ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 25

وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہًا ؕ وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جب کبھی ان میں سے کوئی پھل انھیں کھانے کے لیے دیا جائے گا، کہیں گے یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہمیں دیا گیا تھا اور وہ انھیں ایک دوسرے سے ملتا جلتا دیا جائے گا، اور ان کے لیے ان میں نہایت پاک صاف بیویاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے
En
اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کےنیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وه پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل ﻻئے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف ستھری اور وه ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ کفار کو آگ سے ڈرانے کے بعد اب ایمان لانے پر جنت کی بشارت دی جا رہی ہے۔ قرآن مجید میں عموماً یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: { «‏‏‏‏كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» ‏‏‏‏ } [الزمر: ۲۳] میں صحیح ترین قول کے مطابق {مَثَانِيَ} سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے ساتھ اس کا مقابل بھی مذکور ہو، مثلاً ایمان کے ساتھ کفر، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر ہو۔
➋ ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اس کے مطابق عمل کا نام ہے، یہاں ایمان پر عمل صالح کے عطف کا یہ مطلب نہیں کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، بلکہ ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ عموماً اس میں کوتاہی کی جاتی ہے، حالانکہ عمل سے خالی ایمان کافی نہیں۔ اگر عطف ہی کی وجہ سے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ سمجھا جائے تو سورۂ عصر کی آیت: { «‏‏‏‏اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» ‏‏‏‏ } میں مذکور چاروں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ماننا پڑیں گی۔ تفصیل کے لیے سورۂ عصر کی تفسیر دیکھیں۔
➌ عمل صالح کی پہلی شرط یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت اور سورۂ بینہ کی آیت(۵)۔ دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ آپ کا فرمان ہے:[مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ] جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ [مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام …: ۱۸؍ ۱۷۱۸]
➍ انسان کی لذت و آسائش کی بنیادی چیزیں رہائش، کھانا پینا اور نکاح ہیں۔ ایمان اور عمل صالح والوں کی رہائش کے لیے { «‏‏‏‏جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ» ‏‏‏‏ }، کھانے پینے کے لیے { «كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا» } اور نکاح کے لیے { «‏‏‏‏اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ» } ہیں، پھر یہ نعمتیں حاصل ہونے کے ساتھ اگر ان کے زوال کا خوف ہو تو لذت مکدر ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو یہ کہہ کر دور کر دیا:{ «هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ‏‏‏‏ } [اللباب] جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ محمد(۱۵)۔
