ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 238

حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی ٭ وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾
سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو۔ En
(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو
En
نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت238) ➊ {حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى:} شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: درمیانی نماز عصر ہے کہ دن اور رات کے درمیان میں ہے اور اس کی پابندی پر زیادہ زور دیا اور طلاق کے حکموں میں نماز کا ذکر فرما دیا کہ دنیا کے معاملات میں غرق ہو کر عبادت کو نہ بھول جاؤ۔ عصر کی پابندی کا حکم اس لیے زیادہ ہے کہ اس وقت دنیا کا شغل زیادہ ہوتا ہے۔ (موضح)
➋ حفاظت سے مراد وقت کا خیال رکھنا ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: تمام اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔ [بخاری، الصلاۃ، باب فضل الصلوۃ لوقتہا: ۵۲۷]
➌ {وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى:} اس کے متعلق گو اختلاف ہے مگر جمہور علماء کے نزدیک اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔ یہی صحیح اور راجح ہے، متعدد احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ بخاری، مسلم اور سنن کی کتابوں میں متعدد صحابہ سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا: [شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلاَۃِ الْوُسْطٰی صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَ قُبُوْرَہُمْ نَارًا] [مسلم، المساجد، باب الدلیل لمن …: 627/205۔ بخاری: ۶۳۹۶] انھوں نے ہمیں صلاۃ الوسطی یعنی عصر کی نماز سے روک دیا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھرے۔ بہت سے صحابہ کے آثار سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس کی عصر کی نماز فوت ہو گئی گویا اس کا اہل و عیال اور مال لوٹ لیا گیا۔ [بخاری، مواقیت الصلوۃ، باب إثم من فاتتہ العصر: ۵۵۲۔ مسلم: ۶۲۶]
➍ {قٰنِتِيْنَ:} فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو، یعنی نماز میں کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سے معلوم ہو کہ آدمی نماز کی حالت میں نہیں ہے، جیسے کھانا پینا اور کسی سے بات کرنا۔ عربی زبان میں قنوت کے کئی معانی آتے ہیں، مگر یہاں مراد سکوت (خاموشی) ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نماز میں ایک دوسرے سے بات کر لیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے (جو نماز میں ہوتا) اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: «حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ» تو ہمیں (نماز میں) خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا اور باتیں کرنے سے منع کر دیا گیا۔ [بخاری، التفسیر، باب «و قوموا للہ …» : ۴۵۳۴۔ مسلم، المساجد، باب تحریم الکلام …: ۵۳۹]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

238۔ 1 درمیان والی نماز سے مراد عصر کی نماز جس کو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین کردیا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق والے دن عصر کی نماز کو صلوٰۃ وُسْطٰی قرار دیا۔ (صحیح بخاری کتاب الجہاد)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

238۔ اپنی سب [332] نمازوں کی محافظت کرو بالخصوص درمیانی نماز [333] کی اور اللہ کے حضور ادب [334] سے کھڑے ہوا کرو
[332] عائلی مسائل کے درمیان نماز کی تاکید سے متعلق جو دو آیات آ گئی ہیں تو ان کی غالباً حکمت یہ ہے کہ ایسے معاشرتی مسائل کو بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لیے جس تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے نماز اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے نمازوں کی محافظت کی تاکید کی جا رہی ہے یعنی ہر نماز کو اس کے وقت پر اور پوری شرائط و آداب کے ساتھ ادا کیا جائے۔
[333] نماز وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے اور اس کی تاکید مزید:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا۔ ان کافروں نے مجھے درمیانی نماز نہ پڑھنے دی حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ [بخاري، كتاب التفسير] نیز حضرت ابن عباسؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ دونوں سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلوٰۃ وسطیٰ نماز عصر ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عصر کی نماز قضا ہو گئی اس کا گھر بار، مال و اسباب سب لٹ گیا۔“ [بخاري، كتاب مواقيت الصلٰوة، باب إثم من فاتته العصر] اور بالخصوص اس نماز کی تاکید اس لیے فرمائی کہ دنیوی مشاغل کے لحاظ سے یہ وقت بہت اہم ہوتا ہے۔
[334] نماز میں با ادب کھڑا ہونے کا حکم:۔
یعنی اللہ کے حضور عاجزی اور ادب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ نیز ایسی کوئی فضول حرکت نہ کی جائے جو ادب کے خلاف ہو یا نماز کو توڑ ڈالنے والی ہو جیسے خواہ مخواہ یا عادتاً ہاتھوں کو حرکت دینا، ہلاتے رہنا یا ہنسنا یا بات چیت کر لینا وغیرہ۔ چنانچہ حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں باتیں کر لیا کرتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب التفسير۔ زير آيت مذكوره] مسلم کی روایت میں اضافہ ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے بعد ہمیں حکم دیا گیا کہ چپ چاپ سکون سے کھڑے ہوں اور باتیں کرنے سے بھی منع کر دیا گیا [مسلم، كتاب المساجد۔ باب تحريم الكلام فى الصلوة]
2۔ حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے تو نماز کے آخر میں دائیں بائیں السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارے کرتے ہو۔ جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تمہیں اتنا ہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہہ لیا کرو۔ [مسلم: كتاب الصلٰوة، باب الأمر بالسكون فى الصلوة والنهي عن الاشارة باليد.....]
