اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ وَ اِنۡ تُخۡفُوۡہَا وَ تُؤۡتُوۡہَا الۡفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ وَ یُکَفِّرُ عَنۡکُمۡ مِّنۡ سَیِّاٰتِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۷۱﴾
اگر تم صدقے ظاہر کرو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر انھیں چھپائو اور انھیں محتاجوں کو دے دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ اچھا ہے اور یہ تم سے تمھارے کچھ گناہ دور کرے گا اور اللہ اس سے جو تم کر رہے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔
En
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے
En
اگر تم صدقے خیرات کو ﻇاہر کرو تو وه بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیده پوشیده مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے واﻻ ہے،
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 271) ➊ { اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ:} { ”صَدَقَةٌ“ } کا لفظ{ ”صِدْقٌ“ } سے نکلا ہے، یعنی وہ مال جو آدمی صدقِ دل سے خرچ کرتا ہے، عموماً یہ لفظ نفل صدقے پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض صدقے پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ …» [التوبۃ: ۶۰] ”صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔“
➋ { فَنِعِمَّا هِيَ: } یہ اصل میں{ ”نِعْمَ مَا“ } ہے جس میں{ ”مَا“ } بمعنی { ”شَيْءٌ“ } ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو یہ اچھی بات ہے“ اس میں علانیہ صدقہ کی تعریف کی گئی ہے، بشرطیکہ خالص نیت سے ہو اور ریا سے خالی ہو، کیونکہ اس سے آدمی بخل اور حقوق ادا نہ کرنے کی تہمت سے بچتا ہے اور اس سے دوسرے اہل خیر کو صدقہ کرنے کی ترغیب ہوتی ہے، جیسا کہ جنگ تبوک کے موقع پر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا مال اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال لا کر پیش کر دیا، اسی طرح دوسرے صحابہ نے بڑھ چڑھ کر صدقہ کیا۔
➌ { وَ اِنْ تُخْفُوْهَا:} یعنی صدقہ علانیہ دینا بھی گو اچھا ہے مگر پوشیدہ طور پر دینا زیادہ فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ریا سے بعید ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے نفل صدقات مراد ہیں۔ (شوکانی) اس کے برعکس فرض زکوٰۃ کو پوشیدہ طور پر دینا جائز ہے، مگر اسے لوگوں کے سامنے دینا افضل ہے، ورنہ زکوٰۃ نہ دینے کی تہمت لگے گی، جب کہ نماز اور زکوٰۃ ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔ نیز طبری نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے۔ (فتح الباری: ۶؍ ۲۲)
متعدد احادیث میں نفل صدقات کو پوشیدہ طور پر دینے کی فضیلت آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سات آدمیوں میں، جنھیں اللہ تعالیٰ کا سایہ نصیب ہو گا، ایک وہ شخص شمار کیا جس نے دائیں ہاتھ سے صدقہ کیا اور اسے چھپا کر کیا، حتیٰ کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دائیں نے کیا خرچ کیا۔ [بخاری، الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] اس شخص کے واقعہ سے بھی خفیہ صدقے کی فضیلت اور برکت معلوم ہوتی ہے جس نے ایک رات خفیہ صدقہ ایک چور، ایک رات ایک زانیہ اور ایک رات ایک غنی کو دے دیا۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب إذا تصدق علی …: ۱۴۲۱، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➍ { وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ:} چھپا کر فقراء کو دینے میں ان کی پردہ پوشی ہوتی ہے اوران کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی۔
➎ { مِنْ سَيِّاٰتِكُمْ: ”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ گناہ“ کیا ہے، یعنی کم یا زیادہ جتنا مال خرچ کرے گا اس کے لحاظ سے گناہ معاف ہوں گے۔ علاوہ ازیں کچھ گناہ ایسے ہیں جو مال خرچ کرنے سے معاف نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لیے توبہ ضروری ہے۔
