض علماء کا قول ہے کہ جب لکڑی کو درست کرنے کے لیے آگ پر رکھتے ہیں تو عرب «تصلیہ» کہتے ہیں چونکہ نمازی بھی اپنے نفس کی کجی کو نماز سے درست کرتا ہے اس لیے اسے «صلوٰۃ» کہتے ہیں۔
جیسے قرآن میں ہے: «إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ» ۳؎ [29-العنكبوت:45] الخ یعنی ’نماز ہر بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے‘ لیکن اس کا دعا کے معنی میں ہونا ہی زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» لفظ زکوٰۃ کی بحث «ان شاءاللہ تعالیٰ» اور جگہ آئے گی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الذين يؤمنون بالغيب} حقيقة الإيمان هو التصديق التام بما أخبرت به الرسل، المتضمن لانقياد الجوارح، وليس الشأن في الإيمان بالأشياء المشاهدة بالحسِّ، فإنه لا يتميز بها المسلم من الكافر، إنما الشأنُ في الإيمان بالغيب الذي لم نره ولم نشاهده، وإنما نؤمن به لخبر الله وخبر رسوله.
فهذا الإيمان الذي يميز به المسلم من الكافر؛ لأنه تصديق مجرد لله ورسله، فالمؤمن يؤمن بكل ما أخبر الله به، أو أخبر به رسوله سواء شاهده أو لم يشاهده، وسواء فهمه وعقله، أو لم يهتدِ إليه عقله وفهمه، بخلاف الزنادقة المكذبين بالأمور الغيبية لأن عقولهم القاصرة المقصرة لم تهتدِ إليها فكذبوا بما لم يحيطوا بعلمه؛ ففسدت عقولهم، ومرجت أحلامهم؛ وزكت عقول المؤمنين المصدقين المهتدين بهدى الله.
ويدخل في الإيمان بالغيب الإيمان بجميع ما أخبر الله به من الغيوب الماضية والمستقبلة وأحوال الآخرة وحقائق أوصاف الله وكيفيتها وما أخبرت به الرسل من ذلك، فيؤمنون بصفات الله ووجودها، ويتيقنونها وإن لم يفهموا كيفيتها.
ثم قال: {ويقيمون الصلاة} لم يقل: يفعلون الصلاة؛ أو يأتون بالصلاة لأنه لا يكفي فيها مجرد الإتيان بصورتها الظاهرة، فإقامة الصلاة، إقامتها ظاهراً، بإتمام أركانها وواجباتها وشروطها، وإقامتها باطناً ، بإقامة روحها وهو حضور القلب فيها وتدبر ما يقول ويفعله منها، فهذه الصلاة هي التي قال الله فيها: {إن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر} وهي التي يترتب عليها الثواب، فلا ثواب للعبد من صلاته إلا ما عقل منها، ويدخل في الصلاة فرائضها ونوافلها.
ثم قال: {ومما رزقناهم ينفقون} يدخل فيه النفقات الواجبة؛ كالزكاة، والنفقة على الزوجات والأقارب والمماليك ونحو ذلك، والنفقات المستحبة بجميع طرق الخير، ولم يذكر المنفَق عليه لكثرة أسبابه وتنوع أهله، ولأن النفقة من حيث هي قربة إلى الله، وأتى «بِمِن» الدالة على التبعيض؛ لينبههم أنه لم يرد منهم إلا جزءاً يسيراً من أموالهم غير ضار لهم، ولا مثقل بل ينتفعون هم بإنفاقه، وينتفع به إخوانهم، وفي قوله: {رزقناهم} إشارة إلى أن هذه الأموال التي بين أيديكم ليست حاصلة بقوتكم وملككم، وإنما هي رزق الله الذي خوّلكم وأنعم به عليكم، فكما أنعم عليكم وفضلكم على كثير من عباده فاشكروه بإخراج بعض ما أنعم به عليكم، وواسوا إخوانكم المعدمين.
وكثيراً ما يجمع تعالى بين الصلاة والزكاة في القرآن؛ لأن الصلاة متضمنة للإخلاص للمعبود، والزكاة والنفقة متضمنة للإحسان على عبيده؛ فعنوان سعادة العبد إخلاصه للمعبود وسعيه في نفع الخلق، كما أن عنوان شقاوة العبد عدم هذين الأمرين منه فلا إخلاص ولا إحسان.