صف درست کرنے اور مل کر کھڑا ہونے کا حکم:۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم کو اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تم لوگ نماز میں کوئی حرکت نہ کیا کرو۔ پھر آپ نے ایک دفعہ حلقہ باندھے دیکھ کر فرمایا تم لوگ الگ کیوں ہو؟ پھر ایک مرتبہ آپ نے فرمایا صفیں اس طرح باندھا کرو۔ جیسے فرشتے بارگاہ الٰہی میں صف بستہ رہتے ہیں۔ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو۔ اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو۔ [مسلم حواله ايضاً] البتہ کچھ کام ایسے ہیں جو حالت نماز میں بھی سر انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً:
1۔ اگر امام بھول جائے تو مقتدی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں اور اگر مقتدی عورت ہو تو وہ تالی بجا سکتی ہے۔ [بخاري۔ تصفيق النساء]
2۔ اگر قرأت کرتے ہوئے امام بھول جائے تو مقتدی بتلا سکتا یعنی لقمہ دے سکتا ہے۔
نماز کے دوران کون کون سے کام کرنا جائز یا ضروری ہیں:۔
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں صلح کرانے گئے۔ ظہر کا وقت ہو گیا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے نماز پڑھانا شروع کر دی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچ گئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف میں آ کھڑے ہوئے۔ صحابہؓ نے تالی بجائی جس سے حضرت ابو بکر صدیقؓ متوجہ ہوئے اور پیچھے کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف میں کھڑے تھے۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو نماز پڑھاتے رہنے کا اشارہ کیا۔ لیکن ابو بکر صدیقؓ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ پھر نماز کے بعد فرمایا کہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے، مرد سبحان اللہ کہا کریں۔ [بخاري]
4۔ اگر گرمی کی وجہ سے زمین تپ رہی ہو تو نمازی اپنے سجدہ کی جگہ پر کپڑا بچھا سکتا ہے۔ [بخاري حواله ايضاً]
5۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رات کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں اپنے پاؤں لمبے کئے ہوتی تو سجدہ کے وقت آپ مجھے ہاتھ لگاتے تو میں پاؤں سمیٹ لیتی۔ پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں پاؤں لمبے کر لیتی۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
6۔ ایک دفعہ حضرت ابن عباسؓ اپنی خالہ ام المومنین میمونہؓ کے ہاں رات رہے۔ انہی کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو اٹھے، وضو کیا اور نماز میں کھڑے ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابن عباسؓ نے بھی وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا کر بائیں طرف کھڑے ہو کر نماز میں شامل ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباسؓ کے سر پر ہاتھ رکھا، پھر دائیں کان کو مروڑا۔ پھر انہیں پکڑ کر پیچھے کی طرف سے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ [بخاري، كتاب الاذان، باب اذا قام الرجل عن يسار الامام۔۔۔ الخ]
7۔ اگر نفلی نماز کے دوران والدہ یا والد پکارے تو نماز توڑ کر بھی ان کی بات سننا چاہیے [تفصيل كے ليے ديكهئے سورة انفال كي آيت نمبر 24 كا حاشيه]
8۔ ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اہواز میں خارجیوں سے جنگ میں مصروف تھے کہ ایک صحابی ابو برزہ اسلمی اپنی گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں سنبھالے نماز پڑھنے لگے۔ گھوڑا لگام کھینچنے لگا اور ابو برزہ بھی ساتھ ساتھ پیچھے چلتے گئے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا۔ یا اللہ بوڑھے کا ستیا ناس کر۔ جب ابو برزہ نماز سے فارغ ہوئے تو اس خارجی سے کہا کہ میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آٹھ جہاد کئے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں پر آسانی کیا کرتے تھے اور مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں، نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چلا جائے اور میں مصیبت میں پڑ جاؤں۔ [بخاري، حواله ايضاً]
