تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
مسئلہ: اگر شوہر ہاتھ لگانے سے قبل وفات پا جائے تو بیوی پورے مہر کی حق دار ہو گی، اسے ورثہ بھی ملے گا اور اس پر عدت بھی واجب ہو گی، جیسا کہ بروع بنت واشق کی حدیث میں اوپر گزر چکا ہے۔ واضح رہے کہ مطلقہ عورت کی دو قسمیں ہیں: (1) مہر مقرر ہو چکا تھا اور خاوند نے صحبت کے بعد طلاق دے دی۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۲۹) (2) عقد کے وقت مہر مقرر نہ تھا، مگر صحبت کے بعد طلاق دے دی۔ اس صورت میں عورت مہر مثل کی حق دار ہو گی، یعنی جتنا مہر عموماً اس کے خاندان کی عورتوں کا مقرر ہوتا ہے، اس کے مطابق اسے مہر دلوایا جائے گا، جیسا کہ سورۂ نساء کی آیت (۲۴) میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) نہ مہر مقرر ہو اور نہ صحبت ہوئی ہو۔
(2) مہر مقرر ہو چکا ہو مگر صحبت نہ ہوئی ہو۔ ان دونوں صورتوں کا حکم ان دو آیات میں مذکور ہو چکا ہے۔
(3) مہر بھی مقرر ہو اور صحبت بھی ہو چکی ہو اور یہ سب سے عام صورت ہے۔ اس صورت میں مہر پورا دینا ہو گا۔
(4) مہر مقرر نہ ہوا تھا مگر صحبت ہو چکی۔ اس صورت میں مہر مثل ادا کرنا ہو گا۔ یعنی اتنا مہر جو اس عورت کے قبیلہ میں عام رواج ہے۔ اور بیوہ کے لیے بھی یہی چاروں صورتیں ممکن ہیں مگر اس کے احکام میں اختلاف ہے، جو یہ ہے کہ مہر مقرر ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اور مرنے والے خاوند نے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو، عورت کو بہرحال پورا مہر ملے گا۔ اگر مہر مقرر تھا تو اتنا ملے گا اور اگر مقرر نہیں ہوا تھا تو مہر مثل ملے گا، اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ حضرت علقمہؓ کہتے ہیں کہ ابن مسعودؓ سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا۔ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا نہ حق مہر مقرر ہوا اور نہ ہی صحبت کر سکا کہ اس کی وفات ہو گئی۔ ابن مسعود نے اسے جواب دیا کہ اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مثل مہر دیا جائے، نہ کم نہ زیادہ، اور اس پر عدت بھی ہے اور میراث سے اسے حصہ بھی ملے گا۔ (یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا“ یہ سن کر ابن مسعودؓ خوش ہو گئے۔ [ترمذي، ابواب النكاح باب فى الرجل يتزوج المرأة فيموت عنها قبلأن يفرض لها نيز ابو داؤد، كتاب النكاح، باب فيمن تزوج ولم يسم صداقا حتي مات]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کی روایت سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس صورت میں بھی صرف نصف مہر مقررہ ہی دینا پڑے گا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں بھی یہی کہتا ہوں اور ظاہر الفاظ کتاب اللہ کے بھی یہی کہتے ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کے ایک راوی لیث بن ابی سلیم اگرچہ سند پکڑے جانے کے قابل نہیں لیکن ابن ابی طلحہ رحمہ اللہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما کا فرمان یہی ہے، پھر فرماتا ہے کہ اگر عورتیں خود ایسی حالت میں اپنا آدھا مہر بھی خاوند کو معاف کر دیں تو یہ اور بات ہے اس صورت میں خاوند کو سب معاف ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثیبہ عورت اگر اپنا حق چھوڑ دے تو اسے اختیار ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:839/2] بہت سے مفسرین تابعین کا یہی قول ہے، محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عورتوں کا معاف کرنا نہیں بلکہ مردوں کا معاف کرنا ہے۔ یعنی مرد اپنا آدھا حصہ چھوڑ دے اور پورا مہر دیدے لیکن یہ قول شاذ ہے کوئی اور اس قول کا قائل نہیں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دینے کی رخصت عورت کو دی اور اگر وہ بخیلی اور تنگ دِلی کرے تو اس کا ولی بھی معاف کر سکتا ہے۔ گو وہ عورت سمجھدار ہو، شریح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں لیکن جب شعبی رحمہ اللہ نے انکار کیا تو آپ نے اس سے رجوع کر لیا اور فرمانے لگے کہ اس سے مراد خاوند ہی ہے بلکہ وہ اس بات پر مباہلہ کو تیار رہتے تھے۔
ابن مردویہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک کاٹ کھانے والا زمانہ آئے گا، مومن بھی اپنے ہاتھوں کی چیز کو دانتوں سے پکڑ لے گا اور فضیلت و بزرگی کو بھول جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اپنے آپس کے فضل کو نہ بھولو، برے ہیں وہ لوگ جو ایک مسلمان کی بے کسی اور تنگ دستی کے وقت اس سے سستے داموں اس کی چیز خریدتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع فرما دیا ہے۔ اگر تیرے پاس بھلائی ہو تو اپنے بھائی کو بھی وہ بھلائی پہنچا اس کی ہلاکت میں حصہ نہ لے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اسے رنج و غم پہنچے نہ اسے بھلائیوں سے محروم رکھے، [سنن ابوداود:3382، قال الشيخ الألباني:ضعیف] حضرت عون بن عبداللہ حدیثیں بیان کرتے جاتے روتے جاتے یہاں تک کہ آنسو داڑھی سے ٹپکتے رہتے اور فرماتے میں مالداروں کی صحبت میں بیٹھا اور دیکھا کہ ہر وقت دِل ملول رہتا ہے کیونکہ جدھر نظر اٹھتی ہر ایک کو اپنے سے اچھے کپڑوں میں اچھی خوشبوؤں میں اور اچھی سواریوں میں دیکھتا، ہاں مسکینوں کی محفل میں میں نے بڑی راحت پائی،
رب العالم یہی فرماتا ہے ایک دوسرے کی فضیلت فراموش نہ کرو، کسی کے پاس جب بھی کوئی سائل آئے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ اس کیلئے دُعائے خیر ہی کر دے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے، اس پر تمہارے کام اور تمہارا حال بالکل روشن ہے اور عنقریب وہ ہر ایک عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إذا طلقتم النساء قبل المسيس وبعد فرض المهر فللمطلقات من المهر المفروض نصفه ولكم نصفه، هذا هو الواجب ما لم يدخله عفو ومسامحة بأن تعفو عن نصفها لزوجها إذا كان يصح عفوها، {أو يعفو الذي بيده عقدة النكاح}؛ وهو الزوج على الصحيح لأنه الذي بيده حل عقدته، ولأن الولي لا يصح أن يعفو عن ما وجب للمرأة لكونه غير مالك ولا وكيل، وقيل: إنه الأب وهو الذي يدل عليه لفظ الآية الكريمة.
ثم رغب في العفو وأن من عفا كان أقرب لتقواه لكونه إحساناً موجباً لشرح الصدر، ولكون الإنسان لا ينبغي أن يهمل نفسه من الإحسان والمعروف، وينسى الفضل الذي هو أعلى درجات المعاملة، لأن معاملة الناس فيما بينهم على درجتين: إما عدل وإنصاف واجب، وهو أخذ الواجب وإعطاء الواجب، وإما فضل وإحسان، وهو إعطاء ما ليس بواجب والتسامح في الحقوق والغض مما في النفس، فلا ينبغي للإنسان أن ينسى هذه الدرجة ولو في بعض الأوقات، وخصوصاً لمن بينك وبينه معاملة أو مخالطة، فإن اللهَ مجازٍ المحسنين بالفضل والكرم، ولهذا قال: {إن الله بما تعملون بصير}. ثم قال تعالى: