فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾
پھر جب تم اپنے حج کے احکام پورے کر لو تو اللہ کو یاد کرو، اپنے باپ دادا کو تمھارے یاد کرنے کی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر یاد کرنا، پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
En
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
En
پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیاده بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 200تا 202) ➊ اسلام سے پہلے عرب حج سے فارغ ہوتے تو منیٰ میں میلہ لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح ذکرِ الٰہی کیا کرو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (فتح القدیر)
➋ ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں، ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ: ۲۰) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافتِ اسلامی کا قیام، وسعتِ رزق، دین و دنیا کا علم اور اللہ کے احکام کے مطابق چلنے کی توفیق، الغرض سب نیک اعمال شامل ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات، جنت، رضائے الٰہی کا حصول، حساب میں آسانی اور اللہ تعالیٰ کا دیدار وغیرہ شامل ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ] ”اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ [بخاری، الدعوات، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ربنا آتنا…: ۶۳۸۹۔ مسلم: ۲۶۹۰] صحیح مسلم میں ہے: ”انس رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی دعا کرنا چاہتے تو یہ (مذکورہ بالا) دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا کرنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی کرتے۔“ خلاصہ یہ کہ یہ ایک نہایت جامع دعا ہے، کئی ایک احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے۔ طواف کے وقت رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان بھی یہ دعا مسنون ہے۔ [أبو داوٗد، المناسک، باب الدعاء فی الطواف، ۱۸۹۲ و قال الألبانی حسن]
اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کے لوگ ذکر فرمائے ہیں، صرف دنیا کی بھلائی طلب کرنے والے اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنے والے، تیسری قسم کے لوگ یعنی صرف آخرت کی بھلائی طلب کرنے والے، جو دنیا کی بھلائی نہ مانگتے ہوں وہ ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ اسلام ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کے لیے دنیا ترک کرنا پسند نہیں کرتا، نہ دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی اجازت دیتا ہے۔ جب سے مسلمانوں میں ہندو سادھوؤں اور نصرانی راہبوں کی تقلید میں دنیا کے ترک کا رجحان پیدا ہوا تو انھوں نے جہاد چھوڑا، دنیاوی علوم سے کنارہ کش ہوئے اور ہر چیز میں غیروں کے غلام بن گئے۔ کفار کو ان کے تصوف کے سلسلوں سے کوئی تکلیف ہے، نہ تصور شیخ سے اور نہ خانقاہی نظام سے، کیونکہ اس سے غلامی کی خُو مزید پختہ ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انھیں اپنے ملکوں میں آمد و رفت کی ہر سہولت مہیا کرتے ہیں، مگر اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے ضامن جہاد یا خلافت کا نام لینے والوں پر آخری حد تک دنیا تنگ کر دینے میں کمی نہیں کرتے۔ پھر کیا حال ہو گا جب کہا جائے:
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے؟
اگر کہا جائے شاعر کی مراد فقط رضائے الٰہی کا حصول ہے تو اللہ کی رضا تو دنیا اور آخرت دونوں کی طلب اور ان کے لیے محنت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی ان دونوں کی طلب بلکہ ان کا ہر عمل ہی رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ «وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ» یہ اس لیے فرمایا کہ آخرت میں بھلائی آگ کے کچھ عذاب کے بعد بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کی الگ دعا مانگی۔ (ابن عاشور)
➋ ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں، ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ: ۲۰) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافتِ اسلامی کا قیام، وسعتِ رزق، دین و دنیا کا علم اور اللہ کے احکام کے مطابق چلنے کی توفیق، الغرض سب نیک اعمال شامل ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات، جنت، رضائے الٰہی کا حصول، حساب میں آسانی اور اللہ تعالیٰ کا دیدار وغیرہ شامل ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ] ”اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ [بخاری، الدعوات، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ربنا آتنا…: ۶۳۸۹۔ مسلم: ۲۶۹۰] صحیح مسلم میں ہے: ”انس رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی دعا کرنا چاہتے تو یہ (مذکورہ بالا) دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا کرنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی کرتے۔“ خلاصہ یہ کہ یہ ایک نہایت جامع دعا ہے، کئی ایک احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے۔ طواف کے وقت رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان بھی یہ دعا مسنون ہے۔ [أبو داوٗد، المناسک، باب الدعاء فی الطواف، ۱۸۹۲ و قال الألبانی حسن]
اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کے لوگ ذکر فرمائے ہیں، صرف دنیا کی بھلائی طلب کرنے والے اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنے والے، تیسری قسم کے لوگ یعنی صرف آخرت کی بھلائی طلب کرنے والے، جو دنیا کی بھلائی نہ مانگتے ہوں وہ ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ اسلام ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کے لیے دنیا ترک کرنا پسند نہیں کرتا، نہ دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی اجازت دیتا ہے۔ جب سے مسلمانوں میں ہندو سادھوؤں اور نصرانی راہبوں کی تقلید میں دنیا کے ترک کا رجحان پیدا ہوا تو انھوں نے جہاد چھوڑا، دنیاوی علوم سے کنارہ کش ہوئے اور ہر چیز میں غیروں کے غلام بن گئے۔ کفار کو ان کے تصوف کے سلسلوں سے کوئی تکلیف ہے، نہ تصور شیخ سے اور نہ خانقاہی نظام سے، کیونکہ اس سے غلامی کی خُو مزید پختہ ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انھیں اپنے ملکوں میں آمد و رفت کی ہر سہولت مہیا کرتے ہیں، مگر اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے ضامن جہاد یا خلافت کا نام لینے والوں پر آخری حد تک دنیا تنگ کر دینے میں کمی نہیں کرتے۔ پھر کیا حال ہو گا جب کہا جائے:
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے؟