➎ {مُطَهَّرَةٌ:} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے۔ ایک حرف کے اضافے کی وجہ سے نہایت پاک صاف ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی وہ ہر قسم کی ظاہری آلائشوں، مثلاً پیشاب، پاخانہ، تھوک، حیض وغیرہ سے اور باطنی آلائشوں مثلاً جھوٹ، حسد، کینہ وغیرہ سے پاک ہوں گی۔
➏ { مُتَشَابِهًا:} یعنی دنیا کے پھلوں کے ہم صورت ہوں گے، یا آپس میں ہم شکل ہوں گے، مگر یہ مشابہت صرف نام یا شکل میں ہو گی، ورنہ جنت کی نعمتوں کو دنیا کی نعمتوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 قرآن کریم نے ہر جگہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کا تذکرہ فرما کر اس بات کو واضح کردیا کہ ایمان اور عمل صالح ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عمل صالح کے بغیر ایمان کا ثمر اور نہیں مل سکتا اور ایمان کے بغیر اعمال خیر کی عند اللہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور عمل صالح کیا، جو سنت کے مطابق ہو اور خالص رضائے الٰہی کی نیت سے کیا جائے۔ خلاف سنت عمل بھی نامقبول اور نمود و نمائش اور ریاکاری کے لئے کئے گئے عمل بھی مردود و مطرود ہیں۔ 25۔ 2 مُتشَابِھَا کا مطلب یا تو جنت کے تمام میووں کا آپس میں ہم شکل ہونا ہے یا دنیا کے میووں کے ہم شکل ہونا ہے۔ تاہم یہ مشابہت صرف شکل یا نام کی حد تک ہی ہوگی ورنہ جنت کے میووں کے مزے اور ذائقے سے دنیا کے میووں کی کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ جنت کی نعمتوں کی بابت حدیث میں ہے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا (دیکھنا اور سننا تو کجا) کسی انسان کے دل میں ان کا گمان بھی نہیں گزرا۔ 25۔ 3 یعنی حیض و نفاس اور دیگر آلائشوں سے پاک ہوں گی۔ 25۔ 4 خُلُودُ کے معنی ہمیشگی کے ہیں۔ اہل جنت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے اور خوش رہیں گے اور اہل دوزخ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے اور مبتلائے عذاب رہیں گے۔ حدیث میں ہے جنت اور جہنم میں جانے کے بعد ایک فرشتہ اعلان کرے گا اے جہنمیو! اب موت نہیں ہے اے جنتیو اب موت نہیں ہے۔ جو فریق جس حالت میں ہے اسی حالت میں ہمیشہ رہے گا (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ (اے پیغمبر) جو لوگ ایمان [30] لائیں اور اچھے کام کریں انہیں خوشخبری دے دیجئے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جب بھی انہیں کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے ”یہ تو وہی پھل ہیں جو ہمیں اس سے پہلے (دنیا میں) دیئے جا چکے ہیں۔“ کیونکہ جو پھل انہیں دیا جائے گا وہ شکل و صورت [31] میں دنیا کے پھل سے ملتا جلتا ہو گا۔ نیز ان (ایمان والوں) کے لیے وہاں پاک و صاف [32] بیویاں (بھی) ہوں گی۔ اور وہ ان باغات میں ہمیشہ قیام پذیر رہیں گے
[30] قرآن کریم میں آپ اکثر یہ بات ملاحظہ کریں گے کہ جہاں کہیں کفار اور ان کی وعید کا ذکر آتا ہے وہاں ساتھ ہی مومنوں اور ان کی جزا کا ذکر بھی ساتھ ہی کر دیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی یہی صورت ہوتی ہے، کیونکہ انسان کی ہدایت کے لیے ترغیب اور ترہیب دونوں باتیں ضروری ہیں۔
[31] یعنی شکل و صورت دیکھ کر وہ یہ تو کہہ دیں گے کہ یہ آم ہے یا انگور یا انار ہے مگر ان کا ذائقہ بالکل الگ اور اعلیٰ درجہ کا ہو گا اور ان کا سائز بھی دنیا کے پھلوں کی نسبت بہت بڑا ہو گا۔
[32] جنتی لوگ سب کے سب خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بول و براز اور رینٹ وغیرہ نیز اخلاق رذیلہ سے پاک صاف ہوں گے اور ان کی بیویاں حیض و نفاس کی نجاستوں سے بھی پاک و صاف ہوں گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اعمال وجہ بشارت ٭٭
