(آیت242) یہاں نکاح و طلاق کے مسائل ختم ہوئے اب جہاد کا ذکر شروع ہوتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
242۔ اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنے احکام صاف صاف [339] بیان کرتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے
[339] یہاں نکاح، طلاق، عدت رضاعت وغیرہ عائلی زندگی سے متعلق احکام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ احکام وضاحت سے بیان کر دیئے گئے ہیں۔ لہٰذا انہیں اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل کیا کرو اور ان سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی منشا معلوم ہوتی ہے۔ اسی کے مطابق عمل کرو۔ اپنے لیے گنجائشیں نکالنے کی کوشش نہ کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
مطلقہ عورت کو فائدہ دینے کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ اگر ہم چاہیں دیں، چاہیں نہ دیں، اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:264/5]، اسی آیت سے بعض لوگوں نے ہر طلاق والی کو کچھ نہ کچھ دینا واجب قرار دیا، اور بعض دوسرے بزرگوں نے اسے ان عورتوں کے ساتھ مخصوص مانا ہے جن کا بیان پہلے گزر چکا ہے یعنی جن عورتوں سے صحبت نہ ہوئی اور مہر بھی نہ مقرر ہوا ہو اور طلاق دے دی جائے لیکن پہلی جماعت کا جواب یہ ہے کہ عام میں سے ایک خاص صورت کا ذِکر کرنا اسی صورت کے ساتھ اس حکم کو مخصوص نہیں کرتا جیسا کہ مشہور اور منصوص مذہب ہے۔ «وَاللهُاَعْلَمُ» ، پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتیں حلال و حرام اور فرائض و حدود اور امرونہی کے بارے میں واضح اور مفسر بیان کرتا ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام اور اجمال باقی نہ رہے کہ ضرورت کے وقت اٹک بیٹھو بلکہ اس قدر صاف بیان ہوتا ہے کہ ہر شخص سمجھ سکے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