اگر کہا جائے شاعر کی مراد فقط رضائے الٰہی کا حصول ہے تو اللہ کی رضا تو دنیا اور آخرت دونوں کی طلب اور ان کے لیے محنت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی ان دونوں کی طلب بلکہ ان کا ہر عمل ہی رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ «وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ» یہ اس لیے فرمایا کہ آخرت میں بھلائی آگ کے کچھ عذاب کے بعد بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کی الگ دعا مانگی۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 عرب کے لوگ فراغت کے بعد منٰی میں میلا لگاتے اور اپنے آباوجداد کے کارناموں کا ذکر کرتے مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے جب تم 10 ذوی الحجہ کو کنکریاں مارنے قربانی کرنے، سر منڈانے، طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ سے فارغ ہوجاؤ تو اس کے بعد جو تین دن منٰی میں قیام کرنا ہے وہاں خوب اللہ کا ذکر کرو کیونکہ جاہلیت میں تم اپنے آباوجداد کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
200۔ پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کو ایسے یاد کرو جیسے تم اپنے آباء و اجداد کو یاد کیا کرتے تھے یا اس سے بھی بڑھ کر۔ پھر لوگوں میں کچھ تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں: ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں سب کچھ دنیا میں ہی دے دے۔“ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تکمیل حج کے بعد ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کر دیا کرتا تھا سخاوت وشجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے،
غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لیے او اشد پر زبر تمیز کی بنا پر لائی گئی ہے، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے «او اشد قسوۃ» [2-البقرة:74] میں اور «او اشد خشیۃ» [4-النساء:77] میں اور «او یزیدون» [37-الصافات:147] میں اور «او ادنیٰ» [53-النجم:9] میں، ان تمام مقامات میں لفظ «”أَوْ“» ہرگز ہرگز شک کے لیے نہیں ہے بلکہ «”فجر عنہ“» کی تحقیق کے لیے ہے، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لیے او اشد پر زبر تمیز کی بنا پر لائی گئی ہے، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے «او اشد قسوۃ» [2-البقرة:74] میں اور «او اشد خشیۃ» [4-النساء:77] میں اور «او یزیدون» [37-الصافات:147] میں اور «او ادنیٰ» [53-النجم:9] میں، ان تمام مقامات میں لفظ «”أَوْ“» ہرگز ہرگز شک کے لیے نہیں ہے بلکہ «”فجر عنہ“» کی تحقیق کے لیے ہے، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کر کے دعائیں مانگو کیونکہ یہ موقعہ قبولیت کا ہے، ساتھ ہی ان لوگوں کی برائی بھی بیان ہو رہی ہے جو اللہ سے سوال کرتے ہوئے صرف دنیا طلبی کرتے ہیں اور آخرت کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے فرمایا ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اعراب یہاں ٹھہر کر صرف یہی دعائیں مانگتے ہیں کہ الہٰ اس سال بارشیں اچھی برسا تاکہ غلے اچھے پیدا ہوں اولادیں بکثرت ہوں وغیرہ۔ لیکن مومنوں کی دعائیں دونوں جہان کی بھلائیوں کی ہوتی تھیں اس لیے ان کی تعریفیں کی گئیں، اس دعا میں تمام بھلائیاں دین و دنیا کی جمع کر دی ہیں اور تمام برائیوں سے بچاؤ ہے، اس لیے کہ دنیا کی بھلائی میں عافیت، راحت، آسانی، تندرستی، گھربار، بیوی بچے، روزی، علم، عمل، اچھی سواریاں، نوکر چاکر، لونڈی، غلام، عزت و آبرو وغیرہ تمام چیزیں آ گئیں اور آخرت کی بھلائی میں حساب کا آسان ہونا گھبراہٹ سے نجات پانا نامہ اعمال کا دائیں ہاتھ میں ملنا سرخ رو ہونا بالآخر عزت کے ساتھ جنت میں داخل ہونا سب آ گیا،
پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلاً حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ، قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:542/2] بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4522]
اس حدیث میں ہے ”ربنا“ سے پہلے ”اللہم“ بھی ہے، قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہی دعا بتائی [مسند احمد:101/3:صحیح] سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں آپ نے یہی دعا «اللہم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آ گئیں [ابن ابی حاتم]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے؟ تو نے یہ دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفاء دے دی۔ [مسند احمد:107/3:صحیح] رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:1892، قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن اس کی سند میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے گزرو تو دعا آیت «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھا کرو۔ [میزان الاعتدال:4602:ضعیف]
پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلاً حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ، قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:542/2] بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4522]
اس حدیث میں ہے ”ربنا“ سے پہلے ”اللہم“ بھی ہے، قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہی دعا بتائی [مسند احمد:101/3:صحیح] سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں آپ نے یہی دعا «اللہم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آ گئیں [ابن ابی حاتم]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے؟ تو نے یہ دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفاء دے دی۔ [مسند احمد:107/3:صحیح] رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:1892، قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن اس کی سند میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے گزرو تو دعا آیت «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھا کرو۔ [میزان الاعتدال:4602:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے آ کر پوچھا کہ میں نے ایک قافلہ کی ملازمت کر لی ہے اس اجرت پر وہ مجھے اپنے ساتھ سواری پر سوار کر لیں اور حج کے موقعہ پر مجھے وہ رخصت دے دیں کہ میں حج ادا کر لوں ویسے اور دنوں میں میں ان کی خدمت میں لگا رہوں تو فرمائیے کیا اس طرح میرا حج ادا ہو جائے گا آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہاں بلکہ تو تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں فرمان ہے آیت «أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [البقرہ: 202][مستدرک حاکم:277/2]