ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 209

فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۰۹﴾
پھر اگر اس کے بعد پھسل جائو کہ تمھارے پاس واضح دلیلیں آ چکیں تو جان لو کہ اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
En
اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیلیں آجانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 210،209) ➊ اسلام کا بنیادی عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول مانتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے غیب یعنی بن دیکھی حقیقتوں پر ایمان ہے۔ حدیثِ جبریل علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنے کو ایمان کہا گیا ہے۔ [مسلم، الإیمان: ۸] دنیا میں آزمائش اسی بات کی ہے کہ بغیر دیکھے کون ان پر ایمان لاتا ہے اور کسی جبر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: «لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ» [المائدۃ: ۹۴] تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۹)، فاطر (۱۸)، سورۂ یس (۱۱)، سورۂ ق (۳۳) اور حدید (۲۵)۔
کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ حقیقتیں ان کی آنکھوں کے سامنے آئیں گی تو وہ ایمان لائیں گے، ورنہ نہیں۔ کبھی وہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے دیکھنے کا مطالبہ کرتے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے۔ [الفرقان: ۲۱] کبھی ایمان لانے کی شرط یہ رکھتے کہ تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ [بنی اسرائیل: ۹۲] کبھی قیامت برپا کرنے کی فرمائش کرتے۔ بنی اسرائیل نے بھی یہی کام کیا، فرمایا: «وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً» [البقرۃ: ۵۵] اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ! ہم ہر گز تیرا یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے اسلام کے حق ہونے کی دلیلیں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اب اگر کوئی شخص حق واضح ہونے کے بعد اس پر ایمان نہیں لاتا، بس معجزات کا مطالبہ ہی کرتا چلا جاتا ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ غیبی حقیقتیں ظاہر ہونے کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ پھر کسی کو ایمان لائے بغیر چارہ ہی نہیں ہو گا۔ چنانچہ فرمایا: «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ» [الأنعام: ۱۵۸] وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی، کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا۔ زیر تفسیر آیات میں یہی بات فرمائی کہ اتنے واضح دلائل کے بعد اب یہی باقی رہ جاتا ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ خود بادل کے سائبانوں میں آ جائے اور فرشتے بھی، مگر پھر تو کام تمام ہو چکا ہو گا اور دنیا میں تو بظاہر کچھ اور لوگوں کے پاس بھی معاملات لے جائے جاتے ہیں، اس وقت سارے معاملات اکیلے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔
➋ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [الفجر: ۲۲]اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔ اور فرمایا: «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ» [الأنعام: ۱۵۸] وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے۔ تمام صحابہ اور تابعین اللہ تعالیٰ کے نزول پر ایمان رکھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ جس طرح اللہ کی شان کے لائق ہے کہ وہ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، قیامت کے دن بھی زمین پر اترے گا۔ دوسری تمام صفات پر بھی وہ ان کے ظاہر الفاظ کے مطابق ایمان رکھتے تھے، وہ نہ ان کا کچھ اور مطلب نکالتے (جسے تاویل کہتے ہیں)، نہ یہ کہتے کہ کس طرح اترے گا؟ یا وہ عرش پر کس طرح ہے؟ (جسے تکییف کہتے ہیں)، نہ وہ اس کے عرش پر ہونے کو یا اس کے اترنے کو اپنی طرح یا کسی مخلوق کی طرح قرار دیتے (جسے تشبیہ کہتے ہیں)، نہ یہ کہتے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ان الفاظ کا معنی کیا ہے، بس یہ اللہ ہی جانتا ہے (جسے تفویض کہتے ہیں)، بعد میں آنے والے لوگوں نے غیر مسلموں سے متاثر ہو کر کسی نے سرے سے ان صفات کا انکار ہی کر دیا، کسی نے تاویل کی، کسی نے اپنے پاس سے کیفیت متعین کی اور کسی نے مخلوق کے ساتھ مشابہ کر دیا۔ یہ تمام صورتیں درحقیقت انکار ہی کی صورتیں ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۶ تا ۱۸) اور سورۂ فجر (۲۲) کے حواشی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

209۔ پھر اگر روشن دلیلیں آ جانے کے بعد تم پھسل گئے [277] تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے اور حکمت والا ہے
[277] قطعی نشانی دیکھنے پر ایمان لانا بے سود ہے:۔
یعنی اسلام کے انسانی زندگی کے ہر پہلو میں واضح احکام آ جانے کے بعد تم اسلام میں پوری طرح داخل نہ ہوئے اور دوغلی پالیسی اختیار کی اور جن احکام پر چاہا عمل کر لیا اور جہاں کوئی بات طبیعت کو ناگوار محسوس ہوئی یا کسی نقصان کا خطرہ محسوس ہوا وہاں اپنی مرضی کر لی اور اسلام کے احکام کو پس پشت ڈال دیا تو خوب سمجھ لو کہ اللہ بڑا زبردست ہے حکمت والا ہے، وہ تمہیں سزا بھی دے سکتا ہے، ذلیل و خوار بھی کر سکتا ہے اور دنیا کی حکمرانی تمہارے سوا کسی دوسرے کو بھی دے سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مکمل اطاعت ہی مقصود ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے «کافۃ» کے معنی سب کے سب پورے پورے، عکرمہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ رضی اللہ عنہما وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو، لیکن اس میں عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں ہے معلوم ہوتا ہے وہ اعلیٰ عالم تھے اور پورے مسلمان تھے انہیں مکمل طور پر معلوم تھا کہ ہفتہ کے دن کی عزت منسوخ ہو چکی ہے اس کے بجائے اسلامی عید جمعہ کے دن کی مقرر ہو چکی ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ ایسی خواہش میں اوروں کا ساتھ دیں،
بعض مفسرین نے «کافۃ» کو حال کہا ہے یعنی تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے یعنی اپنی طاقت بھر اسلام کے کل احکام کو مانو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اہل کتاب باوجود ایمان لانے کے توراۃ کے بعض احکام پر جمے ہوئے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ محمدی دین میں پوری طرح آ جاؤ اس کا کوئی عمل نہ چھوڑو توراۃ پر صرف ایمان رکھنا کافی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ «إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ» [البقرہ: 169]‏‏‏‏ اللہ کی اطاعت کرتے رہو شیطان کی نہ مانو وہ تو برائیوں اور بدکاریوں کو اور اللہ پر بہتان باندھنے کو اکساتا ہے۔ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [35-فاطر: 6]‏‏‏‏ اس کی اور اس کے گروہ کی تو خواہش یہ ہے کہ تم جہنمی بن جاؤ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ اگر تم دلائل معلوم کرنے کے بعد بھی حق سے ہٹ جاؤ تو جان رکھو کہ اللہ بھی بدلہ لینے میں غالب ہے نہ اس سے کوئی بھاگ کر بچ سکے نہ اس پر کوئی غالب ہے اپنی پکڑ میں وہ حکیم ہے اپنے امر میں وہ کفار پر غلبہ رکھتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:591/2]‏‏‏‏ اور عذروحجت کو کاٹ دینے میں حکمت رکھتا ہے۔