ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 252

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۲۵۲﴾
یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں حق کے ساتھ تجھ پر پڑھتے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا رسولوں میں سے ہے۔ En
یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو
En
یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں، بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 252) یعنی پچھلی امتوں کے یہ واقعات جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں یہ آپ کے نبی صادق ہونے کی واضح دلیل ہیں، کیونکہ آپ نے انھیں نہ کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی سے سنا، پھر بھی انھیں اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں کہ بنی اسرائیل بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ کافروں کی طرف سے آپ کی رسالت کے انکار پر انتہائی تاکیدی الفاظ {اِنَّ} اور لام تاکید کے ساتھ آپ کی رسالت کا اثبات ہے۔ کافر آپ کی رسالت کے انکاری تھے، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا» [الرعد: ۴۳] اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں، تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار کا رد کرتے ہوئے فرمایا: «وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ» بلاشبہ تو یقینًا رسولوں میں سے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

252۔ 1 یہ گزشتہ واقعات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ کتاب کے ذریعے سے دنیا کو معلوم ہو رہے ہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقینا آپ کی رسالت و صداقت کی دلیل ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ کسی کتاب میں پڑھے ہیں نہ کسی سے سنے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ یہ غیب کی وہ خبریں جو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ آپ پر نازل فرما رہا ہے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر گزشتہ امتوں کے واقعات کو بیان کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

252۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات [355] ہیں جنہیں ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور بلا شبہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہے
[355] ماضی کے حالات پر مطلع ہونا آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے:
یہاں آیات اللہ سے مراد وہ معجزہ نما واقعات ہیں جو بنی اسرائیل کو پیش آئے تھے۔ جیسے وبا سے ڈر کر گھر بار چھوڑنے والے ہزاروں لوگ جنہیں اللہ نے موت کے بعد زندہ کر دیا یا جیسے داؤد کا اکیلے جالوت جیسے جابر بادشاہ کو مار ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کی ایک مختصر سی جماعت کو غلبہ عطا فرمانا اور داؤد جیسے ایک گمنام چرواہے کو بادشاہی اور نبوت سے سرفراز فرمانا وغیرہ یہ واقعات ٹھیک ٹھیک ہم نے بذریعہ وحی آپ سے بیان کر دیئے ہیں اور آپ کا قرون ماضیہ کے ٹھیک ٹھیک حالات لوگوں کو بتلانا یقیناً آپ کی رسالت پر ایک بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ وحی الٰہی کے علاوہ آپ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس کی بنا پر آپ ایسے گزشتہ صحیح صحیح حالات جان سکیں اور دوسروں کو بتلا سکیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