وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕوَ لَوۡ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو غیر اللہ میں سے کچھ شریک بنا لیتے ہیں، وہ ان سے اللہ کی محبت جیسی محبت کرتے ہیں، اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اللہ سے محبت میں کہیں زیادہ ہیں اور کاش! وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا اس وقت کو دیکھ لیں جب وہ عذاب کو دیکھیں گے(تو جان لیں) کہ قوت سب کی سب اللہ کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔
En
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
En
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیئے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے واﻻ ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 165) ➊ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں بتایا کہ اس قدر ظاہر اور واضح دلائل دیکھنے کے باوجود دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو انداد (برابر اور شریک) بناتے ہیں۔ کائنات کی حکمرانی، مخلوق کی حاجت روائی، مشکل کشائی، دعائیں سننا، تمام غائب و حاضر چیزوں سے واقف ہونا، جو اللہ کی خاص صفات ہیں، یہ لوگ یہ صفات ان بناوٹی معبودوں میں سمجھتے ہیں بلکہ ان سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں جو صرف اللہ سے ہونی چاہیے، جبکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان سے کہیں زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ انداد سے مراد وہ فوت شدہ بزرگ ہیں جن کے بت بنا کر وہ انھیں پکارتے اور پوجتے تھے، جیسا کہ سورۂ نوح میں مذکور ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ یہ ان کی قوم کے نیک لوگ تھے، جن کے فوت ہونے پر انھوں نے ان کے بت بنائے۔ بعد میں یہی بت عرب میں بھی بن گئے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «ودا ولا سواعا ولا یغوث و یعوق» : ۴۹۲۰] گویا بت پرستی بھی دراصل بزرگ پرستی ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم پر مکہ فتح ہونے کے بعد جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کعبہ سے بت نکالے تو ان میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی صورتیں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے۔ [بخاری، المغازی، باب أین رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم …: ۴۲۸۸]
{”اَنْدَادًا“} میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کے دل پر مسلط ہو کر وہ مقام بنا لے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ بت پرست ان ہستیوں کی مورتیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ قبر پرست ان ہستیوں کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں، انھیں نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں، مصیبت کے وقت ان سے فریاد کرتے ہیں۔ خصوصاً یہود و نصاریٰ میں یہ چیز عام تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع کر دیا اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ہر اونچی قبر کو برابر کر دیں۔ [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹، ۹۷۰] کچھ وہ ہیں جو تصورِ شیخ کے ذریعے سے دل میں ایک فانی انسان کا نقشہ جما کر اس سے وہ محبت کرتے ہیں جو محض اللہ کا حق ہے، پھر ان پر وہ محبت ایسی غالب ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے بجائے شیخ کے حکم کو اللہ کے حکم کا درجہ دیتے ہیں، جب کہ مخلوق کا یہ حق ہی نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابر کیا جائے۔ انداد کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۲۲)۔
➋ مسلمانوں میں کئی ایسے بدنصیب بھی ہیں جو اس آیت کا، جس میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے وظیفہ کرتے اور اس کا تعویذ لکھتے ہیں کہ کسی لڑکی یا لڑکے کو اپنی محبت کے دام میں گرفتار کریں۔ یہ وہی یہودیانہ خصلت ہے جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۷۸، ۱۰۲) میں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطان انھیں اس راستے پر لگانے والا ہے اور قرآن جس بات سے منع کر رہا ہے اسی کے لیے قرآن کو پڑھا یا لکھا جائے تو لعنت کے سوا کیا حاصل ہو سکتا ہے۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ:} یعنی ایمان والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کو دوسروں کی محبت اور رضا سے مقدم رکھتے ہیں۔ کسی کی محبت بھی ان کے دل میں یہ مقام حاصل نہیں کر سکتی کہ وہ اسے اللہ کی محبت اور رضا پر قربان نہ کر سکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۲۴)۔
➍ {الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا:} اس سے مراد شرک کرنے والے اور کافر لوگ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینًا بہت بڑا ظلم ہے۔“ دلیل اس کی یہ ہے کہ وہ آگ سے کسی صورت نکلنے والے نہیں اور آگ سے کبھی نہ نکلنے والے یا مشرک ہیں یا کافر۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۸، ۱۱۶) اور سورۂ اعراف (۵۰) جب کہ اہل السنہ کا اتفاق ہے کہ اہل ایمان آخر کار جہنم سے نکل آئیں گے۔
➎ {وَ لَوْ يَرَى:} ”اس وقت کو دیکھ لیں“ یعنی دنیا میں وہ منظر دیکھ لیں۔
{”اَنْدَادًا“} میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کے دل پر مسلط ہو کر وہ مقام بنا لے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ بت پرست ان ہستیوں کی مورتیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ قبر پرست ان ہستیوں کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں، انھیں نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں، مصیبت کے وقت ان سے فریاد کرتے ہیں۔ خصوصاً یہود و نصاریٰ میں یہ چیز عام تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع کر دیا اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ہر اونچی قبر کو برابر کر دیں۔ [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹، ۹۷۰] کچھ وہ ہیں جو تصورِ شیخ کے ذریعے سے دل میں ایک فانی انسان کا نقشہ جما کر اس سے وہ محبت کرتے ہیں جو محض اللہ کا حق ہے، پھر ان پر وہ محبت ایسی غالب ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے بجائے شیخ کے حکم کو اللہ کے حکم کا درجہ دیتے ہیں، جب کہ مخلوق کا یہ حق ہی نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابر کیا جائے۔ انداد کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۲۲)۔
➋ مسلمانوں میں کئی ایسے بدنصیب بھی ہیں جو اس آیت کا، جس میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے وظیفہ کرتے اور اس کا تعویذ لکھتے ہیں کہ کسی لڑکی یا لڑکے کو اپنی محبت کے دام میں گرفتار کریں۔ یہ وہی یہودیانہ خصلت ہے جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۷۸، ۱۰۲) میں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطان انھیں اس راستے پر لگانے والا ہے اور قرآن جس بات سے منع کر رہا ہے اسی کے لیے قرآن کو پڑھا یا لکھا جائے تو لعنت کے سوا کیا حاصل ہو سکتا ہے۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ:} یعنی ایمان والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کو دوسروں کی محبت اور رضا سے مقدم رکھتے ہیں۔ کسی کی محبت بھی ان کے دل میں یہ مقام حاصل نہیں کر سکتی کہ وہ اسے اللہ کی محبت اور رضا پر قربان نہ کر سکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۲۴)۔
➍ {الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا:} اس سے مراد شرک کرنے والے اور کافر لوگ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینًا بہت بڑا ظلم ہے۔“ دلیل اس کی یہ ہے کہ وہ آگ سے کسی صورت نکلنے والے نہیں اور آگ سے کبھی نہ نکلنے والے یا مشرک ہیں یا کافر۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۸، ۱۱۶) اور سورۂ اعراف (۵۰) جب کہ اہل السنہ کا اتفاق ہے کہ اہل ایمان آخر کار جہنم سے نکل آئیں گے۔
➎ {وَ لَوْ يَرَى:} ”اس وقت کو دیکھ لیں“ یعنی دنیا میں وہ منظر دیکھ لیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
