ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 171

وَ مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا کَمَثَلِ الَّذِیۡ یَنۡعِقُ بِمَا لَا یَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷۱﴾
اور ان لوگوں کی مثال جنھوں نے کفر کیا، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو ان جانوروں کو آواز دیتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے، بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں سمجھتے۔ En
جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے
En
کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 171) {نَعَقَ بِغَنَمِهٖ} (ف، ض) اپنی بھیڑ بکریوں کو آواز دینا اور ڈانٹنا۔ (قاموس) کفار کی یہ مثال دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ ان کفار کو سمجھانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ان جانوروں کو سمجھاتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ کفار کان، زبان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے حق سننے، دیکھنے اور اس کا اقرار کرنے سے بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ سورۂ اعراف(۱۷۹) میں ایسے لوگوں کو جانوروں کی طرح، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے اور سرے سے بے خبر قرار دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ زخرف (۴۰) اور یونس (۴۲، ۴۳)۔
دوسری اس طرح کہ ان کی مثال ان بے عقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلے (ریوڑ) اپنے اپنے چرواہوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ان کی آواز پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ اپنے اپنے پیشواؤں کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں، گویا یہ تقلیدِ آباء کی تمثیل ہے۔ آیت میں دونوں مفہوم موجود ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

171۔ 1 ان کافروں کی مثال جنہوں نے تقلید آباء میں اپنی عقل و فہم کو معطل کر رکھا ہے ان جانوروں کی طرح ہے جن کو چرواہا بلاتا اور پکارتا ہے وہ جانور آواز تو سنتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں کیوں بلایا اور پکارا جا رہا ہے؟ اسی طرح یہ آباؤ اجداد کی تقلید کرنے والے بھی بہرے ہیں کہ حق کی آواز نہیں سنتے، گونگے ہیں کہ ان کی زبان سے حق نہیں نکلتا، اندھے ہیں کہ حق کو دیکھنے سے عاجز ہیں اور بےعقل ہیں کہ دعوت حق اور دعوت توحید و سنت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں دعا سے قریب کی آواز اور ندا سے دور کی آواز مراد ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

171۔ کافروں کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ایسی چیز (مثلاً جانوروں) کو پکارتا ہے وہ جانور اس کی پکار اور آواز کے سوا کچھ بھی سمجھ نہیں [213] سکتے اسی طرح یہ (کافر) بھی بہرے، گونگے اور اندھے ہیں جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے
[213] یعنی کافروں کی مثال ان بے عقل جانوروں کی سی ہے۔ جنہیں چرواہا جب پکارتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ بلکہ محض آواز سن کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔ جانوروں کی طرح یہ کافر بھی حق بات سن کر نہ اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق بات کہہ سکتے ہیں اور حق بینی کے معاملہ میں اندھے ہیں۔ پھر انہیں ہدایت نصیب ہو تو کیسے ہو۔ جب کہ ہدایت پانے کے سارے راستے انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بند کر رکھے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گمراہی اور جہالت کیا ہے؟ ٭٭
یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔
پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بے خبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں وہ نہ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں نہ ان میں زندگی ہے نہ انہیں کچھ احساس ہے۔ کافروں کی یہ جماعت حق کی باتوں کے سننے سے بہری ہے حق کہنے سے بے زبان ہے حق کے راہ چلنے سے اندھی ہے عقل وفہم سے دور ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ» [6-الأنعام: 39]‏‏‏‏ یعنی ہماری باتوں کو جھٹلانے والے بہرے، گونگے اور اندھیرے میں ہیں جسے اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ لگا دے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر آئے، کفار نے ان کی اطاعت نہیں کی اور آباؤ اجداد کی تقلید کے باعث ان رسولوں کو رد کر دیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حق کو قبول کر کے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنے عناد سے ہرگز باز نہیں آئیں گے، تو اللہ تعالٰی نے آگاہ فرما دیا کہ ان کی مثال ایمان کے داعی کی پکار کے وقت ان مویشیوں کی سی ہے جنھیں ان کا چرواہا پکارتا ہے لیکن ان جانوروں کو یہ علم نہیں کہ ان کا چرواہا اور منادی کیا کہہ رہا ہے؟ وہ صرف آواز سنتے ہیں جس کے ذریعہ سے ان پر حجت قائم ہو گی مگر وہ اسے اس طرح سمجھتے نہیں کہ انھیں کوئی فائدہ پہنچے، پس وہ بہرے ہیں، حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے سننے سے قاصر ہیں۔ وہ اندھے ہیں عبرت کی نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور گونگے ہیں اس لیے حق کے اندر ان کے لیے جو خیر ہے اس کے بارے میں بولتے نہیں۔
اور وہ سبب جو اس تمام فساد کا موجب ہے یہ ہے کہ وہ عقل سلیم سے محروم ہیں بلکہ وہ سب سے بڑے احمق اور سب سے بڑے جاہل ہیں۔ کیا عقل مند شخص اس بارے میں کوئی شک کر سکتا ہے کہ جس شخص کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا جائے، فساد سے روکا جائے، عذاب میں گھسنے سے منع کیا جائے اور اسے اس چیز کا حکم دیا جائے جس میں اس کی بھلائی، فوز و فلاح اور نعمت ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کا حکم ماننے سے انکار کر دے، اپنے رب کے حکم سے پیٹھ پھیر لے، دیکھتے بوجھتے آگ میں جا گھسے اور حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کرے۔ یقیناً یہ شخص ایسا ہے کہ اس میں ذرہ بھر عقل نہیں۔ اگر وہ عیاری، دھوکہ اور فریب کو اپنی صفت بنا لے تو یہ شخص سب سے بڑا احمق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما بين تعالى عدم انقيادهم لما جاءت به الرسل وردهم لذلك بالتقليد علم من ذلك أنهم غير قابلين للحق ولا مستجيبين له، بل كان معلوماً لكل أحد أنهم لن يزولوا عن عنادهم، أخبر تعالى أن مثلهم عند دعاء الداعي لهم إلى الإيمان كمثل البهائم التي ينعق لها راعيها وليس لها علم بما يقول داعيها ومناديها، فهم يسمعون مجرد الصوت الذي تقوم به عليهم الحجة، ولكنهم لا يفقهونه فقهاً ينفعهم، فلهذا كانوا صمًّاً لا يسمعون الحق سماع فهم وقبول، عمياً لا ينظرون نظر اعتبار، بُكماً فلا ينطقون بما فيه خير لهم، والسبب الموجب لذلك كله أنه ليس لهم عقل صحيح بل هم أسفه السفهاء وأجهل الجهلاء. فهل يستريب العاقل أن من دُعِيَ إلى الرشاد وذيد عن الفساد، ونُهِيَ عن اقتحام العذاب، وأُمِرَ بما فيه صلاحه وفلاحه وفوزه ونعيمه، فعصى الناصح، وتولى عن أمر ربه، واقتحم النار على بصيرة واتبع الباطل ونبذ الحق أن هذا ليس له مسكة من عقل، وأنه لو اتصف بالمكر والخديعة والدهاء فإنه من أسفه السفهاء.