لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِی الۡاَرۡضِ ۫ یَحۡسَبُہُمُ الۡجَاہِلُ اَغۡنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعۡرِفُہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ لَا یَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۷۳﴾٪
(یہ صدقات) ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے، ناواقف انھیں سوال سے بچنے کی وجہ سے مال دار سمجھتا ہے، تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے، اور تم خیر میں سے جو خرچ کرو گے سو یقینا اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔
En
(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے
En
صدقات کے مستحق صرف وه غربا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 273) اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب کے بعد اب خاص طور پر کچھ لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جو سب سے زیادہ مدد اور مالی تعاون کے حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں اور یہ ساری صفات اصحابِ صفہ میں پائی جاتی تھیں، اس لیے اس آیت کے سب سے پہلے مصداق وہی ہیں، پھر قیامت تک جو لوگ بھی ان صفات کے حامل ہوں گے وہ سب سے زیادہ مالی تعاون کے حق دار ہوں گے، اب آپ وہ صفات ملاحظہ فرمائیں:
(1){ ”لِلْفُقَرَآءِ“ } یہاں ان کے فقر کا سبب بیان نہیں فرمایا، سورۂ حشر میں بیان فرمایا ہے: «لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ» [الحشر: ۸] ”(یہ مال) ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال باہر کیے گئے۔“ اب وہ خالی ہاتھ تھے، نہ ان کے پاس مال تھا نہ گھر۔ ان کے لیے مسجد نبوی میں ایک صفہ بنادیا گیا۔ ان کی تعداد چار سو تھی جو غزوات اور مہموں پر بھیجنے کی وجہ سے کم زیادہ ہوتی رہتی تھی۔
(2) { ”الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ } احصار لغت میں یہ ہے کہ آدمی جو کام کرنا چاہتا ہے اس کے کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش آ جائے، مثلاً کوئی بیماری، بڑھاپا، خرچ نہ ہونا یا کوئی دشمن وغیرہ۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں، یعنی جہاد اور طلب علم نے انھیں کمائی کرنے سے روک دیا ہے، وہ منتظر بیٹھے ہیں کہ کب حکم ہو اور وہ جہاد کے لیے نکلیں۔ یہ لوگ اللہ کی خاطر گھر سے نکلے، اللہ کی خاطر مال مویشی چھوڑ کر فقر اختیار کیا اور اب اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں وقف کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی جو مجاہد یا دین کے طالب علم کاروبار یا ملازمت کے بجائے اپنے آپ کو جہاد اور دینی علوم کے حصول کے لیے روکے ہوئے ہیں، ان پر خرچ کرنا اولین فریضہ ہے۔
(3) { ”لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ“ } یعنی جہاد اور طلب علم کی وجہ سے وہ سفر نہیں کر سکتے۔
(4) { ”يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ“ } یعنی ان کی بے نیازی، عزتِ نفس اور سوال سے بچنے کی وجہ سے ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ وہ غنی ہیں۔ بندہ(عبد السلام) عرض کرتا ہے کہ میرے والد حافظ محمد ابوالقاسم رحمہ اللہ نے مجھے اپنے طالب علمی کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ وہ ان دنوں فیروز پور کے ایک گاؤں ”لکھوکی “ میں پڑھتے تھے، والد فوت ہو چکے تھے، گھر میں غربت تھی اور سردی کے موسم میں قمیص بھی نہیں تھی۔ فرماتے تھے کہ میں نے وہ چھ ماہ قمیص کے بغیر دوہر (دوہرا کھیس) لپیٹ کر گزار دیے، کسی کو پتا تک نہیں چلنے دیا کہ میرے پاس قمیص نہیں، پھر والدہ نے روئی وغیرہ کی چنائی سے حاصل ہونے والی کچھ رقم بھیجی تو انھوں نے قمیص بنائی۔ [اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمَھْدِیِّیْنَ]
(5) { ”تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰىهُم“ } تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ بھوک کی وجہ سے کمزوری اور چہرے کی زردی سے تم ان کا فقر پہچان لو گے، مگر یہ معنی ہو تو یہ تو ناواقف بھی پہچان لیتا ہے، اس لیے اس کا مطلب چہرے کا نور اور وہ رونق ہے جو ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ان کے چہرے پر نمایاں تھی، جیسا کہ فرمایا: «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [الفتح: ۳۹] ”ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔“ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کی ایک خاص رونق سے پہچانے جاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر۔
