ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 155

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
اور یقینا ہم تمھیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دے۔ En
اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو
En
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 155تا157) ➊ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے، وہ خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ (قرطبی، شوکانی) «اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ» یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ دل کی حاضری سے کہا جائے تو اس میں اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ہم اللہ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں اور اس کا بھی کہ ہمیں ہر حال میں اس کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ جب چاہے، جسے چاہے واپس بلائے، اس پر شکوہ و شکایت کا کیا موقع ہے؟ اس سے انسان کو صبر کی توفیق ملتی ہے اور صبر کرنے والوں کو تین نعمتیں ملتی ہیں: (1) رب کی مہربانیاں۔ (2) اس کی بہت بڑی رحمت ({ رَحْمَةٌ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے)۔ (3) اور ہدایت یافتہ ہونے کی سند۔ قرآن مجید میں صبر کا ذکر ستر (۷۰) دفعہ آیا ہے۔
➋ { اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ:} اس میں لفظ { اِذَا} میں اشارہ ہے کہ مصیبت پہنچتے ہی صبر کرنا اور {اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ} کہنا چاہیے، بعد میں رو دھو کر تو ہر شخص ہی صبر کر لیتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی] [بخاری، الجنائز، باب زیارۃ القبور: ۱۲۸۳] صبر صرف وہ ہے جو پہلی چوٹ کے وقت ہو۔
➌ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ وہی کلمہ کہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے (یعنی یہ دعا پڑھے): [إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ أَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا] (یقینًا ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کی جگہ اس سے بہتر عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ پھر جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا مسلمانوں میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو گا؟ پہلا گھرانہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ (مذکورہ بالا) کلمہ کہہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عطا فرما دیے۔ [مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ: ۹۱۸]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

155۔ اور ہم ضرور تمہیں [195] خوف اور فاقہ میں مبتلا کر کے، نیز جان و مال اور پھلوں کے خسارہ میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ اور (اے نبی!) ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے
[195] مسلمانوں پر خوف اور تنگدستی: یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ خوف سے مراد وہ ہنگامی صورت حال ہے جو جنگ احزاب سے پہلے ہر وقت مدینہ کی آزاد چھوٹی سی ریاست کے گرد منڈلاتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش آج رات کوئی میرا پہرہ دے تاکہ میں سو سکوں۔ یہ سن کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مسلح ہو کر آ گئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہرہ دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح آرام فرمایا۔ [بخاري، كتاب الجهاد، باب الحراسة فى الغزو فى سبيل اللّٰه عز و جل، بخاري كتاب التمني باب قوله النبى ليت كذا وكذا] اور ایک رات اہل مدینہ ایک خوفناک آواز سن کر گھبرا گئے، پھر وہ اس آواز کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے واپس آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے ہی اس آواز کی جانب روانہ ہو گئے تھے اور خبر معلوم کر کے آ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ [بخاري، كتاب الجهاد، باب الحمائل و تعليق السيف بالعنق اور مبادرة الامام عند الفزع اور مسلم كتاب الفضائل باب شجاعة النبي]
اور اس دور میں مسلمانوں کی معاشی تنگ دستی کا حال درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
صحابہ اور رسول اللہﷺ کی معیشت:۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے صفہ والوں میں ستر آدمی ایسے دیکھے جن کے پاس چادر تک نہ تھی یا تو فقط تہبند تھا یا فقط کمبل۔ جسے انہوں نے گردن سے باندھ رکھا تھا۔ جو کسی کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتا اور کسی کے ٹخنوں تک، جسے وہ اپنے ہاتھ سے سمیٹتے رہتے۔ اس ڈر سے کہ کہیں ان کا ستر نہ کھل جائے۔ [بخاري، كتاب الصلٰوة، باب نوم الرجال فى المسجد]
2۔ حضرت عائشہؓ نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیرؓ سے کہا کہ: میرے بھانجے ہم پر ایسا وقت گزر چکا ہے کہ ہم ایک چاند دیکھتے، پھر دوسرا چاند، پھر تیسرا چاند یعنی دو دو مہینے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ عروہؓ نے کہا: خالہ! پھر تمہاری گزر کس چیز پر ہوتی تھی؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: انہی دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔ اتنا ضرور تھا کہ چند انصاری لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے جن کے پاس بکریاں تھیں۔ وہ آپ کے لیے بکریوں کا دودھ تحفہ کے طور پر بھیجا کرتے جس سے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پلاتے۔ [بخاري۔ كتاب الهبة و فضلها و التحريض عليها]
3۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آپ کی وفات تک ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ انہوں نے مسلسل تین دن پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو۔ [بخاري، كتاب الاطعمه باب قول الله تعالىٰ كلوا من طيبات مارزقنكم وكلوا من طيبات ما كسبتم]
4۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بھوک لگی ہوئی تھی۔ مجھے حضرت عمرؓ ملے تو ان سے کہا کہ قرآن پاک کی فلاں آیت: ﴿وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَليٰ حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا مجھے پڑھ کر سناؤ، وہ اپنے گھر میں گئے اور یہ آیت مجھے پڑھ کر سنائی اور سمجھائی۔ آخر میں وہاں سے چلا۔ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ بھوک سے بے حال ہو کر اوندھے منہ گر پڑا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سرہانے کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا اور پہچان گئے کہ بھوک کے مارے میرا یہ حال ہے۔ آپ مجھے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا پیالہ لانے کا حکم دیا۔ میں نے دودھ پیا، پھر فرمایا ابو ہریرہ! اور پی، میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا: اور پی۔ میں نے اور پیا حتیٰ کہ میرا پیٹ تن کر سیدھا ہو گیا۔ پھر میں حضرت عمرؓ سے ملا اور اپنا حال بیان کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میری بھوک دور کرنے کے لیے ایسے شخص کو بھیج دیا جو آپ سے اس بات کے زیادہ لائق تھے اللہ کی قسم! میں نے آپ سے جونسی آیت پڑھ کر سنانے کو کہا تھا۔ وہ مجھے آپ سے زیادہ یاد تھی۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے، اللہ کی قسم! اگر میں اس وقت تمہیں گھر لے جا کر کھانا کھلاتا تو سرخ اونٹوں کے ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ [بخاري، كتاب قول اللّٰه تعالىٰ كلوا من طيبات ما رزقناكم]
5۔ سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ میں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور ہم نے اپنے تئیں اس وقت جہاد کرتے پایا جب ہم کو حبلہ اور سمر (کانٹے دار درخت) کے پتوں کے سوا اور خوراک نہ ملتی۔ ہم لوگوں کو اس وقت بکری کی طرح سوکھی مینگنیاں آیا کرتیں جن میں تری نام کی کوئی چیز نہ ہوتی۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ]
6۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی کو نکلے۔ سواری کے لیے ہم سب کے پاس ایک ہی اونٹ تھا اور باری باری اس پر سوار ہوتے اور چلتے چلتے ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے تو پاؤں پھٹ کر ناخن بھی گر پڑے۔ اس حال میں ہم پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیتے۔ اسی لیے اس لڑائی کا نام غزوہ ذات الرقاع (چیتھڑوں والی لڑائی) پڑ گیا [بخاري، كتاب المغازي باب غزوة ذات الرقاع]
7۔ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ آپ نے ایک لشکر سمندر کے کنارے بھیجا جس میں تین سو آدمی اور سردار ابو عبیدہ بن الجراحؓ تھے۔ ہمارا راشن ختم ہو گیا تو ابو عبیدہؓ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا اپنا بچا ہوا راشن ایک جگہ جمع کریں۔ یہ سارا راشن کھجور کے دو تھیلے تھے ابو عبیدہؓ اس سے تھوڑا تھوڑا کھانے کو دیتے رہے۔ جب وہ بھی ختم ہو گیا تو ہمیں روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملا کرتی۔ وہب نے جابرؓ سے پوچھا! بھلا ایک کھجور سے کیا بنتا ہو گا۔ جابرؓ کہنے لگے کہ وہ ایک کھجور بھی غنیمت تھی، جب وہ بھی نہ رہی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی۔ پھر ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بہت بڑی مچھلی ٹیلے کی طرح پڑی ہے۔ سارا لشکر اٹھارہ دن اس کا گوشت کھاتا رہا، جب ہم چلنے لگے تو ابو عبیدہؓ نے حکم دیا کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی جائیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا تو وہ ان کے نیچے سے نکل گیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي باب غزوة سيف البحر]
خوف کے علاوہ فاقہ، جان و مال اور پھلوں میں خسارہ یہ سب ایسی صورتیں ہیں جو اسلام کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو پیش آتی رہیں۔ اسی لیے انہیں صبر اور نماز سے مدد لینے کی ہدایت کی گئی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وفائے عہد کے لیے آزمائش لازم ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے، جیسے فرماتا ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [47۔ محمد: 31]‏‏‏‏ یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کر لیں گے اور جگہ ہے آیت «فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112]‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بے صبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے، مال کی کمی سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ہے، جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں، پھلوں سے مراد اولاد ہے، لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت «‏‏‏‏الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [البقرہ: 156]‏‏‏‏ پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالآخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ایک روز میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا «اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا» یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا۔
جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو میں نے آیت «الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [البقرہ: 156]‏‏‏‏ پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑھ لی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابوسلمہ رضی اللہ عنہما سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گزر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے کہا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اوّل تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو ایسی بے جا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
[مسند احمد:27/4:صحیح]‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، [صحیح مسلم:918]‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گزر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، [مسند احمد:201/1:ضعیف]‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے ابوسنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابوطلحہ خولانی رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہے کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور «اناللہ» پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔ [سنن ترمذي:1021، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