ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جس کی بات دنیا کی زندگی کے بارے میں تجھے اچھی لگتی ہے اور وہ اللہ کو اس پر گواہ بناتا ہے جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے۔ En
اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
En
بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کر دیتی ہیں اور وه اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواه کرتا ہے، حاﻻنکہ دراصل وه زبردست جھگڑالو ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 204تا206) ➊ اوپر کی آیات میں {وَ مِنَ النَّاسِ} سے لے کر یہاں تک دو قسم کے لوگ ذکر کیے، یعنی طالب دنیا اور طالب دنیا و آخرت۔ اب یہاں سے منافقین کے اوصاف کا بیان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں چند ایسے چال باز لوگ تھے (اور ہمیشہ رہے ہیں)، ان آیات میں ان کی صفات بیان فرما کر ان سے چوکس رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (قرطبی، فتح القدیر) تفاسیر میں گو ان آیات کا سبب نزول اخنس بن شریق ثقفی کو بیان کیا گیا ہے، مگر الفاظ کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جس میں یہ پانچوں صفات پائی جائیں۔ (کبیر) علاوہ ازیں وہ تمام روایات جن میں اس آیت کے اخنس کے بارے میں اترنے کا ذکر ہے ضعیف ہیں۔ (دیکھیے الاستیعاب فی بیان الاسباب) اس لیے یہ آیت عام ہے۔
➋ ایسے منافق کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی سے متعلق بہت سی معلومات رکھتا ہے، اس موضوع پر بات کرے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ آخرت پر نہ وہ بات کرتا ہے نہ اسے اس کا علم ہے۔ (دیکھیے الروم: ۶، ۷) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر سخت دل متکبر، بخیل پیٹو سے بغض رکھتا ہے جو بازاروں میں شور کرنے والا ہے، رات کو مردار اور دن کو گدھا ہے، دنیا کے معاملات کا عالم ہے، آخرت کے معاملات سے جاہل ہے۔ [صحیح ابن حبان: ۱۹۵۷۔ السلسلۃ الصحیحۃ: ۱۹۵]
دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان و اخلاص کا یقین دلاتا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے ہاں اپنے بے اعتبار ہونے کو خوب سمجھتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ منافقون کی ابتدائی آیات)
تیسری صفت یہ ہے کہ وہ {اَلَدُّ الْخِصَامِ} ہے۔ {اَلَدُّ} کا معنی سخت جھگڑالو ہے۔ {الْخِصَامِ} یا تو باب مفاعلہ کا مصدر ہے، اس صورت میں معنی ہو گا جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے، یا {خَصْمٌ} (جھگڑنے والا) کی جمع ہے، معنی ہو گا جھگڑنے والوں میں سے بہت سخت جھگڑالو ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب آدمیوں سے زیادہ مبغوض {اَلْاَلَدُّ الْخَصِمُ} (سخت جھگڑا لو) ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «وہو ألد الخصام» ‏‏‏‏: ۴۵۲۳۔ مسلم: ۲۶۶۸] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منافق کی چار نشانیوں میں سے ایک یہ بیان فرمائی: وہ جب جھگڑتا ہے تو بدزبانی کرتا ہے۔ [بخاری، الإیمان، باب علامۃ المنافق: ۳۴۔ مسلم: ۵۸] چوتھی صفت یہ ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے پاس اپنے اخلاص کی قسمیں کھا کر واپس جاتا ہے تو تخریبی کارروائیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد اور کھیتوں اور جان و مال کو برباد کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ {تَوَلّٰى} کا ایک معنی ہے وہ واپس جاتا ہے اور دوسرا معنی ہے جب وہ والی یعنی حاکم یا صاحبِ اقتدار بنتا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے لیے کہا جائے تو اس کی (جھوٹی) عزت اور غرورِ نفس اسے گناہ میں پھنسائے رکھتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1)۔ 24۔ 1 بعض ضعیف روایات کے مطابق یہ آیت ایک منافق اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سارے ہی منافقین اور منکرین ہیں جن میں یہ مذموم اوصاف پائے جائیں جو کہ اس کے ضمن میں بیان فرمائے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