چونکہ پہلے کافروں اور دشمنان دین کی سزا عذاب اور رسوائی کا ذکر ہوا تھا اس لیے یہاں ایمانداروں اور نیک صالح لوگوں کی جزا ثواب اور سرخروئی کا بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے مثانی ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں جو صحیح تر قول بھی ہے کہ اس میں ہر مضمون تقابلی جائزہ کے ساتھ ہوا ہے اس کا مفصل بیان بھی کسی مناسب جگہ آئے گا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ ہی کفر کا۔ کفر کے ساتھ ایمان کا۔ نیکوں کے ساتھ بدوں کا۔ اور بدوں کے ساتھ نیکوں کا ذکر ضرور آتا ہے جس چیز کا بیان ہوتا ہے اس کے مقابلہ کی چیز کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے چاہے معنی میں متشابہ ہوں، یہ دونوں لفظ قرآن کے اوصاف میں وارد ہوئے ہیں اسے مثانی بھی کہا گیا ہے اور متشابہ بھی فرمایا گیا ہے۔ جنتوں میں نہریں بہنا اس کے درختوں اور بالاخانوں کے نیچے بہنا ہے حدیث شریف میں ہے کہ نہریں بہتی ہیں لیکن گڑھا نہیں، [ابو نعیم فی الحلیة:205/6:صحیح موقوفاً ضعیف مرفوعاً]‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ نہر کوثر کے دونوں کنارے سچے موتیوں کے قبے ہیں اس کی مٹی مشک خالص ہے اور اس کی کنکریاں لولو اور جواہر ہیں۔ [صحیح بخاری:6581:صحیح]‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی یہ نعمتیں عطا فرمائے وہ احسان کرنے والا بڑا رحیم ہے۔
حدیث میں ہے جنت کی نہریں مشکی پہاڑوں کے نیچے سے جاری ہوتی ہیں۔ [صحیح ابن حبان:7408:حسن صحیح]‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے جنتیوں کا یہ قول کہ پہلے بھی ہم کو یہ میوے دیے گئے تھے اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں بھی یہ میوے ہمیں ملے تھے صحابہ رضی اللہ عنہم اور ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اس کی تائید کی ہے بعض کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے یعنی سابقہ کل بھی یہی دیے گئے تھے، یہ اس لیے کہیں گے کہ ظاہری صورت و شکل میں وہ بالکل مشابہ ہوں گے۔ یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک پیالہ آئے گا کھائیں گے پھر دوسرا آئے گا تو کہیں گے یہ تو ابھی کھایا ہے فرشتے کہیں گے کھائیے تو اگرچہ صورت شکل میں یکساں ہیں لیکن مزہ اور ہے۔
فرماتے ہیں جنت کی گھاس زعفران ہے اس کے ٹیلے مشک کے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے خوبصورت غلمان ادھر ادھر سے میوے لا لا کر پیش کر رہے ہیں وہ کھا رہے ہیں وہ پھر پیش کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں اسے تو ابھی کھایا ہے وہ جواب دیتے ہیں رنگ روپ ایک ہے لیکن ذائقہ اور ہی ہے چکھ کر دیکھئیے کھاتے ہیں تو اور ہی لطف پاتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ہم شکل لائیں جائیں گے۔ دنیا کے میووں سے بھی اور نام شکل اور صورت میں بھی ملتے جلتے ہوں گے لیکن مزہ کچھ دوسرا ہی ہو گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:90/1]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ صرف نام میں مشابہت ہے ورنہ کہاں یہاں کی چیز کہاں وہاں کی؟ یہاں تو فقط نام ہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:392/1]‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا قول ہے دنیا کے پھلوں جیسے پھل دیکھ کر کہہ دیں گے کہ یہ تو دنیا میں کھا چکے ہیں مگر جب چکھیں گے تو لذت کچھ اور ہی ہو گی۔ وہاں جو بیویاں انہیں ملیں گی وہ گندگی ناپاکی حیض و نفاس پیشاب، پاخانہ، تھوک، رینٹ، منی وغیرہ سے پاک صاف ہوں گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:396/1]‏‏‏‏