دین میں آسانی کی ایک مثال:۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے لمبا کروں، پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بچے کے رونے سے ماں کے دل پر کیسی چوٹ پڑتی ہے۔“ [بخاري، كتاب الاذان۔ باب من اخف الصلوة عند بكاء الصبي]
10۔ حضرت ابو قتادہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص (حضرت زینب کی بیٹی) کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنا شروع کی جب رکوع کرتے تو امامہ کو زمین پر بٹھلا دیتے اور جب سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اسے اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔ [بخاري: كتاب الادب، باب رحمه الولد و تقبيله و معانقة]
اور ایک دوسری روایت میں رکوع کے علاوہ سجدہ کا لفظ آیا ہے [بخاري: كتاب الصلوة، باب حمل جارية صغيرة على عنقه فى الصلوة]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صلوۃ وسطی کون سی ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کا حکم ہو رہا ہے کہ نمازوں کے وقت کی حفاظت کرو اس کی حدود کی نگرانی رکھو اور اول وقت ادا کرتے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سوال کرتے ہیں کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر پڑھنا، پھر پوچھا کون سا؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر کون سا؟ ماں باپ سے بھلائی کرنا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر میں کچھ اور بھی پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بھی جواب دیتے۔ [صحیح بخاری:5970]‏‏‏‏
سیدہ ام فردہ رضی اللہ عنہا جو بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعمال کا ذِکر فرما رہے تھے۔ اسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کو اول وقت ادا کرنے کی جلدی کرنا ہے۔ [مسند احمد:374/6:صحیح]‏‏‏‏ امام ترمذی اس حدیث کے ایک راوی عمری کو غیر قوی بتاتے ہیں۔
پھر صلوۃ وسطی کی مزید تاکید ہو رہی ہے۔ سلف و خلف کا اس میں اختلاف ہے کہ صلوٰۃ وسطی کس نماز کا نام ہے، سیدنا علی، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہیں جس میں ہاتھ اٹھا کر قنوت بھی پڑھتے ہیں، پھر فرماتے ہیں یہی وہ نماز وسطیٰ ہے جس میں قنوت کا حکم ہوا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ بصرے کی مسجد کا ہے اور قنوت آپ نے رکوع سے پہلے پڑھی تھی۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بصرے میں میں نے سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی پھر میں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ صلوٰۃ وسطی کون سی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی صبح کی نماز ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بہت سے اصحاب اس مجمع میں تھے اور سب نے یہی جواب دیا۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اس لیے کہ ان کے نزدیک صبح کی نماز میں ہی قنوت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مغرب کی نماز ہے اس لیے کہ اس سے پہلے بھی چار رکعت والی نماز ہے اور اس کے بعد بھی چار رکعت والی نماز ہے اور سفر میں دونوں قصر کی جاتی ہیں لیکن مغرب پوری ہی رہتی ہے۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے بعد دو نمازیں رات کی عشاء اور فجر وہ ہیں جن میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے اور دو نمازیں اس سے پہلی دن کی وہ ہیں کہ جن میں آہستہ قرأت پڑھی جاتی ہے یعنی ظہر، عصر۔
بعض کہتے ہیں یہ نماز ظہر کی ہے۔ ایک مرتبہ چند لوگ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں یہی مسئلہ چھڑا، لوگوں نے ایک آدمی بھیج کر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ ظہر کی نماز ہے جسے حضور علیہ السلام اوّل وقت پڑھا کرتے تھے۔ [طیالسی:628:ضعیف]‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے زیادہ بھاری نماز صحابہ رضی اللہ عنہم پر اور کوئی نہ تھی اس لیے یہ آیت نازل ہوئی اور اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد دو ہیں۔ [سنن ابوداود:411، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ قریشیوں کی ایک جماعت کے بھیجے ہوئے دو شخصوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عصر ہے، پھر دو اور شخصوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ظہر ہے، پھر ان دونوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ ظہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے آفتاب ڈھلتے ہی پڑھا کرتے تھے، بمشکل ایک دو صف کے لوگ آتے تھے، کوئی نیند میں ہوتا کوئی کاروبار میں مشغول ہوتا جس پر یہ آیت اتری اور آپ نے فرمایا تو یہ لوگ اس حرکت سے باز آئیں یا میں ان کے گھروں کو جلا دوں گا، [مسند احمد:206/5:منقطع و ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس کے راوی زبرقان نے صحابی سے ملاقات نہیں کی لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے اور روایات سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ اس سے مراد ظہر کی نماز ہی بتاتے تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:5453:صحیح موقوف]‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے کہ سیدنا عمر، ابوسعید، عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی کی ہے۔
بعض کہتے ہیں اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اکثر علماء صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کا یہی قول ہے، جمہور تابعین کا بھی یہی قول ہے اور اکثر اہل اثر کا بھی، بلکہ جمہور لوگوں کا، حافظ ابومحمد عبدالمومن دمیاطی نے اس بارے میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس کا نام «کشف الغطاء فی تبیین الصلوۃ الوسطیٰ» ہے اس میں ان کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ عصر کی نماز ہے۔ سیدنا عمر، علی، ابن مسعود، ابوایوب، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، ابوہریرہ، ابوسعید، حفصہ، ام حبیبہ، ام سلمہ، ابن عمر، ابن عباس، عائشہ [رضوان اللہ علیہم اجمعین]‏‏‏‏ وغیرہ کا فرمان بھی یہی ہے اور ان حضرات سے یہی مروی ہے اور بہت سے تابعین سے یہ منقول ہے۔ امام احمد اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی صحیح مذہب یہی ہے۔ ابویوسف، محمد سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن حبیب مالکی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
اس قول کی دلیل سنیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب میں فرمایا اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے دِلوں کو اور گھر کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر سے روک دیا۔ [صحیح بخاری:2931]‏‏‏‏
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم اس سے مراد صبح یا عصر کی نماز لیتے ہیں یہاں تک کہ جنگ احزاب میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، اس میں قبروں کو بھی آگ سے بھرنا وارد ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5426:حسن بالشواھد]‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ عصر کی نماز ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [مسند احمد:8/5:صحیح المتن]‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ اس بارے میں سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم نے بھی ایک مرتبہ اس میں اختلاف کیا تو ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ مجلس میں سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر گئے، اجازت مانگ کر اندر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے باہر آ کر ہمیں فرمایا یہ نماز عصر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5439]‏‏‏‏ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ کی مجلس میں بھی ایک مرتبہ یہی مسئلہ پیش آیا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جاؤ فلاں صحابی رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤ، تو ایک شخص نے کہا کہ مجھ سے سنیئے مجھے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے میرے بچپن میں یہی مسئلہ پوچھنے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چھنگلیا