تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ حرام و حلال سے متعلق قرآن و حدیث میں ان چار چیزوں کے علاوہ جو بنیادی احکام بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں: (1) سمندر کا ہر جانور خواہ زندہ پکڑا جائے یا مردہ، نام اس کا کچھ بھی ہو، حلال ہے۔ دیکھیے حاشیہ سورۂ مائدہ (۹۶) مراد اس سے پانی میں رہنے والے وہ جانور ہیں جو پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، خواہ سمندر میں ہوں یا دوسری جگہ پانی میں، یعنی دریا وغیرہ میں۔ (2) خشکی کے جانوروں میں سے ہر کچلی والا درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا پرندہ حرام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَ عَنْ کُلِّ ذِیْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیْرٍ] [مسلم، الصید والذبائح، باب تحریم أکل کل ذی …: ۱۹۳۴] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کچلی والے جانور اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں (کے گوشت) کو حرام قرار دیا ہے۔“ اس کے علاوہ حدیث میں جن جانوروں کو نام لے کر حرام کہا گیا ہے، مثلاً گھریلو گدھا یا وہ جانور جنھیں جہاں ملیں مار دینے کا حکم ہے، یعنی سانپ، بچھو، چھپکلی، کوا، چیل وغیرہ۔ قرآن و حدیث میں حرام کردہ چیزوں کے علاوہ باقی سب چیزیں حلال ہیں۔
➌ آیت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۳) اور انعام (۱۴۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ مردار خواہ وہ کسی طریقہ سے مرا ہو۔ طبعی موت سے یا کہیں گر کر یا لاٹھی لگنے سے یا سینگ کی ضرب سے یا کسی درندے نے مار ڈالا ہو۔ سب صورتوں میں حرام ہے۔
2۔ وہ خون جو ذبح کرتے وقت رگوں سے باہر نکل جاتا ہے اور جو گوشت کے ساتھ لگا رہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ دو مردار حلال ہیں یعنی مچھلی اور ٹڈی اور دو خون حلال ہیں۔ کلیجی اور تلی جو منجمد خون ہی ہوتا ہے۔ [احمد، بحواله مشكوٰة كتاب الصيد والذبائح باب مايحل اكله ما يحرم فصل ثاني]
3۔ خنزیر یا سور جو نجس عین ہے۔ اس کا صرف گوشت کھانا ہی حرام نہیں بلکہ یہ زندہ یا مردہ اس کی کسی بھی چیز سے استفادہ جائز نہیں۔
4۔ ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کر دی جائے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے۔ نہ ذبح کا بلکہ ما کے لفظ میں عمومیت ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہو گا کہ جو چیز کسی بزرگ یا دیوی دیوتا کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کے نام پر مشہور کر دی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی کی صحنک، مرشد کا بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں اور اگر وہ ذبح کرنے کا جانور ہے تو خواہ اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گا۔ بلکہ کسی دوسرے کی نیت رکھنے سے بھی وہ حرام ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر و نیاز صرف اسی کے نام کی ہونی چاہیے۔ اس میں کسی دوسرے کو شریک نہ بنایا جائے۔
ہاں اگر کوئی شخص کچھ صدقہ و خیرات کرتا ہے یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا مرشد کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ ایک نیک عمل ہے۔ جو سنت سے ثابت ہے۔
1۔ اسے بھوک یا بیماری کی وجہ سے جان جانے کا خطرہ لاحق ہو اور اس حرام چیز کا کوئی بدل موجود نہ ہو۔
2۔ وہ اللہ کا باغی یا قانون شکن نہ ہو۔ یعنی جو چیز کھا رہا ہے۔ اسے حرام ہی سمجھ کر کھائے، حلال نہ سمجھے۔
3۔ اتنا ہی کھائے جس سے اس کی جان بچ سکے اور اس کے بعد اس کا بدل میسر آسکے۔
پھر اگر وہ غلط اندازے سے کچھ زیادہ بھی کھا لے گا تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔ اور یہ غلطی جان کے تلف ہونے سے متعلق بھی ہو سکتی ہے اور خوراک کی مقدار کے متعلق بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عنبر نامی جانور کا مرا ہوا ملنا اور صحابہ کا اسے کھانا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے جائز قرار دینا یہ سب باتیں حدیث میں ہیں۔ [صحیح بخاری:4360] ایک اور حدیث میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، [سنن ابوداود:83، قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہم پر حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی کلیجی اور تلی، [سنن ابن ماجه:3314، قال الشيخ الألباني:صحیح] سورۃ المائدہ میں اس کا بیان تفصیل وار آئے گا۔ ان شاءاللہ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسے خوب پیٹ بھر کر نہ کھائے، حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اس کے کھانے کے لیے مجبور کر دیا جائے اور بے اختیار ہو جائے اس کا بھی یہی حکم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر تعالى إباحة الطيبات ذكر تحريم الخبائث فقال: {إنما حرم عليكم الميتة}؛ وهي: ما مات بغير تذكية شرعية؛ لأن الميتة خبيثة مضرة لرداءتها في نفسها ولأن الأغلب أن تكون عن مرض فيكون زيادة مرض ، واستثنى الشارع من هذا العموم ميتة الجراد وسمك البحر فإنه حلال طيب {والدم}؛ أي: المسفوح كما قيد في الآية الأخرى {وما أهل به لغير الله}؛ أي ذبح لغير الله كالذي يذبح للأصنام والأوثان من الأحجار والقبور ونحوها، وهذا المذكور غير حاصر للمحرمات، وجيء به لبيان أجناس الخبائث المدلول عليه بمفهوم قوله: {طيبات}؛ فعموم المحرمات تستفاد من الآية السابقة من قوله: {حلالاً طيباً}؛ كما تقدم وإنما حرم علينا هذه الخبائث ونحوها لطفاً بنا وتنزيهاً عن المضر، ومع هذا {فمن اضطر}؛ أي ألجئ إلى المحرم بجوع وعدم أو إكراه {غير باغ}؛ أي: غير طالب للمحرم مع قدرته على الحلال أو مع عدم جوعه {ولا عاد}؛ أي: متجاوز الحد في تناول ما أبيح له اضطراراً فمن اضطر وهو غير قادر على الحلال، وأكل بقدر الضرورة فلا يزيد عليها {فلا إثم}؛ أي: جناح {عليه}؛ وإذا ارتفع الإثم رجع الأمر إلى ما كان عليه، والإنسان بهذه الحالة مأمور بالأكل بل منهيٌّ أن يلقي بيده إلى التهلكة وأن يقتل نفسه، فيجب إذاً عليه الأكل ويأثم إن ترك الأكل حتى مات فيكون قاتلاً لنفسه، وهذه الإباحة والتوسعة من رحمته تعالى بعباده، فلهذا ختمها بهذين الاسمين الكريمين المناسبين غاية المناسبة فقال: {إن الله غفورٌ رحيم}.
ولما كان الحل مشروطاً بهذين الشرطين، وكان الإنسان في هذه الحالة ربما لا يستقصي تمام الاستقصاء في تحقيقها، أخبر [تعالى] أنه غفور، فيغفر [له] ما أخطأ فيه في هذه الحال خصوصاً، وقد غلبته الضرورة، وأذهبت حواسه المشقة.
وفي هذه الآية دليل على القاعدة المشهورة «الضرورات تبيح المحظورات»، فكل محظور اضطر له الإنسان فقد أباحه له الملك الرحمن، فله الحمد والشكر أولاً وآخراً وظاهراً وباطناً.