تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہ قصہ قیامت کے دن جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی قطعی دلیل ہے۔
➌ {اَلَمْ تَرَ:} اس کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا“ مگر مجاہد رحمہ اللہ نے اس کا معنی کیا ہے: {”اَلَمْ تَعْلَمْ“} ”کیا تجھے معلوم نہیں “ [بخاری، التفسیر، سورۃ «ألم تر» ، قبل ح: ۴۹۶۴] کیونکہ رؤیت بصری بھی ہوتی ہے اور قلبی بھی، بصری کا معنی دیکھنا اور قلبی کا معنی جاننا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ فیل کے حواشی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اترنے کے وقت ان لوگوں کا قصہ عام طور پر معروف و مشہور تھا۔ بعض اوقات کسی بات کو سننے کا شوق دلانے کے لیے بھی {”اَلَمْ تَرَ“}سے بات شروع کی جاتی ہے۔
➍ عبدا لرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم سنو کہ کسی زمین میں وبا پھیلی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں وبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے فرار اختیار کرکے وہاں سے مت نکلو۔“ [بخاری، الطب، باب ما یذکر فی الطاعون: ۵۷۲۹]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿ سُبْحَانَكَ لاَ اِلٰهَ الآَ أنْتَ﴾
کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی جگہ بچاؤ اور پناہ نہیں یہ لوگ وبا سے بھاگے تھے اور زندگی کے حریص تھے تو اس کے خلاف عذاب آیا اور فوراً ہلاک ہو گئے۔
پھر فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں کا بھاگنا انہیں موت سے نہ بچا سکا اسی طرح جہاد سے منہ موڑنا بھی بے کار ہے۔ اجل اور رزق دونوں قسمت میں مقرر ہو چکے ہیں، رزق نہ بڑھے نہ گھٹے موت نہ پہلے آئے نہ پیچھے ہٹے، اور جگہ ارشاد ہے کہ «الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» جو لوگ اللہ کی راہ میں اٹک بیٹھے ہیں اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہتے ہیں کہ یہ مجاہد شہداء بھی اگر ہماری طرح رہتے تو مارے نہ جاتے، ان سے کہو اگر تم سچے ہو تو ذرا اپنی جانوں سےبھی موت کو ہٹادو [3-آل عمران:168]
اور جگہ ہے کہ یہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا ﴿٧٧﴾ أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» کیا تم نے نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نمازیں پڑھتے رہو اور زکوۃ ادا کرتے رہو، پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اور کہنے لگے اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا،کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دیا؟ آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روانہ رکھا جائے گا،تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ کر پکڑے گی گو تم مضبوط قلعوں میں ہو، اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے، انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں۔ ‘[4-النساء:77-78]،
اس موقع پر اسلامی لشکروں کے جیوٹ سردار اور بہادروں کے پیشوا اللہ کی تلوار اسلام کے پشت پناہ ابوسلیمان سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا وہ فرمان وارد کرنا بالکل مناسب وقت ہو گا جب آپ رضی اللہ عنہ نے عین اپنے انتقال کے وقت فرمایا تھا کہ کہاں ہیں موت سے ڈرنے والے، لڑائی سے جی چرانے والے نامرد، وہ دیکھیں کہ میرا جوڑ جوڑ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہو چکا ہے، سارے جسم میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار نیزہ برچھا نہ لگا ہو لیکن دیکھو کہ آج میں بستر میں فوت ہو رہا ہوں، میدان جنگ میں نہ رہا۔
قرض حسن سے مراد فی سبیل اللہ خرچ ہے اور بال بچوں کا خرچ بھی ہے اور تسبیح و تقدیس بھی ہے۔ پھر فرمایا کہ ’ اللہ اسے دوگنا چوگنا کر کے دے گا‘ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ» [2۔ البقرہ: 261]، یعنی اللہ کی راہ کے خرچ کی مثال اس دانہ جیسی ہے جس کی سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سات دانے ہوں اور اللہ اس سے بھی زیادہ جسے چاہے دیتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر بھی عنقریب آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ پوچھتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک ایک نیکی کا بدلہ ایک ایک لاکھ نیکیوں کا ملتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں تعجب کیا کرتے ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دو لاکھ کے برابر ملتا ہے [مسند احمد296/2 ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔
اسی مضمون کی ترمذی کی یہ حدیث بھی ہے کہ جو شخص بازار میں جائے اور وہاں «لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ المُلکُ وَلَہُ الحَمدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیرٌ» پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے [سنن ترمذي:3428، قال الشيخ الألباني:حسن]، ابن ابی حاتم میں ہے آیت «مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ» ؎ [البقرہ: 261]، کی آیت اتری تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ میری امت کو اور زیادہ زیادتی عطا فرما آیت پس «من الذی» الخ کی جب آیت اتری تو پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا کی تو «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» ۱؎ [39-الزمر: 10] کی آیت اتری، [صحیح ابن حبان4648سخت ضعیف]
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا میں نے ایک شخص سے یہ سنا ہے کہ جو شخص سورۃ آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» [112-الإخلاص: 1]، کو ایک دفعہ پڑھے اس کیلئے موتی اور یاقوت کے دس لاکھ محل جنت میں بنتے ہیں، کیا میں اسے سچ مان لوں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں تعجب کی کون سی بات ہے، بلکہ بیس اور بھی اور بیس لاکھ اور بھی اور اس قدر کہ ان کی گنتی بجز جناب باری کے کسی کو معلوم ہی نہ ہو، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا جب اللہ تعالیٰ آیت «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [البقرہ: 245] فرماتا ہے تو پھر مخلوق اس کی گنتی کی طاقت کیسے رکھے گی؟ پھر فرمایا رزق کی کمی بیشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے بخیلی نہ کرو، وہ جسے دے اس میں بھی حکمت ہے اور نہ دے اس میں بھی مصلحت ہے، تم سب قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ألم تسمع بهذه القصة العجيبة الجارية على من قبلكم من بني إسرائيل حيث حل الوباء بديارهم فخرجوا بهذه الكثرة فراراً من الموت فلم ينجِهِمُ الفرارُ ولا أغنى عنهم من وقوع ما كانوا يحذرون، فعاملهم بنقيض مقصودهم وأماتهم الله عن آخرهم، ثم تفضل عليهم فأحياهم إما بدعوة نبي كما قاله كثير من المفسرين وإما بغير ذلك، ولكن ذلك بفضله وإحسانه وهو لا يزال فضله على الناس وذلك موجب لشكرهم لنعم الله بالاعتراف بها وصرفها في مرضاة الله ومع ذلك فأكثر الناس قد قصروا بواجب الشكر.
وفي هذه القصة عبرة بأنه على كل شيء قدير وذلك آية محسوسة على البعث؛ فإن هذه القصة معروفة منقولة نقلاً متواتراً عند بني إسرائيل ومن اتصل بهم، ولهذا أتى بها تعالى بأسلوب الأمر الذي قد تقرر عند المخاطبين، ويحتمل أن هؤلاء الذين خرجوا من ديارهم خوفاً من الأعداء وجبناً عن لقائهم، ويؤيد هذا أن الله ذكر بعدها الأمر بالقتال وأخبر عن بني إسرائيل أنهم كانوا مخرجين من ديارهم وأبنائهم، وعلى الاحتمالين فإن فيها ترغيباً في الجهاد وترهيباً من التقاعد عنه وأن ذلك لا يغني عن الموت شيئاً {قل لو كنتم في بيوتكم لبرز الذين كتب عليهم القتل إلى مضاجعهم}.