165۔ 1 مذکورہ دلائل کے باوجود ایسے لوگ ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے اسی طرح کی محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ سے کرنی چاہیے، بعثت محمدی کے وقت ہی ایسا نہیں تھا بلکہ شرک کے یہ مظاہر آج بھی عام ہیں، بلکہ اسلام کے نام لیواؤں کے اندر بھی یہ بیماری گھر کرگئی ہے۔ انہوں نے نہ صرف غیر اللہ اور پیروں فقیروں اور سجادہ نشینوں کو اپنا ماوی وملجا اور قبلہ حاجات بنارکھا ہے بلکہ ان سے ان کی محبت، اللہ سے بھی زیادہ ہے اور توحید کا وعظ ان کو بھی اسی طرح کھلتا جس طرح مشرکین مکہ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی جس کا نقشہ اللہ نے اس آیت میں کھینچا ہے آیت (وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ) 39:45 تاہم اہل ایمان کو مشرکین کے برعکس اللہ تعالیٰ ہی سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ کیونکہ مشرکین جب سمندر میں پھنس جاتے ہیں تو وہاں انہیں اپنے معبود بھول جاتے ہیں اور وہاں صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین سخت مصیبت میں مدد کے لئے صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
165۔ (ان نشانیوں کے باوجود) کچھ لوگ ایسے ہیں جو غیر اللہ کو اس کا شریک [203] بناتے ہیں۔ وہ ان شریکوں کو یوں محبوب رکھتے ہیں۔ جیسے اللہ کو رکھنا چاہیے اور جو ایماندار ہیں وہ تو سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت [204] رکھتے ہیں۔ کاش ان ظالموں کو آج یہ بات سوجھ جائے جو انہیں عذاب دیکھ کر سوجھے گی کہ قوت تو تمام تر اللہ ہی کے لیے ہے۔ نیز یہ کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے
[203] شرکیہ افعال اور شرک کی مذمت:۔
یعنی اللہ کی مخصوص صفات میں اپنے معبودوں کو اللہ کا مد مقابل ٹھہراتے ہیں اور خالق، مالک اور رازق ہونے کی حیثیت سے اللہ کے جو حقوق بندوں پر عائد ہونا چاہئیں۔ ان حقوق میں وہ دوسروں کو شریک کر لیتے ہیں۔ مثلاً سلسلہ اسباب پر حکمرانی، حاجت روائی، مشکل کشائی، فریاد رسی، عبادت دعائیں سننا اولاد عطا کرنا، غیب و شہادت کی ہر چیز سے واقف ہونا، کسی دوسرے کو منبع قانون سمجھنا اور حرام و حلال کی حدود مقرر کرنا۔ ان سب باتوں میں کئی دوسرے پیغمبروں، بزرگوں، فرشتوں جنوں اور دیوی، دیوتاؤں کو اللہ کا مد مقابل اور شریک ٹھہرا لیتے ہیں۔ محبت کا تعلق قلبی اعمال سے ہے اور یہی بات تمام افعال و اعمال کا سرچشمہ ہے اس میں بھی وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔
[204] کیونکہ اللہ سے ان کی محبت مستقل اور پائیدار ہوتی ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ ہی پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ جب کہ مصائب و آلام کے وقت بسا اوقات مشرکوں کی اپنے معبودوں سے محبت زائل بھی ہو جاتی ہے۔
[204] کیونکہ اللہ سے ان کی محبت مستقل اور پائیدار ہوتی ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ ہی پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ جب کہ مصائب و آلام کے وقت بسا اوقات مشرکوں کی اپنے معبودوں سے محبت زائل بھی ہو جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
محبت الہٰ اپنی پسند ہے؟ ٭٭
اس آیت میں مشرکین کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہو رہا ہے، یہ اللہ کا شریک مقرر کرتے ہیں اس جیسا اوروں کو ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی محبت اپنے دل میں ایسی ہی جماتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہیئے حالانکہ وہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے، وہ شریک اور حصہ داری سے پاک ہے بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ پیدا اسی اکیلے نے کیا ہے۔ [صحیح بخاری:7520] پھر فرمایا ایماندار اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ان کے دل عظمت الٰہی اور توحید ربانی سے معمور ہوتے ہیں، وہ اللہ کے سوا دوسرے سے ایسی محبت نہیں کرتے کسی اور سے التجا کرتے ہیں نہ دوسروں کی طرف جھکتے ہیں نہ اس کی پاک ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھر ان مشرکین کو جو اپنی جانوں پر شرک کے بوجھ کا ظلم کرتے ہیں انہیں اس عذاب کی خبر پہنچاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسے دیکھ لیں تو یقین ہو جائے کہ قدرتوں والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تمام چیزیں اسی کے ماتحت اور زیر فرمان ہیں اور اس کا عذاب بڑا بھاری ہے۔
