تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اس کے مطابق عمل کا نام ہے، یہاں ایمان پر عمل صالح کے عطف کا یہ مطلب نہیں کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، بلکہ ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ عموماً اس میں کوتاہی کی جاتی ہے، حالانکہ عمل سے خالی ایمان کافی نہیں۔ اگر عطف ہی کی وجہ سے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ سمجھا جائے تو سورۂ عصر کی آیت: { «اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» } میں مذکور چاروں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ماننا پڑیں گی۔ تفصیل کے لیے سورۂ عصر کی تفسیر دیکھیں۔
➌ عمل صالح کی پہلی شرط یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت اور سورۂ بینہ کی آیت(۵)۔ دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ آپ کا فرمان ہے:[مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ] ”جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔“ [مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام …: ۱۸؍ ۱۷۱۸]
➍ انسان کی لذت و آسائش کی بنیادی چیزیں رہائش، کھانا پینا اور نکاح ہیں۔ ایمان اور عمل صالح والوں کی رہائش کے لیے { «جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ» }، کھانے پینے کے لیے { «كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا» } اور نکاح کے لیے { «اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ» } ہیں، پھر یہ نعمتیں حاصل ہونے کے ساتھ اگر ان کے زوال کا خوف ہو تو لذت مکدر ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو یہ کہہ کر دور کر دیا:{ «هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» } [اللباب] جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ محمد(۱۵)۔
➎ {مُطَهَّرَةٌ:} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے۔ ایک حرف کے اضافے کی وجہ سے ”نہایت پاک صاف“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی وہ ہر قسم کی ظاہری آلائشوں، مثلاً پیشاب، پاخانہ، تھوک، حیض وغیرہ سے اور باطنی آلائشوں مثلاً جھوٹ، حسد، کینہ وغیرہ سے پاک ہوں گی۔
➏ { مُتَشَابِهًا:} یعنی دنیا کے پھلوں کے ہم صورت ہوں گے، یا آپس میں ہم شکل ہوں گے، مگر یہ مشابہت صرف نام یا شکل میں ہو گی، ورنہ جنت کی نعمتوں کو دنیا کی نعمتوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[31] یعنی شکل و صورت دیکھ کر وہ یہ تو کہہ دیں گے کہ یہ آم ہے یا انگور یا انار ہے مگر ان کا ذائقہ بالکل الگ اور اعلیٰ درجہ کا ہو گا اور ان کا سائز بھی دنیا کے پھلوں کی نسبت بہت بڑا ہو گا۔
[32] جنتی لوگ سب کے سب خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بول و براز اور رینٹ وغیرہ نیز اخلاق رذیلہ سے پاک صاف ہوں گے اور ان کی بیویاں حیض و نفاس کی نجاستوں سے بھی پاک و صاف ہوں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرماتے ہیں جنت کی گھاس زعفران ہے اس کے ٹیلے مشک کے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے خوبصورت غلمان ادھر ادھر سے میوے لا لا کر پیش کر رہے ہیں وہ کھا رہے ہیں وہ پھر پیش کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں اسے تو ابھی کھایا ہے وہ جواب دیتے ہیں رنگ روپ ایک ہے لیکن ذائقہ اور ہی ہے چکھ کر دیکھئیے کھاتے ہیں تو اور ہی لطف پاتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ہم شکل لائیں جائیں گے۔ دنیا کے میووں سے بھی اور نام شکل اور صورت میں بھی ملتے جلتے ہوں گے لیکن مزہ کچھ دوسرا ہی ہو گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:90/1]
