تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
رہ گیا نان و نفقہ اور رہائش کامنسوخ ہونا تو جو علماء منسوخ بتاتے ہیں وہ سورۂ نساء کی آیتِ میراث سے منسوخ بتاتے ہیں، جو سورۂ بقرہ کے بعد اتری ہے۔ اس لیے زیر تفسیر آیت کسی طرح بھی پہلی آیت کے ساتھ منسوخ نہیں۔ اگر اس کا کچھ حصہ منسوخ ہے بھی تو سورۂ نساء کے ساتھ منسوخ ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، اس میں عدت بیان ہی نہیں ہوئی، بلکہ میت کے اولیاء کو وصیت کا ذکر ہے کہ وہ عورت کی دل جوئی کی خاطر اور مرنے والے سے اظہار محبت و اخلاص کے طور پر چار ماہ دس دن کے بعد مزید سات ماہ بیس دن اسے اپنے شوہر کے گھر میں رہنے دیں۔ ہاں اگر عورت چار ماہ دس دن یا وضع حمل کے بعد اپنی مرضی سے اس گھر سے منتقل ہونا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آیتِ میراث کے باوجود چار ماہ دس دن اس گھر میں رہنے کا لازمی حکم دے سکتا ہے تو سال کے باقی ماندہ دن اختیاری طور پر وہاں رہنے کی اجازت کا حکم بھی دے سکتا ہے اور یہ آیتِ میراث کے خلاف نہیں۔ یہ رائے امام مجاہد بن جبر، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمھما اللہ اور دوسرے کئی اہل علم کی ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسے قوی قرار دیا ہے اور اس سے قرآن کی آیات کی ترتیب کا حسن بھی باقی رہتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں آپ رضی اللہ عنہما نے مجھے بلوایا اور مجھ سے یہی مسئلہ پوچھا، میں نے اپنا یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سمیت سنایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی اسی کی پیروی کی اور یہی فیصلہ دیا [موطا591/2]، اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
اشتهر عند كثير من المفسرين أن هذه الآية الكريمة نسختها الآية التي قبلها وهي قوله تعالى: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجاً يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشراً}؛ وأن الأمر كان على الزوجة أن تتربص حولاً كاملاً ثم نسخ بأربعة أشهر وعشر، ويجيبون عن تقدم الآية الناسخة أن ذلك تقدم في الوضع لا في النزول لأن شرط الناسخ أن يتأخر عن المنسوخ، وهذا القول لا دليل عليه، ومن تأمل الآيتين اتضح له أن القول الآخر في الآية هو الصواب، وأن الآية الأولى في وجوب التربص أربعة أشهر وعشراً على وجه التحتيم على المرأة، وأما في هذه الآية فإنها وصية لأهل الميت أن يبقوا زوجة ميتهم عندهم حولاً كاملاً جبراً لخاطرها وبرًّا بميتهم، ولهذا قال: {وصية لأزواجهم}؛ أي: وصية من الله لأهل الميت أن يستوصوا بزوجته ويمتعوها ولا يخرجوها، فإن رغبت أقامت في وصيتها وإن أحبت الخروج فلا حرج عليها، ولهذا قال: {فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن}؛ أي: من التجمل واللباس، لكن الشرط أن يكون بالمعروف الذي لا يخرجها عن حدود الدين والاعتبار. وختم الآية بهذين الاسمين العظيمين الدالين على كمال العزة وكمال الحكمة، لأن هذه أحكام صدرت عن عزته، ودلت على كمال حكمته حيث وضعها في مواضعها اللائقة بها.