جیسے اور جگہ ہے کہ «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» [89-الفجر: 25، 26] اس دن نہ تو اس کے عذاب جیسا کوئی عذاب کر سکتا ہے نہ اس کی پکڑ جیسی کسی کی پکڑ ہو سکتی، دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر انہیں اس منظر کا علم ہوتا تو یہ اپنی گمراہی اور شرک و کفر پر ہرگز نہ اڑتے۔ اس دن ان لوگوں نے جن جن کو اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہو جائیں گے، فرشتے کہیں گے اللہ ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اللہ تری ذات پاک ہے تو ہی ہمارا ولی ہے، یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے ہیں انہیں پر ایمان رکھتے تھے، اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہو جائیں گے اور عبادت سے انکار کریں گے اور جگہ قرآن میں ہے کہ یہ لوگ جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ سب کے سب قیامت کے دن آیت «سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19۔ مریم: 82] ان کی عبادت سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے، خلیل اللہ علیہ السلام کا فرمان ہے آیت «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» [29۔ العنکبوت: 25] تم نے اللہ کے سوا بتوں کی محبت دل میں بٹھا کر ان کی پوجا شروع کر دی ہے قیامت کے دن وہ تمہاری عبادت کا انکار کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور تمہارا مددگار کوئی نہ ہو گا۔
اسی طرح اور جگہ ہےآیت «وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ الْقَوْلَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» [34۔ سبأ: 33، 31] یعنی یہ ظالم رب کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے اور اپنے پیشواؤں سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایماندار بن جاتے، وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اللہ پرستی سے روکا؟ حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے، وہ کہیں گے تمہاری دن رات کی مکاریاں تمہارے کفرانہ احکام تمہاری شرف کی تعلیم نے ہمیں پھانس لیا، اب سب دل سے نا دم ہوں گے اور ان کی گردنوں میں ان کے برے اعمال کے طوق ہوں گے اور جگہ ہے کہ اس دن شیطان بھی کہے گا آیت «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [14۔ ابراہیم: 22] یعنی اللہ کا وعدہ تو سچا تھا اور میں تمہیں جو سبز باغ دکھایا کرتا تھا وہ محض دھوکہ تھا لیکن تم پر میرا کوئی زور تو نہیں تھا میں نے تمہیں صرف کہا اور تم نے منظور کر لیا اب مجھے ملامت کرنے سے کیا فائدہ؟ اب اپنی جانوں کو لعنت ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری، میرا تمہارے اگلے شرک سے کوئی واسطہ نہیں جان لو کہ ظالموں کے لیے درناک عذاب ہے پھر فرمایا کہ وہ عذاب دیکھ لیں گے اور اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے نہ کوئی بھاگنے کی جگہ رہے گی نہ چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آئے گی دوستیاں کٹ جائیں گی رشتے ٹوٹ جائیں گے۔
اور بلادلیل باتیں ماننے والے بے وجہ اعتقاد رکھنے والے پوجا پاٹ اور اطاعت کرنے والے جب اپنے پیشواؤں کو اس طرح بری الذمہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو نہایت حسرت ویاس سے کہیں گے کہ اگر اب ہم دنیا میں لوٹ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہوئے نہ ان کی طرف التفات کریں نہ ان کی باتیں مانیں نہ انہیں شریک اللہ سمجھیں بلکہ اللہ واحد کی خالص عبادت کریں۔ حالانکہ اگر درحقیقت یہ لوٹائے بھی جائیں تو وہی کریں گے جو اس سے پہلے کرتے تھے جیسے فرمایا آیت «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [6۔ الانعام: 28] اسی لیے یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے کرتوت اسی طرح دکھائے گا ان پر حسرت و افسوس ہے یعنی اعمال نیک جو تھے وہ بھی ضائع ہو گئے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [25۔ الفرقان: 23] اور جگہ ہے آیت «اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ» [14۔ ابراہیم: 18] اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّـهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّـهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [24۔ النور: 39] یعنی ان کے اعمال برباد ہیں ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جسے تند ہوائیں اڑا دیں، ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے مگر پاس جاؤ توریت کا تودا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ آگ سے نکلنے والے نہیں۔