یعنی سب سے چھوٹی انگلی پکڑ کر فرمایا دیکھ یہ تو ہے فجر کی نماز، پھر اس کے پاس والی انگلی تھام کر فرمایا یہ ہوئی ظہر کی، پھر انگوٹھا پکڑ کر فرمایا یہ ہے مغرب کی نماز، پھر شہادت کی انگلی پکڑ کر فرمایا یہ عشاء کی نماز، پھر مجھ سے کہا اب تمہاری کون سی انگلی باقی رہی، میں نے کہا بیچ کی، فرمایا اور نماز کون سی باقی رہی، میں نے کہا عصر کی، فرمایا یہی صلوۃ وسطیٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5445]‏‏‏‏ لیکن یہ روایت بہت ہی غریب ہے، غرض صلوٰۃ وسطیٰ سے نماز عصر مراد ہونا بہت سی احادیث میں وارد ہے جن میں سے کوئی حسن ہے کوئی صحیح ہے کوئی ضعیف ہے۔ ترمذی مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیثیں ہیں۔
پھر اس نماز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدیں اور سختی کے ساتھ محافظت بھی ثابت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کا گھرانہ تباہ ہو گیا اور مال و اسباب برباد ہو گیا۔ [صحیح بخاری:552]‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے ابر والے دن نمازِ اول وقت پڑھو، سنو جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه:694، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز قبیلہ غفار کی ایک وادی میں جس کا نام حمیص تھا، ادا کی پھر فرمایا یہی نماز تم سے اگلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا، سنو اسے پڑھنے والے کو دوہرا اجر ملتا ہے اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ تم تارے نہ دیکھ لو۔ [صحیح مسلم:830:صحیح]‏‏‏‏
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آزاد کردہ غلام ابویونس رحمہ اللہ سے فرماتی ہیں کہ میرے لیے ایک قرآن شریف لکھو اور جب اس آیت «حَافِظُوا» تک پہنچو تو مجھے اطلاع کرنا، چنانچہ جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» کے بعد آیت «وصلوۃ العصر» لکھوایا اور فرمایا میں نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [صحیح مسلم:629:صحیح]‏‏‏‏ ایک روایت میں آیت «وھی صلوۃ العصر» کا لفظ بھی ہے [ابن جریر]‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیوی صاحبہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عمرو بن رافع رضی اللہ عنہ کو جو آپ کے قرآن کے کاتب تھے، اسی طرح یہ آیت لکھوائی۔ [مؤطا:139/1:صحیح]‏‏‏‏
اس حدیث کے بھی بہت سے طریقے ہیں اور کئی کتابوں میں مروی ہے کہ ام المؤمنین نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی الفاظ سنے ہیں، سیدنا نافع رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے یہ قرآن شریف اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہی عبارت واؤ کے ساتھ تھی، سیدنا ابن عباس اور عبید بن عسیر رضی اللہ عنہما کی قرأت بھی یونہی ہے، ان روایات کو مدنظر رکھ کر بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ واؤ عطف کیلئے ہوتا ہے کہ صلوٰۃ الوسطیٰ اور ہے اور صلوٰۃ عصر اور ہے لیکن اس کا جاب یہ ہے کہ اگر اسے بطور حدیث کے مانا جائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہما والی حدیث بہت زیادہ صحیح ہے اور اس میں صراحت موجود ہے، رہا واؤ، سو ممکن ہے کہ زائد ہو عاطفہ نہ ہو جیسے آیت «وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ» [6۔ الانعام: 55]‏‏‏‏ میں اور «وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ» [6۔ الانعام: 75]‏‏‏‏ میں یا یہ واؤ عطف صفت کیلئے ہو عطف ذات کیلئے نہ ہو جیسے آیت «وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ» [33۔ الاحزاب: 40]‏‏‏‏ میں اور جیسے آیت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ» [87۔ الاعلی: 1-4]‏‏‏‏ میں۔ اس کی مثالیں اور بھی بہت سی ہیں، شاعروں کے شعروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ سیبویہ جو نحویوں کے امام ہیں، فرماتے ہیں کہ «مررت باخیک وصاحبک» کہنا درست ہے حالانکہ صاحب اور اخ سے مراد ایک ہی شخص ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور اگر اس قرأت کے الفاظ کو بطور قرآنی الفاظ کے مانا جائے تو ظاہر ہے کہ اس خبر واحد سے قرأت قرآنی ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ تواتر ثابت نہ ہو، اسی لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اپنے مرتب کردہ قرآن میں اس قرأت کو نہیں لیا، اور نہ ساتوں قاریوں کی قرأت میں یہ الفاظ ہیں بلکہ نہ کسی اور ایسے معتبر قاری کی یہ قرات پائی گئی ہے، علاوہ ازیں ایک حدیث اور ہے جس سے اس قرأت کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ یہ آیت اتری «حافظو علی الصلوات والصلوٰۃ الوسطی وصلوٰۃ العصر» ہم ایک مدت تک اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آیت کو پڑھتے رہے پھر یہ تلاوت منسوخ ہو گئی اور آیت یوں ہی رہی آیت «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» [البقرہ: 238]‏‏‏‏ ایک شخص نے راوی حدیث سیدنا شفیق رضی اللہ عنہما سے کہا کہ پھر کیا یہ نماز عصر کی نماز ہی ہے، فرمایا میں تو سنا چکا کہ کس طرح آیت اتری اور کس طرح منسوخ ہوئی، [صحیح مسلم:630:صحیح]‏‏‏‏ پس اس بنا پر یہ قرأت ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما کی روایت والی یا تو لفظاً منسوخ کی جائے گی اور اگر واؤ کو مغائرت کیلئے مانا جائے تو لفظ و معنی دونوں کے اعتبار سے منسوخ کی جائے گی،
بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب کی نماز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ مروی ہے لیکن اس کی سند میں کلام ہے، بعض اور حضرات کا قول بھی یہی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ اور فرض نمازیں یا تو چار رکعت والی ہیں یا دو رکعت والی، اور اس کی تین رکعتیں ہیں پس یہ درمیانہ نماز ٹھہری۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فرض نمازوں کی یہ وتر ہے اور اس لیے بھی کہ اس کی فضیلت میں بھی بہت کچھ حدیثیں وارد ہوئی ہیں، بعض لوگ اس سے مراد عشاء کی نماز بھی بتلاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں پانچ وقتوں میں سے ایک وقت کی نماز ہے لیکن ہم معین نہیں کر سکتے یہ مبہم ہے جس طرح لیلۃ القدر پورے سال میں یا پورے مہینے میں یا پچھلے دس دِنوں میں مبہم ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کا مجموعہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں یہ عشاء اور صبح ہے۔ بعض کا قول ہے یہ جماعت کی نماز ہے بعض کہتے ہیں جمعہ کی نماز ہے، کوئی کہتا ہے صلوٰۃ خوف مراد ہے، کوئی کہتا ہے نمازِ عید مراد ہے، کوئی کہتا ہے صلوٰۃ ضحیٰ مراد ہے، بعض کہتے ہیں ہم توقف کرتے ہیں اور کسی قول کے قائل نہیں بنتے، اس لیے کہ دلیلیں مختلف ہیں، وجہ ترجیح معلوم نہیں، کسی قول پر اجماع ہوا نہیں بلکہ زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک جھگڑا جاری رہا۔ جس طرح سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بارے میں اس طرح مختلف تھے پھر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔
لیکن یہ یاد رہے کہ یہ پچھلے اقوال سب کے سب ضعیف ہیں، جھگڑا صرف صبح اور عصر کی نماز میں ہے اور صحیح احادیث سے عصر کی نماز کا صلوٰۃ وسطیٰ ہونا ثابت ہے پس لازم ہو گیا کہ ہم سب اقوال کو چھوڑ کر یہی عقیدہ رکھیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ نمازِ عصر ہے۔ امام ابومحمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہم اللہ نے اپنی کتاب فضائل شافعی میں روایت کی ہے کہ امام صاحب فرمایا کرتے تھے حدیث «کل ماقلت فکان عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بخلاف قولی مما یصح فحدیث النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولیٰ ولا تقلدونی» یعنی میرے جس کسی قول کیخلاف کوئی صحیح حدیث شریف مروی ہو تو حدیث ہی اولیٰ ہے خبردار میری تقلید نہ کرنا، امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان کو امام ربیع امام زعفرانی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی روایت کرتے ہیں، اور موسیٰ ابوالولید جارود رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا «اذا صح الحدیث و قلت قولا فانا راجع عن قولی و قائل بذالک» یعنی میری جو بات حدیث شریف کیخلاف ہو، میں اپنی اس بات سے رجوع کرتا ہوں اور صاف کہتا ہوں کہ میرا مذہب وہی ہے جو حدیث میں ہو، یہ امام صاحب کی امانت اور سرداری ہے اور آپ جیسے ائمہ کرام میں سے بھی ہر ایک نے یہی فرمایا ہے کہ ان کے اقوال کو دین نہ سمجھا جائے۔ رحمھم اللہ و رضی عنہم اجمعین