➋ { فَنِعِمَّا هِيَ: } یہ اصل میں{ ”نِعْمَ مَا“ } ہے جس میں{ ”مَا“ } بمعنی { ”شَيْءٌ“ } ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو یہ اچھی بات ہے“ اس میں علانیہ صدقہ کی تعریف کی گئی ہے، بشرطیکہ خالص نیت سے ہو اور ریا سے خالی ہو، کیونکہ اس سے آدمی بخل اور حقوق ادا نہ کرنے کی تہمت سے بچتا ہے اور اس سے دوسرے اہل خیر کو صدقہ کرنے کی ترغیب ہوتی ہے، جیسا کہ جنگ تبوک کے موقع پر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا مال اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال لا کر پیش کر دیا، اسی طرح دوسرے صحابہ نے بڑھ چڑھ کر صدقہ کیا۔
➌ { وَ اِنْ تُخْفُوْهَا:} یعنی صدقہ علانیہ دینا بھی گو اچھا ہے مگر پوشیدہ طور پر دینا زیادہ فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ریا سے بعید ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے نفل صدقات مراد ہیں۔ (شوکانی) اس کے برعکس فرض زکوٰۃ کو پوشیدہ طور پر دینا جائز ہے، مگر اسے لوگوں کے سامنے دینا افضل ہے، ورنہ زکوٰۃ نہ دینے کی تہمت لگے گی، جب کہ نماز اور زکوٰۃ ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔ نیز طبری نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے۔ (فتح الباری: ۶؍ ۲۲)
متعدد احادیث میں نفل صدقات کو پوشیدہ طور پر دینے کی فضیلت آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سات آدمیوں میں، جنھیں اللہ تعالیٰ کا سایہ نصیب ہو گا، ایک وہ شخص شمار کیا جس نے دائیں ہاتھ سے صدقہ کیا اور اسے چھپا کر کیا، حتیٰ کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دائیں نے کیا خرچ کیا۔ [بخاری، الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] اس شخص کے واقعہ سے بھی خفیہ صدقے کی فضیلت اور برکت معلوم ہوتی ہے جس نے ایک رات خفیہ صدقہ ایک چور، ایک رات ایک زانیہ اور ایک رات ایک غنی کو دے دیا۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب إذا تصدق علی …: ۱۴۲۱، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➍ { وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ:} چھپا کر فقراء کو دینے میں ان کی پردہ پوشی ہوتی ہے اوران کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی۔
➎ { مِنْ سَيِّاٰتِكُمْ: ”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ گناہ“ کیا ہے، یعنی کم یا زیادہ جتنا مال خرچ کرے گا اس کے لحاظ سے گناہ معاف ہوں گے۔ علاوہ ازیں کچھ گناہ ایسے ہیں جو مال خرچ کرنے سے معاف نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لیے توبہ ضروری ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
271۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے سوائے کسی ایسی صورت کے کہ اعلانیہ صدقہ دینے میں لوگوں کے لئے ترغیب کا پہلو ہو۔ اگر ریاکاری کا جذبہ شامل نہ ہو تو ایسے موقعوں پر پہل کرنے والے جو خاص فضلیت حاصل کرسکتے ہیں وہ احادیث سے واضح ہے۔ تاہم اس قسم کی مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے صدقہ و خیرات کرنا ہی بہتر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو قیامت کے دن عرش الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ان میں وہ شخص بھی شامل ہوگا جس نے اتنے خفیہ طریقے سے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ پتہ نہیں چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ صدقے میں اخفا کی افضلیت کو بعض علماء نے صرف نفلی صدقات تک محدود رکھا ہے اور زکاۃ کی ادائیگی میں اظہار کو بہتر سمجھا ہے۔ لیکن قرآن کا عموم صدقات نافلہ اور واجبہ دونوں کو شامل ہے (ابن کثیر) اور حدیث کا عموم بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
271۔ اگر تم اپنے صدقات کو ظاہر کرو تو بھی اچھا ہے لیکن اگر خفیہ طور [387] پر فقرا کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے (ایسے صدقات تم سے) تمہاری بہت سی برائیوں کو دور کر دیں گے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ ان سے پوری طرح با خبر ہے
[387] اس آیت سے خفیہ صدقہ کی زیادہ فضیلت ثابت ہوئی، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔ خفیہ صدقہ کی فضیلت:۔
1۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کئے اور کہا کہ اسے (زمین کو) تھامے رہو۔ چنانچہ وہ ٹھہر گئی۔ تب فرشتوں کو پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب ہوا اور کہنے لگے: پروردگار! تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پہاڑوں سے بھی سخت ہے؟ فرمایا ہاں، لوہا ہے۔ فرشتے کہنے لگے، پروردگار کوئی چیز لوہے سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ”ہاں آگ ہے۔“ پھر وہ کہنے لگے: کوئی چیز آگ سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ہاں پانی ہے۔ وہ کہنے لگے: ”کوئی چیز پانی سے بھی سخت ہے؟“ فرمایا: ہاں ہوا ہے۔ پھر وہ کہنے لگے: کوئی چیز ہوا سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ہاں وہ آدمی جو اس طرح صدقہ دے کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں کو خبر تک نہ ہو۔ [ترمذي، ابواب التفسير، سورة الناس]
سات آدمی جنہیں قیامت کے دن سایہ نصیب ہو گا:۔
2۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) سات قسم کے آدمیوں کو اپنے عرش کے سایہ تلے جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے علاوہ اور کہیں سایہ نہ ہو گا۔ ایک انصاف کرنے والا حاکم۔ دوسرا وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی عبادت میں گزاری، تیسرا وہ شخص جس کا دل مسجد سے لگا رہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر محبت کی۔ اللہ کی خاطر ہی مل بیٹھے اور اللہ کی خاطر ہی جدا ہوئے۔ پانچویں وہ مرد جسے کسی مرتبہ والی حسین و جمیل عورت نے (بد کاری کے لیے) بلایا اور اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو صدقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [بخاري، كتاب الاذان باب من جلس فى المسجد ينتظر الصلوة] تاہم بعض علماء کہتے ہیں کہ فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ تو اعلانیہ دینا چاہیے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور نفلی صدقہ بہرحال خفیہ دینا ہی بہتر ہے اور یہ تو واضح بات ہے کہ چھپا کر نیکی کرنے سے انسان کی اپنی اصلاح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف جو لوگ اس کی حکم برداری سے جی چراتے ہیں گناہ کا کام کرتے ہیں، اس کی خبروں کو جھٹلاتے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ ظالم ہیں قیامت کے دن قسم قسم کے سخت بدترین اور المناک عذاب انہیں ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو انہیں چھڑائے یا ان کی مدد میں اُٹھے۔ پھر فرمایا کہ ظاہر کر کے صدقہ دینا بھی اچھا ہے اور چھپا کر فقراء مساکین کو دینا بہت ہی بہتر ہے، اس لیے کہ یہ ریاکاری سے کوسوں دور ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ظاہر کرنے میں کوئی دینی مصلحت یا دینی فائدہ ہو مثلاً اس لیے کہ اور لوگ بھی دیں وغیرہ۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ کا ظاہر کرنے والا مثل بلند آواز سے قرآن پڑھنے والے کے ہے اور اسے چھپانے والا آہستہ پڑھنے والے کی طرح ہے، [سنن ابوداود:1333، قال الشيخ الألباني:] پس اس آیت سے صدقہ جو پوشیدہ دیا جائے اس کی افضیلت ثابت ہوتی ہے
، بخاری مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات شخصوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا، عادل بادشاہ، وہ نوجوان جو اپنی جوانی اللہ کی عبادت اور شریعت کی فرمانبرداری میں گزارے۔ وہ دو شخص جو اللہ تعالیٰ کیلئے آپس میں محبت رکھیں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں، وہ شخص جس کا دِل مسجد میں لگا رہے نکلنے کے وقت سے جانے کے وقت تک وہ شخص جو خلوت میں اللہ کا ذِکر کر کے رو دے، وہ شخص جسے کوئی منصب و جمال والی عورت بدکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو اپنا صدقہ اس قدر چھپا کر دے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر تک نہ ہو، [صحیح بخاری:660:صحیح]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کر کے انہیں گاڑ دیا جس سے زمین کا ہلنا موقوف ہو گیا، فرشتوں کو پہاڑوں کی ایسی سنگین پیدائش پر تعجب ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ باری تعالیٰ کیا تیری مخلوق میں پہاڑ سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں لوہا، پوچھا اس سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں آگ، پوچھا اس سے زیادہ سخت چیز کوئی اور بھی ہے؟ فرمایا ہاں پانی، پوچھا کیا اس سے بھی زیادہ سختی والی کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں ہوا، دریافت کیا اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا ابن آدم جو صدقہ کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر نہیں ہوتی، [سنن ترمذي:3369، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