حواء علیہما السلام بھی حیض سے پاک تھیں لیکن نافرمانی سرزد ہوتے ہی یہ بلا آ گئی [تفسیر ابن جریر الطبری:550]‏‏‏‏ یہ قول سنداً غریب ہے ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ حیض پاخانہ تھوک رینٹ سے وہ پاک ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:363]‏‏‏‏ اس حدیث کے راوی عبدالرزاق بن عمر یزیعی ہیں مستدرک حاکم میں بیان کیا جنہیں ابوحاتم البستی نے احتجاج کے قابل نہیں سمجھا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں بلکہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ان تمام نعمتوں کے ساتھ اس زبردست نعمت کو دیکھئیے کہ نہ یہ نعمتیں فنا ہوں۔ نہ نعمتوں والے فنا ہوں نہ نعمتیں ان سے چھنیں نہ یہ نعمتوں سے الگ کئے جائیں۔ نہ موت ہے نہ خاتمہ ہے نہ آخر ہے نہ ٹوٹنا اور کم ہونا ہے، اللہ رب العالمین جواد و کریم برورحیم سے التجا ہے کہ وہ مالک ہمیں بھی اہل جنت کے زمرے میں شامل کرے اور انہیں کے ساتھ ہمارا حشر کرے۔ [آمین]‏‏‏‏۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی جزا کا ذکر کیا تو اعمال صالحہ سے آراستہ اہل ایمان کی جزا بھی بیان فرما دی، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کا طریقہ ہے کہ وہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا بیان کرتا ہے تاکہ بندۂ مومن اللہ کی رحمت میں رغبت بھی رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ اس کے دل میں عذاب کا خوف ہو تو رحمت و مغفرت کی امید سے بھی سرشار ہو۔
﴿ وَبَشِّرْ یعنی اے رسول! آپ اور آپ کا قائم مقام خوشخبری دے دے۔
﴿اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے ﴿وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ اور انھوں نے اپنے جوارح سے نیک کام سر انجام دیے۔ پس انھوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ نے اعمال خیر کو الصالحات سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے سے بندے کے احوال، اس کے دینی اور دنیاوی امور اور اس کی دنیاوی اور اخروی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کے ذریعے سے ہی احوال کا فساد زائل ہوتا ہے پس اس کی وجہ سے اس کا شمار صالحین میں ہو جاتا ہے جو جنت میں اللہ تعالیٰ کی مجاورت اور اس کے قرب کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔
پس ان کو خوشخبری سنا دیجیے ﴿اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ کہ ان کے لیے جنت کے باغات ہیں جن میں عجیب اقسام کے درخت، نفیس انواع کے پھل، گہرے سائے اور درختوں کی نہایت خوبصورت شاخیں ہوں گی۔ اسی وجہ سے اس کا نام جنت ہے، اس میں داخل ہونے والے اس کے باغوں اور گہری چھاؤں سے فیض یاب ہوں گے اور اس میں رہنے والے اس میں عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے۔ ﴿تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ یعنی جنت میں پانی، دودھ، شہد اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ جیسے چاہیں گے انھیں جاری کر لیں گے اور جہاں چاہیں گے انھیں پھیر لیں گے۔ انھی نہروں سے جنت کے درخت سیراب ہوں گے اور مختلف اصناف کے پھل پیدا ہوں گے۔ ﴿کُلَّمَارُزِقُوْا مِنْھَامِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَامِنْ قَبْلُ جب بھی ان کو اس میں سے کھانے کو کوئی پھل دیا جائے گا، تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو پہلے ہمیں دیا گیا یعنی جنت کا یہ پھل دنیا کے پھلوں کی جنس میں سے ہوگا اس میں دنیا کے پھلوں کی سی صفات ہوں گی۔ خوبصورتی اور لذت میں جنت کے پھل دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ ان میں کوئی بدذائقہ پھل نہ ہوگا اور کوئی وقت ایسا نہ ہوگا جس میں اہل جنت لذت نہ اٹھا رہے ہوں گے بلکہ وہ دائمی طور پر جنت کے پھلوں کی لذت سے لطف اندوز ہوں گے۔
﴿وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِھًا اور دیے جائیں گے ان کو پھل ملتے جلتے کہا جاتا ہے کہ (جنت کے پھل) نام میں مشابہت رکھتے ہیں اور ذائقے میں مختلف ہیں۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ہے کہ وہ رنگ میں مشابہت رکھتے ہیں مگر نام مختلف ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ وہ خوبصورتی، لذت اور مٹھاس میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ شاید یہی تعبیر احسن ہے۔ پھر جہاں اہل جنت کے مساکن، ان کی خوراک، طعام و مشروبات اور پھلوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کی بیویوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ نہایت ایجاز و اختصار کے ساتھ مکمل اور واضح طور پر ان کا وصف بیان کیا ہے۔
﴿وَلَھُمْ فِیْھَا اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ ان کے واسطے اس میں بیویاں ہوں گی پاک اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ فلاں عیب سے پاک ہوں گی۔ کیونکہ یہ تطہیر، طہارت کی تمام اقسام پر مشتمل ہوگی۔ ان کے اخلاق پاک ہوں گے، ان کی تخلیق پاکیزگی پر مبنی ہوگی، ان کی زبان پاک ہوگی اور ان کی نظر پاک ہوگی۔ ان کے اخلاق کی پاکیزگی یہ ہے کہ وہ دلکش ہوں گی اور اپنے اخلاق حسنہ، حسن اطاعت اور قولی و فعلی آداب کے ساتھ اپنے شوہروں سے اظہار محبت کریں گی۔ حیض و نفاس، منی، بول و براز، تھوک، بلغم اور بدبو سے پاک ہوں گی، نیز اپنی جسمانی تخلیق میں بھی پاک ہوں گی۔ وہ کامل حسن و جمال سے بہرہ ور ہوں گی۔ ان کے اندر کسی قسم کا عیب اور کسی قسم کی جسمانی بدصورتی نہ ہوگی بلکہ وہ نیک سیرت اور خوبصورت ہوں گی۔ وہ پاک نظر اور پاک زبان ہوں گی۔ وہ نیچی نگاہوں والی ہوں گی اور ان کی نگاہیں اپنے شوہروں سے آگے نہ بڑھیں گی۔ ان کی زبانیں ہر گندی بات سے محفوظ اور پاک ہوں گی۔
اس آیت کریمہ میں مندرجہ ذیل امور کا ذکر کیا گیا ہے:
(۱)خوشخبری دینے والا۔ (۲) جس کو خوشخبری دی گئی ہے۔ (۳) جس چیز کی خوشخبری دی گئی ہے۔ (۴) وہ سبب جو اس خوشخبری کا باعث بنتا ہے۔ خوشخبری دینے والے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا وہ لوگ ہیں جو آپ کی امت میں سے (ابلاغ علم میں) آپ کے قائم مقام ہوں گے۔ خوشخبری دیے جانے والے وہ لوگ ہیں جو اہل ایمان ہیں اور نیک اعمال بجا لانے والے ہیں۔ جس چیز کی خوشخبری دی گئی ہے وہ ہے جنت، جو بیان کردہ صفات سے متصف ہے۔ اس خوشخبری کے باعث اور سبب سے مراد ایمان اور عمل صالح ہیں۔ ایمان اور عمل صالح کے بغیر اس خوشخبری کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ سب سے بڑی خوشخبری ہے جو بہترین اسباب کے ذریعے سے افضل ترین ہستی کی زبان مبارک سے دی گئی ہے۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو خوشخبری دینا اعمال صالحہ اور ان کے ثمرات کا ذکر کر کے ان میں نشاط پیدا کرنا مستحب ہے کیونکہ اس طرح اعمال صالحہ آسان ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑی بشارت جو انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ ایمان اور عمل صالح کی توفیق ہے۔ پس یہ اولین بشارت اور اس کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد دوسری بشارت وہ ہے جو موت کے وقت اسے حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ بشارت ہے جو نعمتوں سے بھرپور دائمی جنت میں پہنچ کر اسے حاصل ہو گی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر جزاء الكافرين ذكر جزاء المؤمنين أهل الأعمال الصالحات كما هي طريقته تعالى في كتابه يجمع بين الترغيب والترهيب؛ ليكون العبد راغباً راهباً خائفاً راجياً فقال: {وبشّر}؛ أي: أيها الرسول ، ومن قام مقامك {الذين آمنوا}؛ بقلوبهم {وعملوا الصالحات}؛ بجوارحهم؛ فصدقوا إيمانهم بأعمالهم الصالحة، ووُصِفت أعمال الخير بالصالحات؛ لأن بها تصلح أحوال العبد، وأمور دينه ودنياه، وحياته الدنيوية والأخروية، ويزول بها عنه فساد الأحوال؛ فيكون بذلك من الصالحين الذين يصلحون لمجاورة الرحمن في جنته فبشرهم {أن لهم جنات}؛ أي: بساتين جامعة للأشجار العجيبة والثمار الأنيقة والظل المديد والأغصان والأفنان، وبذلك صارت جنة يجتن بها داخلها وينعم فيها ساكنها {تجري من تحتها الأنهار}؛ أي: أنهار الماء واللبن والعسل والخمر يفجرونها كيف شاؤوا، ويصرفونها أين أرادوا، وتُسقَى منها تلك الأشجار؛ فتنبت أصناف الثمار {كلما رزقوا منها من ثمرة رزقاً قالوا هذا الذي رزقنا من قبل}؛ أي: هذا من جنسه وعلى وصفه، كلها متشابهة في الحسن واللذة ليس فيها ثمرة خاسَّةٌ، وليس لهم وقت خالٍ من اللَّذة؛ فهم دائماً متلذذون بأُكُلِها، وقوله: {وأتوا به متشابهاً}؛ قيل: متشابهاً في الاسم مختلفاً في الطعم ، وقيل: متشابهاً في اللون مختلف في الاسم، وقيل: يشبه بعضه بعضاً في الحسن واللذة والفكاهة، ولعل هذا أحسن.

ثم لما ذكر مسكنهم، وأقواتهم من الطعام والشراب، وفواكههم ذكر أزواجهم؛ فوصفهنَّ بأكمل وصف وأوجزه وأوضحه؛ فقال: {ولهُم فيها أزواجٌ مُطهرةٌ}؛ فلم يقل مطهرةٌ من العيب الفلاني؛ ليشمل جميع أنواع التطهير، فهنَّ مطهرات الأخلاق، مطهرات الخلق، مطهرات اللسان، مطهرات الأبصار، فأخلاقهن أنهن عُرُبٌ متحببات إلى أزواجهن بالخلق الحسن وحسن التبعل والأدب القولي والفعلي، ومطهرٌ خَلْقُهن من الحيض والنفاس والمني والبول والغائط والمخاط والبصاق والرائحة الكريهة، ومُطَهرات الخَلْق أيضاً بكمال الجمال؛ فليس فيهن عيب ولا دمامة خَلْق، بل هن خيرات حسان، مطهرات اللسان والطرف، قاصرات طرفهن على أزواجهن، وقاصرات ألسنتهن عن كل كلام قبيح.

ففي هذه الآية الكريمة ذكر المبشِّر والمُبشَّر والمُبَشَّر به والسبب الموصل لهذه البشارة؛ فالمبشر هو: الرسول - صلى الله عليه وسلم - ومن قام مقامه من أمته، والمبشَّر هم: المؤمنون العاملون الصالحات، والمبشر به هي: الجنات الموصوفات بتلك الصفات، والسبب الموصل لذلك، هو: الإيمان والعمل الصالح، فلا سبيل إلى الوصول إلى هذه البشارة إلا بهما، وهذا أعظم بشارة حاصلة على يد أفضل الخلق بأفضل الأسباب، وفيه استحباب بشارة المؤمنين وتنشيطهم على الأعمال بذكر جزائها وثمراتها؛ فإنها بذلك تخف وتسهل، وأعظم بشرى حاصلة للإنسان توفيقه للإيمان والعمل الصالح، فذلك أول البشارة وأصلها، ومن بعده البشرى عند الموت، ومن بعده الوصول إلى هذا النعيم المقيم. نسأل الله من فضله.