ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 174

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۴﴾
بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ En
جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے
En
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 174تا176) ➊ یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں، جو دنیا کے جاہ و مال کے حصول کی خاطر تورات میں مذکور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف کو چھپا رہے تھے (دیکھیے بقرہ: ۱۵۹) مگر اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو دنیا کے مفاد کی خاطر دین کو فروخت کرے۔
➋ {ثَمَنًا قَلِيْلاً:} اس کا معنی یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے سکتے ہیں، بلکہ ساری دنیا بھی مل جائے تو وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ» ‏‏‏‏ [النساء: ۷۷] کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔
➌ {فَمَا اَصْبَرَهُمْ عَلَي النَّارِ:} { مَا } بمعنی { اَيُّ شَيْءٍ } اسم تعجب مبتدا، { اَصْبَرَهُمْ } فعل ماضی مع فاعل، { هُمْ } مفعول بہ، جملہ { مَا } مبتدا کی خبر۔
➍ {وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ:} یعنی اللہ محبت و رحمت کے ساتھ ان سے بات نہیں کرے گا، ورنہ ناراضی اور ڈانٹ کے طور پر تو اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۰۸)۔
➎ {ذٰلِكَ:} اس میں یہود و نصاریٰ کا حق چھپانا، اس کے بدلے ثمنِ قلیل یعنی تھوڑی قیمت لینا، اس پر آگ کا عذاب، اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام نہ کرنا، انھیں پاک نہ کرنا اور آگ پر یہود کی جرأت و صبر تمام چیزیں شامل ہیں۔ «بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ» اس میں اور «الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْ الْکِتٰبِ» دونوں جگہ {الْكِتٰبِ} سے تورات اور قرآن دونوں مراد ہو سکتے ہیں، اگر تورات مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تورات حق کے ساتھ نازل کی تھی، مگر جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا، یعنی اس میں تحریف کی یا اس کے بعض کو مانا اور بعض کو نہ مانا وہ حق سے بہت دور کی مخالفت میں جا پڑے۔ اگر قرآن مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب (یعنی قرآن) حق کے ساتھ نازل کی، مگر جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا، کسی نے کہا یہ وہ نہیں جس کی تورات میں پیشین گوئی ہے، کسی نے کہا یہ صرف اُمّی (یعنی ان پڑھ عرب) لوگوں کے لیے ہے، جیسا کہ ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا تھا۔ [بخاری، الجنائز، باب إذا أسلم الصبی …: ۱۳۵۴] تو یہ سب لوگ بہت دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ان کا قرآن کو نہ ماننا صرف اس مخالفت کی وجہ سے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

174۔ جو لوگ ان باتوں کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں [217] نازل کی ہیں اور اس کام کے عوض تھوڑا سا دنیوی فائدہ اٹھا لیتے ہیں یہ لوگ در اصل اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے کلام [218] کرے گا اور نہ (گناہوں سے) پاک کرے گا۔ اور انہیں دکھ دینے والا عذاب ہو گا
[217] کتمان حق اور غلط فتوے سے حرام خوری:۔
آیت نمبر 159 کے مضمون کو دہرایا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ کتمان حق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ پیشوا قسم کے لوگ اس کے عوض کچھ نہ کچھ دنیوی مفاد اور مال و دولت حاصل کر لیتے ہیں آیات کی تاویل یا فقہاء کے مختلف اقوال کو بنیاد بنا کر غلط فتویٰ دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف تو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ دوسرے ان سے پیسے وصول کرتے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ فتویٰ جتنا زیادہ غلط قسم کا ہو اتنے ہی ان کے دام زیادہ وصول کئے جاتے ہیں، یہ مال بلا شبہ حرام ہے جو دوزخ کی ظاہری آگ کے علاوہ ان کے اندر بھی آگ لگا دے گا۔
[218] اللہ تعالیٰ کا کلام نہ کرنا گناہ کبیرہ کے ارتکاب کی دلیل ہے:۔
یہاں کلام نہ کرنے سے مراد اللہ تعالیٰ کی انتہائی خفگی اور ناراضگی ہے۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جن کاموں سے متعلق یہ مذکور ہو کہ اللہ ان سے کلام نہ کرے گا یا ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں یا انہیں پاک نہیں کرے گا۔ تو ایسے سب کام کبیرہ گناہ ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی تو ایک کثیر تعداد ایسی ہو گی جنہیں اللہ دوزخ میں داخل کرے گا تا آنکہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو جائیں۔ لیکن کچھ گناہ ایسے بھی ہیں کہ دوزخ کی آگ سے پاک و صاف نہ ہوں گے۔ جیسے شرک یا جن کے متعلق خلود فی النار کے الفاظ آئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے حساب کتاب لیتے وقت تو کلام کرے گا ہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا حساب لینا بھی بصورت تہدید اور سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ ہو گا یا فرشتوں کے ذریعہ ان سے حساب لیا جائے گا۔ «والله اعلم بالصواب»

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

علاوہ ازیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ عادت نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر آمادہ کر دیا اور ان کی وہ جماعت جس کے ہاتھ سے نکل جانے کے ڈر نے انہیں کلام اللہ چھپانے پر آمادہ کیا تھا بلآخر ہاتھ سے جاتی رہیں ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ایمان لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر ان حق کے چھپانے والوں کی جانیں لیں اور ان سے باقاعدہ جہاد کیا، قرآن کریم میں ان کی حقائق چھپانے والی حرکتوں کو جگہ جگہ بیان کیا گیا، اور فرمایا ہے کہ جو مال تم کماتے ہو اللہ کی باتوں کو چھپا کر یہ دراصل آگ کے انگارے ہیں، جنہیں تم پیٹ میں بھر رہے ہو۔
قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو یتیموں کا مال ظلم سے ہڑپ کر لیں، ان کے لیے بھی یہی فرمایا ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا» [4-النساء: 10]‏‏‏‏ وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔
صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [صحیح بخاری:5634]‏‏‏‏ پھر فرمایا ان سے تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت بھی نہیں کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ المناک عذابوں میں مبتلا کرئے گا۔ اس لیے کہ ان کے اس کرتوت کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور اب ان پر سے نظر رحمت ہٹ گئی ہے اور یہ ستائش اور تعریف کے قابل نہیں رہے بلکہ سزا یاب ہوں گے اور وہاں تلملاتے رہیں گے۔ حدیث شریف میں ہے تین قسم کے لوگوں سے اللہ بات چیت نہ کرئے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں زانی بڈھا، جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔ [صحیح مسلم:107]‏‏‏‏
فرمایا کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی انہیں چاہیئے تھا کہ توراۃ میں جو خبریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھیں انہیں ان پڑھوں تک پہنچاتے لیکن اس کے بدلے انہوں نے انہیں چھپا لیا اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، ان کے اظہار پر جو نعمتیں اور رحمتیں انہیں ملنے والی تھیں ان کے بدلے زحمتیں اور عذاب اپنے سر لے لیے۔
پھر فرماتا ہے انہیں وہ درد ناک اور حیرت انگیز عذاب ہوں گے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جائے اور یہ بھی معنی ہیں کہ انہیں آگ کے عذاب کی برداشت پر کس چیز نے آمادہ کیا جو یہ اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول ہو گئے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق اس لیے ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی باتوں کی ہنسی کھیل سمجھا اور جو کتاب اللہ حق کو ظاہر کرنے اور باطل کا نابود کرنے کے لیے اتری تھی انہوں نے اس کی مخالفت کی ظاہر کرنے کی باتیں چھپائیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو ظاہر نہ کیا فی الواقع اس کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑے۔