(6) { ”لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا“ } وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ بظاہر اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سوال تو کرتے ہیں مگر لوگوں سے لپٹ کر نہیں، مگر یہ معنی درست نہیں، کیونکہ اگر یہ معنی ہو تو پچھلے دونوں جملے بے مقصد ٹھہرتے ہیں، کیونکہ جب سوال کر لیا تو تعفف (سوال سے بچنا) کہاں رہا اور پھر پہچان کے لیے چہرے کی علامت پر غور کی کیا ضرورت ہے، فقر کا اظہار تو ان کے سوال ہی سے ہو گیا، اس لیے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ نہ وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں نہ لپٹتے ہیں۔ یہاں { ”لَا“ } صرف {”يَسْـَٔلُوْنَ“} پر نہیں بلکہ { ”اِلْحَافًا“ } پر بھی ہے۔ دراصل یہ بھکاریوں کی عادت کی مذمت ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں، مگر ہمارے یہ فقراء ایسا نہیں کرتے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو کہے میرا باپ نامی گرامی چور نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چور تو تھا مگر نامی گرامی نہیں، بلکہ وہ دوسرے آدمی کو تعریض کر رہا ہے کہ تمھارا باپ ایسا تھا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلاَ اللَّعَّانِ] ”مومن بہت طعن کرنے والا اور بہت لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔“ [ترمذی، البروالصلۃ، باب ما جاء فی اللعنۃ: ۱۹۷۷، عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ و صححہ الألبانی] اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ تھوڑا طعن اور تھوڑی لعنت کر لیتا ہے، نہیں بلکہ تعریض ہے کہ کافر ایسا ہوتا ہے مومن نہیں۔ اس کی دلیل ایک اور حدیث سے ملاحظہ فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا رہتا ہے، اسے ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں دے دی جاتی ہیں تو آگے چل پڑتا ہے، لیکن مسکین وہ ہے جو نہ تو اتنا مال رکھتا ہے جو اسے غنی کر دے اور نہ اس کا پتا چلتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔“ [بخاری، الزکاۃ، باب قول اللہ عزوجل: «للفقراء الذین احصروا …» : ۱۴۷۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کی بہت مذمت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہو گی۔“ [بخاری، الزکوٰۃ، باب من سأل الناس تکثرًا: ۱۴۷۴، عن ابن عمررضی اللہ عنہما]
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ سے خاص طور پر اس بات کی بیعت لی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے اور پانچ نمازیں پڑھیں گے اور اطاعت کریں گے اور ایک خفیہ بات چھپا کر کہی کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا۔ عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پھر میں نے ان آدمیوں میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا گر پڑتا تو وہ کسی سے سوال نہ کرتا کہ اسے پکڑا دے۔“ [مسلم، الزکٰوۃ، باب کراھۃ مسئلۃ الناس: ۱۰۴۳] البتہ مجبوری کی بات الگ ہے کہ مجبوری میں تو خنزیر کھانے کی بھی اجازت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین آدمیوں کے لیے سوال کی اجازت دی ہے، ایک وہ جس نے (کسی دیت کی ادائیگی یا کسی کا تاوان اٹھانے کی) کوئی ضمانت اٹھائی ہو، دوسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچے اور اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی اسے فاقہ پہنچنے کی شہادت دیں، تیسرا وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچے جو اس کا سارا مال برباد کر دے۔ ان تینوں کو ضرورت پوری ہونے تک سوال کی اجازت ہے، ضرورت پوری ہو جائے تو مانگنا چھوڑ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! ان کے سوا جو سوال بھی ہے حرام ہے، سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [مسلم، الزکاۃ، باب من تحل لہ المسئلۃ: ۱۰۴۴، عن قبیصۃ بن مخارق رضی اللہ عنہ]
(1){ ”لِلْفُقَرَآءِ“ } یہاں ان کے فقر کا سبب بیان نہیں فرمایا، سورۂ حشر میں بیان فرمایا ہے: «لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ» [الحشر: ۸] ”(یہ مال) ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال باہر کیے گئے۔“ اب وہ خالی ہاتھ تھے، نہ ان کے پاس مال تھا نہ گھر۔ ان کے لیے مسجد نبوی میں ایک صفہ بنادیا گیا۔ ان کی تعداد چار سو تھی جو غزوات اور مہموں پر بھیجنے کی وجہ سے کم زیادہ ہوتی رہتی تھی۔
(2) { ”الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ } احصار لغت میں یہ ہے کہ آدمی جو کام کرنا چاہتا ہے اس کے کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش آ جائے، مثلاً کوئی بیماری، بڑھاپا، خرچ نہ ہونا یا کوئی دشمن وغیرہ۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں، یعنی جہاد اور طلب علم نے انھیں کمائی کرنے سے روک دیا ہے، وہ منتظر بیٹھے ہیں کہ کب حکم ہو اور وہ جہاد کے لیے نکلیں۔ یہ لوگ اللہ کی خاطر گھر سے نکلے، اللہ کی خاطر مال مویشی چھوڑ کر فقر اختیار کیا اور اب اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں وقف کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی جو مجاہد یا دین کے طالب علم کاروبار یا ملازمت کے بجائے اپنے آپ کو جہاد اور دینی علوم کے حصول کے لیے روکے ہوئے ہیں، ان پر خرچ کرنا اولین فریضہ ہے۔