اسی لیے قاضی ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا صلوٰۃ وسطیٰ کے بارے میں یہی مذہب سمجھنا چاہیئے کہ وہ عصر ہے، گو امام صاحب کا اپنا قول یہ ہے کہ وہ عصر نہیں ہے مگر آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کے مطابق حدیث صحیح کے خلاف اس قول کو پا کر ہم نے چھوڑ دیا۔ شافعی مذہب کے اور بھی بہت سے محدثین نے یہی فرمایا ہے فالحمدللہ بعض فقہاء شافعی تو کہتے ہیں کہ امام صاحب کا صرف ایک ہی قول ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے لیکن یہ سب باتیں طے کرنے کیلئے تفسیر مناسب نہیں، علیحدہ اس کا بیان میں نے کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع خضوع، ذلت اور مسکینی کے ساتھ کھڑے ہوا کرو جس کو یہ لازم ہے کہ انسانی بات چیت نہ ہو اسی لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے سلام کا جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں نہ دیا اور بعد میں فراغت فرمایا کہ نماز مشغولیت کی چیز ہے۔[صحیح بخاری:1199]‏‏‏‏ اور سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے جبکہ انہوں نے نماز پڑھتے ہوئے بات کی تو فرمایا نماز میں انسانی بات چیت نہ کرنی چاہیئے یہ تو صرف تسبیح اور ذِکر اللہ ہے۔[صحیح مسلم:537:صحیح]‏‏‏‏ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے لوگ ضروری بات چیت بھی نماز میں کر لیا کرتے تھے، جب یہ آیت اتری تو چپ رہنے کا حکم دے دیا گیا،[مسند احمد:368/4:صحیح]‏‏‏‏ لیکن اس حدیث میں ایک اشکال یہ ہے کہ علماء کرام کی ایک جماعت کے نزدیک نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف کی ہجرت سے پہلے ہی مکہ شریف میں نازل ہو چکی تھی۔
چنانچہ صحیح مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے آپ نماز میں ہوتے پھر بھی جواب دیتے، جب حبشہ سے ہم واپس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے آپ کی نماز کی حالت میں ہی سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، اب میرے رنج و غم کا کچھ نہ پوچھئے نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا عبداللہ رضی اللہ عنہما اور کوئی بات نہیں میں نماز میں تھا اس وجہ سے میں نے جواب نہ دیا، اللہ جو چاہے نیا حکم اتارے، اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں نہ بولا کرو، [سنن ابوداود:924، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پس یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے کا ہے اور یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، اب بعض تو کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب جنس کلام سے ہے اور اس کی حرمت پر اس آیت سے استدلال بھی خود ان کا فہم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، بعض کہتے ہیں ممکن ہے دو دفعہ حلال ہوا ہو اور دو دفعہ ممانعت ہوئی ہو لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما والی روایت جو ابویعلیٰ میں ہے اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب نہ دینے سے مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فارغ ہو کر حدیث «وعلیک اسلام ایھا المسلم و رحمتہ اللہ» نماز میں جب تم ہو تو خاموش رہا کرو ۔ [میزان:204/1:منقطع و ضعیف]‏‏‏‏
