تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ﴾ اور﴿وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے پھر اس کے بعد رسول دوسرے لوگوں کو اپنی رسالت پر ایمان لانے اور منزل من اللہ احکام کو بجا لانے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر جو لوگ بھی رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے سے پہلے کے رسولوں اور پہلی نازل شدہ کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ ایمان اجمالی ہوتا ہے تفصیلی نہیں ہوتا۔ کیونکہ نیا رسول آتا ہی اس وقت ہے جب سابقہ رسول کی کتاب میں تحریف و تاویل کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو مسخ کر دیا جاتا یا کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے۔ گویا اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تفصیلی ایمان لانا ضروری ہے۔ اور آپ پر تفصیلی ایمان کا مطلب آپ پر منزل من اللہ شریعت کے ایک ایک جزء کو واجب الاتباع سمجھنا اور اس کے مطابق عمل پیرا ہونا اور اپنی زندگی کو اس سانچہ میں ڈھالنا ہے اور سابقہ کتابوں پر اجمالی ایمان کا مطلب ہے کہ ان کتابوں میں جو باتیں شریعت اسلامیہ کے مطابق ہیں انہیں منزل من اللہ سمجھا جائے۔ اور جو مخالف ہیں انہیں لوگوں کا اضافہ یا تحریف سمجھا جائے اور جو باتیں نہ مطابق ہوں اور نہ مخالف، ان کی نہ تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔
﴿اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ .....﴾
انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت کس لحاظ سے؟ پھر جس طرح تمام انسان، انسان ہونے کے لحاظ سے ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان میں کچھ اچھے اور کچھ برے، کوئی عادل، کوئی ظالم، کوئی مشرک، کوئی موحد غرضیکہ ان کی بے شمار اقسام بن جاتی ہیں۔ اسی طرح تمام مسلمان، مسلمان ہونے کے لحاظ سے یا بالفاظ دیگر قانونی لحاظ سے تو ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان کے اعمال صالحہ اور غیر صالحہ کی بنا پر ان کی کئی اقسام بن جاتی ہیں، بعینہ اسی طرح تمام انبیاء اگرچہ نبوت کے لحاظ سے ایک سطح پر ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ مگر فضائل کے لحاظ سے ان میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ فرق قرآن کریم کی اس آیت:
﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَليٰ بَعْضٍ﴾
سے ثابت ہے، اور بے شمار احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند میں ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں، [مسند احمد:147/4:صحیح لغیرہ] ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، میں سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی، [مسند احمد:383/5:صحیح] ابن مردویہ میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے، یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں، [ابن الضریس فی فضائل القرآن:169:موقوف]
اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورۃ البقرہ ختم کی، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جا سکتا۔ [سنن ترمذي:2882، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا، اس سے ایک فرشتہ اترا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی مبارک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:805:صحیح] پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں۔
خاتم الانبیاء و مرسلین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الٰہی ہمیں تسلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن۔
اے اللہ عز و جل ہم پر مشکل اور سخت اعمال کی مشقت نہ ڈال جیسے اگلے دین والوں پر سخت سخت احکام تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی رحمت بنا کر بھیج کر دور کیے گئے اور آپ کو ہر طرح سہولت اور آسانی دی گئی اسے بھی پروردگار نے قبول فرمایا، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ [خطیب:209/7:صحیح بالشواھد]
اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو، حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1235/3] اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو، اس لیے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا۔ تو ہمارا ولی و ناصر ہے، تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں، تو ہی ہمارا سہارا ہے، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے، تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں۔
اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کر دینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:146/6]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثبت عنه - صلى الله عليه وسلم - أن من قرأ هاتين الآيتين في ليلة كفتاه ؛ أي: من جميع الشرور، وذلك لما احتوتا عليه من المعاني الجليلة، فإن الله أمر في أول هذه السورة الناس بالإيمان بجميع أصوله في قوله: {قولوا آمنا بالله وما أنزل إلينا}؛ الآية، وأخبر في هذه الآية أن الرسول - صلى الله عليه وسلم - ومن معه من المؤمنين آمنوا بهذه الأصول العظيمة وبجميع الرسل وجميع الكتب، ولم يصنعوا صنيع من آمن ببعض وكفر ببعض كحالة المنحرفين من أهل الأديان المنحرفة. وفي قرن المؤمنين بالرسول - صلى الله عليه وسلم - والإخبار عنهم جميعاً بخبر واحد شرف عظيم للمؤمنين، وفيه أنه - صلى الله عليه وسلم - مشارك للأمة في توجه الخطاب الشرعي له وقيامه التام به وأنه فاق المؤمنين بل فاق جميع المرسلين في القيام بالإيمان وحقوقه.
وقوله: {وقالوا سمعنا وأطعنا}؛ هذا التزام من المؤمنين عام لجميع ما جاء به النبي - صلى الله عليه وسلم - من الكتاب والسنة، وأنهم سمعوه سماع قبول وإذعان وانقياد. ومضمون ذلك تضرعهم إلى الله في طلب الإعانة على القيام به وأن الله يغفر لهم ما قصروا فيه من الواجبات وما ارتكبوه من المحرمات، وكذلك تضرعوا إلى الله في هذه الأدعية النافعة، والله تعالى قد أجاب دعاءهم على لسان نبيه - صلى الله عليه وسلم - فقال: «قد فعلت».
فهذه الدعوات مقبولة من مجموع المؤمنين قطعاً ومن أفرادهم إذا لم يمنع من ذلك مانع في الأفراد، وذلك أن الله رفع عنهم المؤاخذة في الخطأ والنسيان وأن الله سهل عليهم شرعه غاية التسهيل، ولم يحملهم من المشاق والآصار والأغلال ما حمله على من قبلهم، ولم يحملهم فوق طاقتهم، وقد غفر لهم ورحمهم ونصرهم على القوم الكافرين. فنسأل الله تعالى بأسمائه وصفاته وبما منَّ به علينا من التزام دينه أن يحقق لنا ذلك وأن ينجز لنا ما وعدنا على لسان نبيه، وأن يصلح أحوال المؤمنين.
ويؤخذ من هذا قاعدة التيسير ونفي الحرج في أمور الدين كلها، وقاعدة العفو عن النسيان والخطأ في العبادات وفي حقوق الله تعالى، وكذلك في حقوق الخلق من جهة رفع المأثم وتوجيه الذم، وأما وجوب ضمان المتلفات خطأً أو نسياناً في النفوس والأموال فإنه مرتب على الإتلاف بغير حق، وذلك شامل لحالة الخطأ والنسيان والعمد.
تم تفسير سورة البقرة. ولله الحمد والثناء. وصلى الله على محمد وسلم.