(3) { ”لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ“ } یعنی جہاد اور طلب علم کی وجہ سے وہ سفر نہیں کر سکتے۔
(4) { ”يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ“ } یعنی ان کی بے نیازی، عزتِ نفس اور سوال سے بچنے کی وجہ سے ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ وہ غنی ہیں۔ بندہ(عبد السلام) عرض کرتا ہے کہ میرے والد حافظ محمد ابوالقاسم رحمہ اللہ نے مجھے اپنے طالب علمی کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ وہ ان دنوں فیروز پور کے ایک گاؤں ”لکھوکی “ میں پڑھتے تھے، والد فوت ہو چکے تھے، گھر میں غربت تھی اور سردی کے موسم میں قمیص بھی نہیں تھی۔ فرماتے تھے کہ میں نے وہ چھ ماہ قمیص کے بغیر دوہر (دوہرا کھیس) لپیٹ کر گزار دیے، کسی کو پتا تک نہیں چلنے دیا کہ میرے پاس قمیص نہیں، پھر والدہ نے روئی وغیرہ کی چنائی سے حاصل ہونے والی کچھ رقم بھیجی تو انھوں نے قمیص بنائی۔ [اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمَھْدِیِّیْنَ]
(5) { ”تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰىهُم“ } تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ بھوک کی وجہ سے کمزوری اور چہرے کی زردی سے تم ان کا فقر پہچان لو گے، مگر یہ معنی ہو تو یہ تو ناواقف بھی پہچان لیتا ہے، اس لیے اس کا مطلب چہرے کا نور اور وہ رونق ہے جو ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ان کے چہرے پر نمایاں تھی، جیسا کہ فرمایا: «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [الفتح: ۳۹] ”ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔“ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کی ایک خاص رونق سے پہچانے جاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر۔
(6) { ”لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا“ } وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ بظاہر اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سوال تو کرتے ہیں مگر لوگوں سے لپٹ کر نہیں، مگر یہ معنی درست نہیں، کیونکہ اگر یہ معنی ہو تو پچھلے دونوں جملے بے مقصد ٹھہرتے ہیں، کیونکہ جب سوال کر لیا تو تعفف (سوال سے بچنا) کہاں رہا اور پھر پہچان کے لیے چہرے کی علامت پر غور کی کیا ضرورت ہے، فقر کا اظہار تو ان کے سوال ہی سے ہو گیا، اس لیے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ نہ وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں نہ لپٹتے ہیں۔ یہاں { ”لَا“ } صرف {”يَسْـَٔلُوْنَ“} پر نہیں بلکہ { ”اِلْحَافًا“ } پر بھی ہے۔ دراصل یہ بھکاریوں کی عادت کی مذمت ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں، مگر ہمارے یہ فقراء ایسا نہیں کرتے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو کہے میرا باپ نامی گرامی چور نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چور تو تھا مگر نامی گرامی نہیں، بلکہ وہ دوسرے آدمی کو تعریض کر رہا ہے کہ تمھارا باپ ایسا تھا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلاَ اللَّعَّانِ] ”مومن بہت طعن کرنے والا اور بہت لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔“ [ترمذی، البروالصلۃ، باب ما جاء فی اللعنۃ: ۱۹۷۷، عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ و صححہ الألبانی] اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ تھوڑا طعن اور تھوڑی لعنت کر لیتا ہے، نہیں بلکہ تعریض ہے کہ کافر ایسا ہوتا ہے مومن نہیں۔ اس کی دلیل ایک اور حدیث سے ملاحظہ فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا رہتا ہے، اسے ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں دے دی جاتی ہیں تو آگے چل پڑتا ہے، لیکن مسکین وہ ہے جو نہ تو اتنا مال رکھتا ہے جو اسے غنی کر دے اور نہ اس کا پتا چلتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔“ [بخاری، الزکاۃ، باب قول اللہ عزوجل: «للفقراء الذین احصروا …» : ۱۴۷۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کی بہت مذمت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہو گی۔“ [بخاری، الزکوٰۃ، باب من سأل الناس تکثرًا: ۱۴۷۴، عن ابن عمررضی اللہ عنہما]
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ سے خاص طور پر اس بات کی بیعت لی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے اور پانچ نمازیں پڑھیں گے اور اطاعت کریں گے اور ایک خفیہ بات چھپا کر کہی کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا۔ عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پھر میں نے ان آدمیوں میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا گر پڑتا تو وہ کسی سے سوال نہ کرتا کہ اسے پکڑا دے۔