حواء علیہما السلام بھی حیض سے پاک تھیں لیکن نافرمانی سرزد ہوتے ہی یہ بلا آ گئی [تفسیر ابن جریر الطبری:550] یہ قول سنداً غریب ہے ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ حیض پاخانہ تھوک رینٹ سے وہ پاک ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:363] اس حدیث کے راوی عبدالرزاق بن عمر یزیعی ہیں مستدرک حاکم میں بیان کیا جنہیں ابوحاتم البستی نے احتجاج کے قابل نہیں سمجھا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں بلکہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام نعمتوں کے ساتھ اس زبردست نعمت کو دیکھئیے کہ نہ یہ نعمتیں فنا ہوں۔ نہ نعمتوں والے فنا ہوں نہ نعمتیں ان سے چھنیں نہ یہ نعمتوں سے الگ کئے جائیں۔ نہ موت ہے نہ خاتمہ ہے نہ آخر ہے نہ ٹوٹنا اور کم ہونا ہے، اللہ رب العالمین جواد و کریم برورحیم سے التجا ہے کہ وہ مالک ہمیں بھی اہل جنت کے زمرے میں شامل کرے اور انہیں کے ساتھ ہمارا حشر کرے۔ [آمین]۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر جزاء الكافرين ذكر جزاء المؤمنين أهل الأعمال الصالحات كما هي طريقته تعالى في كتابه يجمع بين الترغيب والترهيب؛ ليكون العبد راغباً راهباً خائفاً راجياً فقال: {وبشّر}؛ أي: أيها الرسول ، ومن قام مقامك {الذين آمنوا}؛ بقلوبهم {وعملوا الصالحات}؛ بجوارحهم؛ فصدقوا إيمانهم بأعمالهم الصالحة، ووُصِفت أعمال الخير بالصالحات؛ لأن بها تصلح أحوال العبد، وأمور دينه ودنياه، وحياته الدنيوية والأخروية، ويزول بها عنه فساد الأحوال؛ فيكون بذلك من الصالحين الذين يصلحون لمجاورة الرحمن في جنته فبشرهم {أن لهم جنات}؛ أي: بساتين جامعة للأشجار العجيبة والثمار الأنيقة والظل المديد والأغصان والأفنان، وبذلك صارت جنة يجتن بها داخلها وينعم فيها ساكنها {تجري من تحتها الأنهار}؛ أي: أنهار الماء واللبن والعسل والخمر يفجرونها كيف شاؤوا، ويصرفونها أين أرادوا، وتُسقَى منها تلك الأشجار؛ فتنبت أصناف الثمار {كلما رزقوا منها من ثمرة رزقاً قالوا هذا الذي رزقنا من قبل}؛ أي: هذا من جنسه وعلى وصفه، كلها متشابهة في الحسن واللذة ليس فيها ثمرة خاسَّةٌ، وليس لهم وقت خالٍ من اللَّذة؛ فهم دائماً متلذذون بأُكُلِها، وقوله: {وأتوا به متشابهاً}؛ قيل: متشابهاً في الاسم مختلفاً في الطعم ، وقيل: متشابهاً في اللون مختلف في الاسم، وقيل: يشبه بعضه بعضاً في الحسن واللذة والفكاهة، ولعل هذا أحسن.
ثم لما ذكر مسكنهم، وأقواتهم من الطعام والشراب، وفواكههم ذكر أزواجهم؛ فوصفهنَّ بأكمل وصف وأوجزه وأوضحه؛ فقال: {ولهُم فيها أزواجٌ مُطهرةٌ}؛ فلم يقل مطهرةٌ من العيب الفلاني؛ ليشمل جميع أنواع التطهير، فهنَّ مطهرات الأخلاق، مطهرات الخلق، مطهرات اللسان، مطهرات الأبصار، فأخلاقهن أنهن عُرُبٌ متحببات إلى أزواجهن بالخلق الحسن وحسن التبعل والأدب القولي والفعلي، ومطهرٌ خَلْقُهن من الحيض والنفاس والمني والبول والغائط والمخاط والبصاق والرائحة الكريهة، ومُطَهرات الخَلْق أيضاً بكمال الجمال؛ فليس فيهن عيب ولا دمامة خَلْق، بل هن خيرات حسان، مطهرات اللسان والطرف، قاصرات طرفهن على أزواجهن، وقاصرات ألسنتهن عن كل كلام قبيح.
ففي هذه الآية الكريمة ذكر المبشِّر والمُبشَّر والمُبَشَّر به والسبب الموصل لهذه البشارة؛ فالمبشر هو: الرسول - صلى الله عليه وسلم - ومن قام مقامه من أمته، والمبشَّر هم: المؤمنون العاملون الصالحات، والمبشر به هي: الجنات الموصوفات بتلك الصفات، والسبب الموصل لذلك، هو: الإيمان والعمل الصالح، فلا سبيل إلى الوصول إلى هذه البشارة إلا بهما، وهذا أعظم بشارة حاصلة على يد أفضل الخلق بأفضل الأسباب، وفيه استحباب بشارة المؤمنين وتنشيطهم على الأعمال بذكر جزائها وثمراتها؛ فإنها بذلك تخف وتسهل، وأعظم بشرى حاصلة للإنسان توفيقه للإيمان والعمل الصالح، فذلك أول البشارة وأصلها، ومن بعده البشرى عند الموت، ومن بعده الوصول إلى هذا النعيم المقيم. نسأل الله من فضله.