چونکہ نمازوں کی پوری حفاظت کرنے کا فرمان صادر ہو چکا تھا اس لیے اب اس حالت کو بیان فرمایا جاتا جس میں تمام ادب و آداب کی پوری رعایت عموماً نہیں رہ سکتی، یعنی میدان جنگ میں جبکہ دشمن سر پر ہو تو فرمایا کہ جس طرح ممکن ہو سوار پیدل قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر لیا کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آیت کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں بلکہ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو جانتا ہوں یہ مرفوع ہے، [صحیح بخاری:4535:صحیح]‏‏‏‏ مسلم شریف میں ہے سخت خوف کے وقت اشارے سے ہی نماز پڑھ لیا کرو، گو سواری پر سوار ہو، سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان کے قتل کیلئے بھیجا تھا تو آپ نے اسی طرح نماز عصر اشارے سے ادا کی تھی۔ [سنن ابوداود:1249، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ پس اس میں جناب باری نے اپنے بندوں پر بہت آسانی کر دی اور بوجھ کو ہلکا کر دیا،
صلوٰۃ خوف ایک رکعت پڑھنی بھی آئی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر کی حالت میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر کی حالت میں دو اور خوف کی حالت میں ایک۔ [صحیح مسلم:687:صحیح]‏‏‏‏
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس وقت ہے جب بہت زیادہ خوف ہو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور بہت سے اور بزرگ صلوٰۃ خوف ایک رکعت بتاتے ہیں، امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے کہ فتوحات قلعہ کے موقع پر اور دشمن کے مڈبھیڑ کے موقع پر نماز ادا کرنا۔ اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر فتح قریب آ گئی ہو اور نماز پڑھنے پر قدرت نہ ہو تو ہر شخص اپنے طور پر اشارے سے نماز پڑھ لے، اگر اتنا وقت بھی نہ ملے تو تاخیر کریں یہاں تک کہ لڑائی ختم ہو جائے اور چین نصیب ہو تو دو رکعتیں ادا کر لیں ورنہ ایک رکعت کافی ہے لیکن صرف تکبیر کہہ لینا کافی نہیں بلکہ تاخیر کر دیں یہاں تک کہ امن ملے،
مکحول رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تستر قلعہ کی لڑائی میں میں بھی فوج میں تھا، صبح صادق کے وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی، ہمیں وقت ہی نہ ملا کہ نماز ادا کرتے، خوب دن چڑھے اس دن ہم نے صبح کی نماز پڑھی، اگر اس نماز کے بدلے میں مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے مل جائے تاہم میں خوش نہیں ہوں، [صحیح بخاری:944]‏‏‏‏ بعد ازاں امام المحدثین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جنگ خندق میں سورج غروب ہو جانے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز نہ پڑھ سکے، پھر دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بنی قریظہ کی طرف بھیجا تو ان سے فرما دیا تھا کہ تم میں سے کوئی بھی بنی قریظہ سے ورے نماز عصر نہ پڑھے، اب جبکہ نماز عصر کا وقت آ گیا تو بعض نے تو وہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، وہیں جا کر نماز پڑھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں کہا، [المرجع السابق]‏‏‏‏ پس اس سے امام بخاری یہ مسئلہ ثابت کرتے ہیں گو جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں سورۃ نساء میں جو نماز خوف کا حکم ہے اور جس نماز کی مشروعیت اور طریقہ احادیث میں وارد ہوا ہے وہ جنگ خندق کے بعد کا ہے جیسا کہ ابوسعید وغیرہ کی روایت میں صراحتاً بیان ہے،
لیکن امام بخاری امام مکحول اور امام اوزاعی رحمہ اللہ علیہم کا جواب یہ ہے کہ اس کی مشروعیت بعد میں ہونا اس جواز کیخلاف نہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ بھی جائز ہو اور وہ بھی طریقہ ہو، کیونکہ ایسی حالت میں شاذو نادر کبھی ہی ہوتی ہے اور خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے فاروق اعظم کے زمانے میں فتح تستر میں اس پر عمل کیا اور کسی نے انکار نہیں کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمان ہے کہ امن کی حالت میں بجا آوری کا پورا خیال رکھو، جس طرح میں نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی اور جُہل کے بعد علم دیا تو تمہیں بھی چاہیئے کہ اس کے شکریہ میں ذکر اللہ باطمینان کیا کرو، جیسا کہ نماز خوف کا بیان کر کے فرمایا جب اطمینان ہو جائے تو نمازوں کو اچھی طرح قائم کرو، نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے، صلوٰۃ خوف کا پورا بیان سورۃ نساء کی آیت «وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» [4-النسأ: 102]‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