آیت الکرسی کی تفسیر میں وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو پوشیدگی سے کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔ باوجود مال کی قلت کے، پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [مسند احمد:178/5:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کر کے انہیں گاڑ دیا جس سے زمین کا ہلنا موقوف ہو گیا، فرشتوں کو پہاڑوں کی ایسی سنگین پیدائش پر تعجب ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ باری تعالیٰ کیا تیری مخلوق میں پہاڑ سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں لوہا، پوچھا اس سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں آگ، پوچھا اس سے زیادہ سخت چیز کوئی اور بھی ہے؟ فرمایا ہاں پانی، پوچھا کیا اس سے بھی زیادہ سختی والی کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں ہوا، دریافت کیا اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا ابن آدم جو صدقہ کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر نہیں ہوتی، [سنن ترمذي:3369، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
آیت الکرسی کی تفسیر میں وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو پوشیدگی سے کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔ باوجود مال کی قلت کے، پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [مسند احمد:178/5:ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے پوشیدگی کا صدقہ اللہ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:664، قال الشيخ الألباني:ضعیف] شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنا آدھا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جو کچھ تھا لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہما نے جواب دیا اتنا ہی، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما گو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اور چپکے سے سب کے سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر چکے تھے، لیکن جب ان سے پوچھا گیا تو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کافی ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما یہ سن کر رو دئیے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کسی نیکی کے کام کی طرف ہم لپکے ہیں اس میں اے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما آپ کو آگے ہی آگے پاتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1678، قال الشيخ الألباني:حسن] آیت کے الفاظ عام ہیں صدقہ خواہ فرض ہو یا خواہ نفل زکوٰۃ ہو یا خیرات اس کی پوشیدگی اظہار سے افضل ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نفلی صدقہ تو پوشیدہ دینا ستر گنی فضیلت رکھتا ہے لیکن فرضی زکوٰۃ کو علانیہ ادا کرنا پچیس گنی فضیلت رکھتا ہے۔
پھر فرمایا صدقے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں اور برائیوں کو دور کر دے گا بالخصوص اس وقت جبکہ وہ چھپا کر دیا جائے، تمہیں بہت سی بھلائی ملے گی، درجات بڑھیں گے، گناہوں کا کفارہ ہو گا «یُکَفِّرُ» کو «یُکَفَّرْ» بھی پڑھا گیا ہے اس میں صورتاً یہ جواب شرط کے محل پر عطف ہو گا جو «فَنِعِمَّا هِيَ» ہے، جیسے «فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» [63-المنافقون: 10] میں «وَأَكُن» اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی نیکی بدی سخاوت بخیلی پوشیدگی اور اظہار نیک نیتی اور دنیا طلبی پوشیدہ نہیں وہ پورا پورا بدلہ دے گا۔
پھر فرمایا صدقے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں اور برائیوں کو دور کر دے گا بالخصوص اس وقت جبکہ وہ چھپا کر دیا جائے، تمہیں بہت سی بھلائی ملے گی، درجات بڑھیں گے، گناہوں کا کفارہ ہو گا «یُکَفِّرُ» کو «یُکَفَّرْ» بھی پڑھا گیا ہے اس میں صورتاً یہ جواب شرط کے محل پر عطف ہو گا جو «فَنِعِمَّا هِيَ» ہے، جیسے «فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» [63-المنافقون: 10] میں «وَأَكُن» اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی نیکی بدی سخاوت بخیلی پوشیدگی اور اظہار نیک نیتی اور دنیا طلبی پوشیدہ نہیں وہ پورا پورا بدلہ دے گا۔