تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک لمبی حدیث لکھی ہے جس میں صور وغیرہ کا مفصل بیان ہے جس کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند وغیرہ میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ جب لوگ گھبرا جائیں گے تو انبیاء علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے آدم علیہ السلام سے لے کر ایک ایک پیغمبر علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیں گے میں تیار ہوں میں ہی اس کا اہل ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور عرش تلے سجدے میں گر پڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے کہ وہ بندوں کا فیصلہ کرنے کے لیے تشریف لائے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بادلوں کے سائبان میں آئے گا دنیا کا آسمان ٹوٹ جائے گا اور اس کے تمام فرشتے آ جائیں گے پھر دوسرا بھی پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے بھی آ جائیں گے اسی طرح ساتوں آسمان شق ہو جائیں گے اور ان کے فرشتے بھی آ جائیں گے، پھر اللہ کا عرش اترے گا اور بزرگ تر فرشتے نازل ہوں گے اور خود وہ جبار اللہ جل شانہ تشریف لائے گا فرشتے سب کے سب تسبیح خوانی میں مشغول ہوں گے ان کی تسبیح اس وقت یہ ہو گی۔ دعا «سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ، سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوْتِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَيِ الَّذِی لَا يَمُوْتُ، سبحان الذی یمیت الخلائق وَلَا يَمُوْتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحِ، سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ، سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان ذی السلطان والعطمۃ، سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا» ،۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4042:ضعیف] حافظ ابوبکر بن مردویہ بھی اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث لائے ہیں جن میں غراب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
ان میں سے ایک یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا جس کا وقت مقرر ہے وہ سب کے سب کھڑے ہوں گے آنکھیں پتھرائی ہوئی اور اوپر کو لگی ہوئی ہوں گی ہر ایک کو فیصلہ کا انتظار ہو گا اللہ تعالیٰ ابر کے سائبان میں عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا، [حاکم:376/2:صحیح] ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ اترے گا تو مخلوق اور اس کے درمیان ستر ہزار پردے ہوں گے نور کی چکا چوند کے اور پانی کے اور پانی سے وہ آوازیں آ رہی ہوں گی جس سے دل ہل جائیں، زھیر بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ بادل کا سائبان یاقوت کا جڑا ہوا اور جوہر و زبرجد والا ہو گا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بادل معمولی بادل نہیں بلکہ یہ وہ بادل ہے جو بنی اسرائیل کے سروں پر وادی تیہ میں تھا،
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرشتے بھی بادل کے سائے میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ جس میں چاہے آئے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:264/4] چنانچہ بعض قرأتوں میں یوں بھی ہے آیت «ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ» [2۔ البقرہ: 210] جیسے اور جگہ ہے آیت «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [25۔ الفرقان: 25]۔ یعنی اس دن آسمان بادل سمیت پھٹے گا اور فرشتے اتر آئیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا فيه من الوعيد الشديد والتهديد ما تنخلع له القلوب، يقول تعالى: هل ينتظر الساعون في الفساد في الأرض، المتبعون لخطوات الشيطان، النابذون لأمر الله إلا يوم الجزاء بالأعمال، الذي قد حُشِي من الأهوال والشدائد والفظائع ما يقلقل قلوب الظالمين، ويحق به الجزاء السَّيئ على المفسدين، وذلك أن الله تعالى يطوي السماواتِ والأرضَ، وتنتثر الكواكبُ، وتُكوَّر الشمس والقمر، وتنزل الملائكة الكرام فتحيط بالخلائق، وينزل الباري تبارك وتعالى {في ظلل من الغمام} ليفصل بين عباده بالقضاء العدل، فتوضع الموازين، وتنشر الدواوين، وتبيَّض وجوه أهل السعادة، وتسوَّد وجوه أهل الشقاوة، ويتميز أهل الخير من أهل الشرِّ، وكل يجازى بعمله، فهنالك يعضُّ الظالم على يديه إذا علم حقيقة ما هو عليه.
وهذه الآية وما أشبهها دليل لمذهب أهل السنة والجماعة المثبتين للصفات الاختيارية؛ كالاستواء، والنزول، والمجيء، ونحو ذلك من الصفات التي أخبر بها تعالى عن نفسه، أو أخبر بها عنه رسوله - صلى الله عليه وسلم -، فيثبتونها على وجه يليق بجلال الله وعظمته من غير تشبيه ولا تحريف، خلافاً للمعطلة على اختلاف أنواعهم، من الجهمية والمعتزلة والأشعرية ونحوهم، ممن ينفي هذه الصفات، ويتأول لأجلها الآيات بتأويلات ما أنزل الله عليها من سلطان، بل حقيقتها القدح في بيان الله وبيان رسوله، والزعم بأن كلامهم هو الذي تحصل به الهداية في هذا الباب، فهؤلاء ليس معهم دليل نقلي؛ بل ولا دليل عقلي.
أما النقلي فقد اعترفوا أن النصوص الواردة في الكتاب والسنة، ظاهرها بل صريحها دال على مذهب أهل السنة والجماعة، وأنها تحتاج لدلالتها على مذهبهم الباطل أن تخرج عن ظاهرها ويزاد فيها وينقص، وهذا كما ترى لا يرتضيه من في قلبه مثقال ذرة من إيمان.
وأما العقل فليس في العقل ما يدل على نفي هذه الصفات، بل العقل دل على أن الفاعل أكمل من الذي لا يقدر على الفعل، وأن فعله تعالى المتعلق بنفسه والمتعلق بخلقه هو كمال، فإن زعموا أن إثباتها يدل على التشبيه بخلقه، قيل لهم الكلام على الصفات يتبع الكلام على الذات، فكما أن لله ذاتاً لا تشبهها الذوات فلله صفات لا تشبهها الصفات، فصفاته تبع لذاته وصفات خلقه تبع لذواتهم، فليس في إثباتها ما يقتضي التشبيه بوجه، ويقال أيضاً لمن أثبت بعض الصفات، ونفى بعضاً، أو أثبت الأسماء دون الصفات: إما أن تثبت الجميع كما أثبته الله لنفسه، وأثبته رسوله، وإما أن تنفي الجميع، وتكون منكراً لرب العالمين. وأما إثباتك بعض ذلك ونفيك لبعضه فهذا تناقض، فَفَرِّقْ بين ما أثبته وبين ما نفيته، ولن تجد إلى الفرق سبيلاً. فإن قلت ما أثبته لا يقتضي تشبيهاً، قال لك أهل السنة والإثبات لما نفيته لا يقتضي تشبيهاً، فإن قلت لا أعقل من الذي نفيته إلا التشبيه، قال لك النفاة ونحن لا نعقل من الذي أثبته إلا التشبيه، فما أجبت به النفاة أجابك به أهل السنة لما نفيته.
والحاصل أن من نفى شيئاً، وأثبت شيئاً مما دل الكتاب والسنة على إثباته فهو متناقض؛ لا يثبت له دليل شرعي ولا عقلي، بل قد خالف المعقول والمنقول.