204۔ اور لوگوں میں سے کوئی تو ایسا ہے جس کی بات آپ کو دنیا کی زندگی میں بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی نیک نیتی پر اللہ کو گواہ بھی بناتا ہے حالانکہ وہ کج بحث قسم کا جھگڑالو ہوتا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی ٭٭
سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:229/4]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں «من یشری» والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [البقرہ: 204]‏‏‏‏ والی آیت نازل ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:230/4]‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور یہی صحیح ہے، نوف بکالی جو توراہ وانجیل کے بھی عالم تھے فرماتے ہیں کہ میں اس امت کے بعض لوگوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں پاتا ہوں لکھا ہے کہ بعض لوگ دین کے حیلے سے دنیا کماتے ہیں ان کی زبانیں تو شہد سے زیادہ میٹھی ہیں لیکن دل ایلوے [مصبر]‏‏‏‏ سے زیادہ کڑوے ہیں لوگوں کے لیے بکریوں کی کھالیں پہنتے ہیں لیکن ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکے بازیاں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کی قسم کہ میں ان پر وہ فتنہ بھیجوں گا کہ بردبار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے، قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے پڑھئے آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [البقرہ: 204]‏‏‏‏ سعید المقبری نے بھی جب یہ بات اور کتابوں کے حوالے سے بیان کی تو سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ قرآن شریف میں بھی ہے اور اسی آیت کی تلاوت کی تھی۔ سعید کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سنیے آیت شان نزول کے اعتبار سے گو کسی کے بارے میں ہی ہو لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہوئی ہے۔
ابن محیصن کی قرأت میں «وَيُشْهِدُ اللَّهَ» ہے معنی یہ ہوں گے کہ گو وہ اپنی زبان سے کچھ ہی کہے لیکن اس کے دل کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جیسے اور جگہ آیت «اِذَا جَاءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ» [63۔ المنافقون: 1]‏‏‏‏ یعنی منافق تیرے پاس آ کر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں،
لیکن جمہور کی قرأت «یشھداللہ» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ لوگوں کے سامنے تو اپنی خیانت چھپاتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے ان کے دل کا کفر ونفاق ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ» [4۔ النسآء: 108]‏‏‏‏ یعنی لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہیں کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے، صحیح معنی آیت کے یہی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/4]‏‏‏‏ ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
«أَلَدُّ» کے معنی لغت میں ہیں سخت ٹیڑھا جیسے اور جگہ ہے آیت «وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا» [19۔ مریم: 97]‏‏‏‏ یہی حالت منافق کی ہے کہ وہ اپنی حجت میں جھوٹ بولتا ہے اور حق سے ہٹ جاتا ہے، سیدھی بات چھوڑ دیتا ہے اور افترا اور بہتان بازی کرتا ہے اور گالیاں بکتا ہے، صحیح حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے بے وفا ئی کرے، جب جھگڑا کرے گالیاں بکے، [صحیح بخاری:34]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ برا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ [صحیح بخاری:2457]‏‏‏‏ اس کی کئی ایک سندیں ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ برے اقوال والا ہے اسی طرح افعال بھی اس کے بدترین ہیں تو قول تو یہ ہے لیکن فعل اس کے سراسر خلاف ہے، عقیدہ بالکل فاسد ہے۔
نماز اور ہماری رفتار ٭٭
سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت «ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» [79۔ النازعات: 22]‏‏‏‏ اور فرمان ہے آیت «فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [62۔ الجمعہ: 9]‏‏‏‏ یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لیے آؤ بلکہ سکینت و وقار کے ساتھ آؤ۔ [صحیح بخاری:636]‏‏‏‏