“ [مسلم، الزکٰوۃ، باب کراھۃ مسئلۃ الناس: ۱۰۴۳] البتہ مجبوری کی بات الگ ہے کہ مجبوری میں تو خنزیر کھانے کی بھی اجازت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین آدمیوں کے لیے سوال کی اجازت دی ہے، ایک وہ جس نے (کسی دیت کی ادائیگی یا کسی کا تاوان اٹھانے کی) کوئی ضمانت اٹھائی ہو، دوسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچے اور اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی اسے فاقہ پہنچنے کی شہادت دیں، تیسرا وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچے جو اس کا سارا مال برباد کر دے۔ ان تینوں کو ضرورت پوری ہونے تک سوال کی اجازت ہے، ضرورت پوری ہو جائے تو مانگنا چھوڑ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! ان کے سوا جو سوال بھی ہے حرام ہے، سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [مسلم، الزکاۃ، باب من تحل لہ المسئلۃ: ۱۰۴۴، عن قبیصۃ بن مخارق رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
273۔ 1 اس سے مراد مہاجرین ہیں جو مکہ سے مدینہ آئے اور اللہ کے راستے میں ہر چیز سے کٹ گئے دینی علوم حاصل کرنے والے طلباء اور علماء بھی اس کی ذیل میں آسکتے ہیں۔ 273۔ 2 گویا اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقرو غربت کے باوجود (سوال سے بچنا) اختیار کرتے اور چمٹ کر سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض نے الحاف کے معنی کئے ہیں بلکل سوال نہ کرنا کیونکہ ان کی پہلی صفت عفت بیان کی گئی ہے۔ (فتح القدیر) اور بعض نے کہا کہ وہ سوال میں آہو زاری نہیں کرتے اور جس چیز کی انہیں ضرورت نہیں ہے اسے لوگوں سے طلب نہیں کرتے۔ اس لئے الحاف یہ ہے کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود (بطور پیشہ) لوگوں سے مانگے اس لئے پیشہ ور گداگروں کے بجائے، مہاجرین، دین کے طلباء اور سفید پوش ضرورت مندوں کا پتہ لگا کر ان کی امداد کرنی چاہیے جو سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا انسان کی عزت نفس اور خوداری کے خلاف ہے۔ اور بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ ہمیشہ لوگوں سے سوال کرنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن گوشت نہیں ہوگا۔ (بحوالہ مشکوۃ کتاب الزکاۃ باب من لا تحل لہ المسئلۃ ومن تحل لہ)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
273۔ یہ صدقات ایسے محتاجوں کے لیے جو اللہ کی راہ میں ایسے [389] گھر گئے ہیں کہ (وہ اپنی معاش کے لیے) زمین میں چل پھر بھی نہیں سکتے۔ ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے ناواقف لوگ انہیں خوشحال سمجھتے ہیں۔ آپ ان کے چہروں سے ان کی کیفیت پہچان سکتے ہیں مگر وہ لوگوں سے لپٹ [390] کر سوال نہیں کرتے (ان پر) جو مال بھی تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ یقیناً اسے جاننے والا ہے
[389] یعنی جن لوگوں نے اپنے آپ کو دین کے علم کے لیے خواہ وہ سیکھ رہے ہوں یا سکھلا رہے ہوں یا دوسرے امور کے لیے وقف کر رکھا ہے اور وہ محتاج ہیں، جیسے دور نبوی میں اصحاب صفہ تھے یا وہ لوگ جو جہاد میں مصروف ہیں یا ان کے بال بچوں کی نگہداشت پر اور ایسے ہی دوسرے لوگوں پر صدقات خرچ کئے جائیں۔ [390] ضمناً اس آیت سے سوال نہ کرنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔ اس سلسلہ میں چند احادیث نبوی ملاحظہ ہوں:
سوال کرنے سے پرہیز:۔
1۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سوال سے بچے اللہ بھی اسے بچائے گا اور جو کوئی (دنیا سے) بے پروائی کرے گا۔ اللہ اسے بے پروا کر دے گا اور جو کوئی کوشش سے صبر کرے گا اللہ اسے صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور کشادہ تر کسی کو کوئی نعمت نہیں ملی۔“ [بخاري كتاب الزكوٰة، باب الاستعفاف عن المسئلة]
2۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ جا کر کسی سے سوال کرے اور وہ اسے دے یا نہ دے۔“ [بخاري۔ حواله ايضاً]
3۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوالی جو ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہو گی۔ [بخاري، كتاب الزكوٰة باب من سأل الناس تكثرا]
2۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ جا کر کسی سے سوال کرے اور وہ اسے دے یا نہ دے۔“ [بخاري۔ حواله ايضاً]
3۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوالی جو ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہو گی۔ [بخاري، كتاب الزكوٰة باب من سأل الناس تكثرا]
محنت کی عظمت اور آپﷺ کا انداز تربیت:۔
4۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو منبر پر صدقہ اور سوال سے بچنے کے لیے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔“ [ابو داؤد، كتاب الزكوٰة، باب ما تجوز فيه المسئلة]
5۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگ رہا ہے۔ اب چاہے تو وہ کم کرے یا زیادہ اکٹھے کر لے۔“ [مسلم، كتاب الزكوٰة، باب النهي عن المسئلة]
5۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگ رہا ہے۔ اب چاہے تو وہ کم کرے یا زیادہ اکٹھے کر لے۔“ [مسلم، كتاب الزكوٰة، باب النهي عن المسئلة]
نیلامی کی مشروعیت:۔
6۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آپ کے پاس آ کر سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا ”تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے؟“ وہ کہنے لگا: ہاں ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔“ وہ لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہاتھ میں لے کر فرمایا: کون ان دونوں چیزوں کو خریدتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: ”میں ایک درہم میں لیتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟“ اور آپ نے یہ بات دو تین بار دہرائی تو ایک آدمی کہنے لگا: ”میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہم لے کر وہ چیزیں اس آدمی کو دے دیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری کو ایک درہم دے کر فرمایا: ”اس کا گھر والوں کے لیے کھانا خرید اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔“ جب وہ کلہاڑی لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس میں لکڑی کا دستہ ٹھونکا پھر اسے فرمایا: ”جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یہاں لا کر بیچا کرو اور پندرہ دن کے بعد میرے پاس آنا۔“ پندرہ دن میں اس شخص نے دس درہم کمائے۔ چند درہموں کا کپڑا خریدا اور چند کا کھانا اور آسودہ حال ہو گیا پندرہ دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے اس چیز سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے کی وجہ سے تیرے چہرے پر برا نشان ہو“ [نسائي، كتاب الزكوٰة، باب فضل من لايسئل الناس شيأ]
محنت کی عظمت اور آپﷺ کا انداز تزکیہ نفس:۔
اب دیکھئے کہ جس شخص کے گھر کا اثاثہ ایک ٹاٹ اور پیالہ ہو کیا اس کے محتاج ہونے میں کچھ شک رہ جاتا ہے؟ لیکن چونکہ وہ معذور نہیں بلکہ قوی اور کمانے کے قابل تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دینے کے بجائے دوسری راہ تجویز فرمائی، پھر اسے عزت نفس کا سبق دے کر کسب حلال اور محنت کی عظمت و اہمیت بتلائی۔ جس سے وہ چند دنوں میں آسودہ حال ہو گیا، یہ تھا آپ کا انداز تربیت و تزکیہ نفس۔
7۔ حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو مجھے یہ ضمانت دے کہ کبھی کسی سے سوال نہ کرے گا تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ”ثوبانؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں۔“ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے کبھی کسی سے سوال نہ کیا۔ [نسائي، كتاب الزكوٰة، باب فضل من لا يسئل الناس شيأ]
8۔ عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علیؓ نے سنا تو اسے کہنے لگے: ”آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟“ پھر اسے درے سے پیٹا۔ [احمد بحواله مشكوٰة باب من لايحل له المسئله فصل ثالث]
9۔ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں صدقہ کا مال تقسیم فرما رہے تھے دو آدمی آپ کے پاس آئے اور آپ سے صدقہ کا سوال کیا۔ وہ خود کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر نگاہ نیچی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قوی اور طاقتور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ کے مال میں مالدار اور قوی کا کوئی حصہ نہیں جو کما سکتا ہو۔“ [ابو داؤد، نسائي، كتاب الزكوٰة، باب مسئلة القوي المكتسب]
10۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر صدقہ کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”صدقات کی تقسیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نبی یا کسی دوسرے کے حکم پر راضی نہیں ہوا بلکہ خود ہی اس کو آٹھ مدات پر تقسیم کر دیا ہے۔ اب اگر تو بھی ان میں شمار ہوتا ہے تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔“ [حواله ايضاً]
7۔ حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو مجھے یہ ضمانت دے کہ کبھی کسی سے سوال نہ کرے گا تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ”ثوبانؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں۔“ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے کبھی کسی سے سوال نہ کیا۔ [نسائي، كتاب الزكوٰة، باب فضل من لا يسئل الناس شيأ]
8۔ عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علیؓ نے سنا تو اسے کہنے لگے: ”آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟“ پھر اسے درے سے پیٹا۔ [احمد بحواله مشكوٰة باب من لايحل له المسئله فصل ثالث]
9۔ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں صدقہ کا مال تقسیم فرما رہے تھے دو آدمی آپ کے پاس آئے اور آپ سے صدقہ کا سوال کیا۔ وہ خود کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر نگاہ نیچی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قوی اور طاقتور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ کے مال میں مالدار اور قوی کا کوئی حصہ نہیں جو کما سکتا ہو۔“ [ابو داؤد، نسائي، كتاب الزكوٰة، باب مسئلة القوي المكتسب]
10۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر صدقہ کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”صدقات کی تقسیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نبی یا کسی دوسرے کے حکم پر راضی نہیں ہوا بلکہ خود ہی اس کو آٹھ مدات پر تقسیم کر دیا ہے۔ اب اگر تو بھی ان میں شمار ہوتا ہے تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔“ [حواله ايضاً]
سوال کرنا کیسے لوگوں کے لیے جائز ہے:
11۔ حضرت قبیصہ بن مخارقؓ کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں ٹھہرو تا آنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے۔ پھر ہم تیرے لیے کچھ کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا: قبیصہ! تین شخصوں کے علاوہ کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑ جائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے۔ دوسرے وہ جسے ایسی آفت پہنچے کہ اس کا سارا مال تباہ کر دے وہ اس حد تک مانگ سکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے اور تیسرے وہ شخص جس کو فاقہ کی نوبت آ گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معتبر شخص اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے اسے سوال کرنا جائز ہے تا آنکہ اس کی محتاجی دور ہو جائے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ ان تین قسم کے آدمیوں کے سوا کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اور ان کے سوا جو شخص سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھا رہا ہے۔ [مسلم، كتاب الزكوٰة باب من لايحل له المسئله]
12۔ عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ پانچ نمازیں ادا کرو اور اللہ کی فرمانبرداری کرو“ اور ایک بات چپکے سے کہی کہ ”لوگوں سے کچھ نہ مانگنا۔“ پھر میں نے ان میں بعض افراد کو دیکھا کہ اگر اونٹ سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں پکڑا دے۔ [كتاب الزكوٰة باب النهي عن المسئلة]
12۔ عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ پانچ نمازیں ادا کرو اور اللہ کی فرمانبرداری کرو“ اور ایک بات چپکے سے کہی کہ ”لوگوں سے کچھ نہ مانگنا۔“ پھر میں نے ان میں بعض افراد کو دیکھا کہ اگر اونٹ سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں پکڑا دے۔ [كتاب الزكوٰة باب النهي عن المسئلة]
حکیم بن حزام کا سرکاری وظیفہ بھی قبول نہ کرنا:۔
13۔ حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا۔ پھر ایک دفعہ مانگا تو آپ نے دیا۔ پھر فرمایا: ”اے حکیم! یہ دنیا کا مال دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں میٹھا ہے لیکن جو اسے سیر چشمی سے لے اس کو تو برکت ہو گی اور جو جان لڑا کر حرص کے ساتھ لے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نچلے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہوتا ہے۔“ حکیم کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ میں آج کے بعد مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔“ (پھر آپ کا یہ حال رہا کہ) حضرت ابو بکر صدیقؓ آپ کو سالانہ وظیفہ دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔ حضرت عمرؓ نے بھی اپنے دور خلافت میں انہیں وظیفہ دینے کے لیے بلایا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ حضرت عمرؓ حاضرین سے کہنے لگے: ”لوگو! تم گواہ رہنا میں حکیم کو اس کا حق جو غنائم کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں اور وہ نہیں لیتا۔“ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہوئے عہد کا اتنا پاس تھا کہ انہوں نے تا حین حیات سوال تو درکنار کسی سے کوئی بھی چیز قبول نہیں کی۔ [بخاري، كتاب الوصايا، باب تاويل قول اللّٰه تعالىٰ من بعد وصيه توصون بها اودين]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مستحق صدقات کون ہیں ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، [تفسیر ابن جریر الطبری:6202] فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہر سائل کو دو، گو وہ کسی مذہب کا ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6199]
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا والی روایت آیت «لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ» [60-سورة الممتحنة: 8] کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لیے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَيْهَا» [45۔ الجاثیہ: 15] اور «مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ» [41-فصلت: 46] اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پئے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1115/3] عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دِیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:1113/3] یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے، حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کر لی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لیے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی۔
اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا کہ ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا، اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہو گئے۔ شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رُک جائے اور شاید مالدار کو عبرت حاصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔ [صحیح بخاری:1421]
پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کر کے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا مندی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کر سکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں «ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ» کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ» [4-النسأ: 101] اور «يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [73۔ المزمل: 20] میں ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہو جائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں۔ [صحیح بخاری:1479] تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں۔
جیسے اور جگہ ہے «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [48۔ الفتح: 29] ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں اور فرمایا «وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ» [47۔ محمد: 30] ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مومن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، [سنن ترمذي:3127، قال الشيخ الألباني:ضعیف] سنو قرآن کا فرمان ہے «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ» [45۔ الحجر: 75] بالیقین اس میں اہل بصیرت کیلئے نشانیاں ہیں، یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں۔
دیکھو قرآن کہتا ہے «لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا» [2۔ البقرہ: 273] یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے، قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کر لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے کہ جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بے نیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے، میں نے اپنے دِل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا۔ [مسند احمد:138/4:صحیح] اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما کا ہے۔
اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، [مسند احمد:9/3-44:حسن] ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، [مسند احمد:9/3-44:حسن] ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم بنا ہو گا اس کا منہ نچا ہوا ہو گا، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کتنا پاس ہو تو؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا، [سنن ابوداود:1626، قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ضعیف ہے، شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ضرورت مند ہیں تو تین سو گنیاں انہیں بھجوائیں، آپ رضی اللہ عنہما خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور دو غلام بھی ہیں۔ [طبرانی کبیر:150/2] ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔ [سنن نسائی:2595، قال الشيخ الألباني:حسن بالشواھد]
پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہو گئے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے سال جبکہ آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی عیادت کو گئے تو فرمایا ایک روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع والے سال فرمایا تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی، [صحیح بخاری:6733:صحیح]
مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، [مسند احمد:120/4:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں ۔ [طبرانی کبیر:188/17:ضعیف جداً]] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے، جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، [میزان الاعتدال:682/2:ضعیف جداً] یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، [طبرانی:11164:ضعیف جداً] اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بے غم ہیں۔
مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، [مسند احمد:120/4:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں ۔ [طبرانی کبیر:188/17:ضعیف جداً]] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے، جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، [میزان الاعتدال:682/2:ضعیف جداً] یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، [طبرانی:11164:ضعیف جداً] اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بے غم ہیں۔