یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
En
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
En
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 153) ➊ ذکر و شکر کے ساتھ صبر اور نماز کی تعلیم دی ہے۔ احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں صبر اور نماز پر ہمیشگی ان مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا کام ہی خیر ہے اور یہ چیز کسی اور کو حاصل نہیں۔ (خیر اس طرح کہ) اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“ [مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹، عن صھیب رضی اللہ عنہ]
➋ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے تذکرے کے بعد (جن میں بیت اللہ کو قبلہ قرار دے کر اپنی نعمت تمام کرنا اور اپنے آخری رسول کو بھیجنا شامل ہے) اپنے ذکر و شکر کا حکم دیا اور اس آیت میں مصیبتوں کے آنے پر صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۴۵) اگرچہ اس میں ایمان والوں پر آنے والی ہر مصیبت کا علاج بتایا گیا ہے مگر آیات کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کی تمہید ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی رجب یا شعبان ۲ ہجری میں ہوئی اور غزوۂ بدر رمضان ۲ ہجری میں ہوا۔ دونوں کے درمیان تقریباً دو ماہ کا وقفہ ہے۔
➌ {اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ:} اس سے معیت خاصہ (خصوصی ساتھ) مراد ہے اور جسے اللہ کا ساتھ مل جائے اسے کیا غم ہے؟ جیسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» [التوبۃ: ۴۰] ”غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ [بخاری، المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام: ۳۶۱۵] مقصد یہ ہے کہ صبر کرو، تاکہ تمھیں اللہ تعالیٰ کا ساتھ نصیب ہو جائے۔
➋ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے تذکرے کے بعد (جن میں بیت اللہ کو قبلہ قرار دے کر اپنی نعمت تمام کرنا اور اپنے آخری رسول کو بھیجنا شامل ہے) اپنے ذکر و شکر کا حکم دیا اور اس آیت میں مصیبتوں کے آنے پر صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۴۵) اگرچہ اس میں ایمان والوں پر آنے والی ہر مصیبت کا علاج بتایا گیا ہے مگر آیات کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کی تمہید ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی رجب یا شعبان ۲ ہجری میں ہوئی اور غزوۂ بدر رمضان ۲ ہجری میں ہوا۔ دونوں کے درمیان تقریباً دو ماہ کا وقفہ ہے۔
➌ {اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ:} اس سے معیت خاصہ (خصوصی ساتھ) مراد ہے اور جسے اللہ کا ساتھ مل جائے اسے کیا غم ہے؟ جیسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» [التوبۃ: ۴۰] ”غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ [بخاری، المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام: ۳۶۱۵] مقصد یہ ہے کہ صبر کرو، تاکہ تمھیں اللہ تعالیٰ کا ساتھ نصیب ہو جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
153۔ 1 انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں آرام اور راحت (نعمت) یا تکلیف و پریشانی۔ نعمت میں شکر الہی کی تلقین اور تکلیف میں صبر اور اللہ سے مدد کی تاکید ہے۔ حدیث میں ہے ـ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں ہی حالتیں اس کے لئے خیر ہیں۔ (صحیح مسلم) صبر کی دو قسمیں ہیں، برے کام کے ترک اور اس سے بچنے پر صبر اور لذتوں کے قربان اور عارضی فائدوں کے نقصان پر صبر۔ دوسرا احکام الٰہی کے بجا لانے میں جو مشکلیں اور تکلیفیں آئیں، انہیں صبر اور ضبط سے برداشت کرنا۔ بعض لوگوں نے اس کو اس طرح تعبیر کیا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ باتوں پر عمل کرنا چاہے وہ نفس اور بدن پر کتنی ہی گراں ہوں اور اللہ کی ناپسندیدگی سے بچنا چاہیے اگرچہ خواہشات و لذات اس کو اس کی طرف کتنا ہی کھنچیں۔ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
153۔ اے ایمان والو! (جب کوئی مشکل درپیش ہو تو) [192] صبر اور نماز سے مدد لو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں [193] کے ساتھ ہے
[192] مشکل اوقات میں صبر اور نماز سے مدد:۔
مشکل اور آڑے وقت میں صبر اور نماز سے مدد لینے کا حکم پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر 45 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس مقام پر اس کی مناسبت یہ ہے۔ تحویل قبلہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو جس امامت کے لیے تیار کرنا مقصود ہے تو اس کی راہ میں بے شمار مشکلات اور مصائب پیش آنے والے ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! ایسے اوقات میں صبر اور نماز سے کام لو۔ صبر سے انسان بہت سی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے اور نماز ان حالات میں نفس انسانی کو اطمینان بخشتی ہے۔ بندہ کا اللہ پر توکل بڑھتا ہے اور یہی توکل مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہوتا ہے۔
[193] صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعانت اور توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ بات ہر انسان کو اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر بھی معلوم ہو سکتی اور ہوتی رہتی ہے۔
[193] صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعانت اور توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ بات ہر انسان کو اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر بھی معلوم ہو سکتی اور ہوتی رہتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صلوۃ و صبر و سیلہ اور شہداء کا ذکر ٭٭
شکر کے بعد صبر کا بیان ہو رہا ہے اور ساتھ ہی نماز کا ذکر کر کے ان بڑے بڑے نیک کاموں کو ذریعہ نجات بنانے کا حکم ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے کہ انسان یا تو اچھی حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ شکر کا ہے یا اگر بری حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ صبر کا ہے، حدیث میں ہے، مومن کی کیا ہی اچھی حالت ہے کہ ہر کام میں اس کے لیے سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے اسے راحت ملتی ہے۔ شکر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے، رنج پہنچتا ہے صبر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2999] آیت میں اس کا بھی بیان ہو گیا کہ مصیبتوں پر تحمل کرے اور انہیں ٹالنے کا ذریعہ صبر و صلوۃ ہے، جیسے اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ آیت «وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ» [البقرة: 45] صبر و صلوٰۃ کے ساتھ استعانت چاہو یہ ہے تو اہم کام لیکن رب کا ڈر رکھنے والوں پر بہت آسان ہے، حدیث میں ہے جب کوئی کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غم میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:حسن]
صبر کی دو قسمیں ہیں، حرام اور گناہ کے کاموں کے ترک کرنے پر، اطاعت اور نیکی کے کاموں کے کرنے پر یہ صبر پہلے سے بڑا ہے، تیسری قسم صبر کی مصیبت، درد اور دکھ پر یہ بھی واجب ہے، جیسے عیبوں سے استغفار کرنا واجب ہے، حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی فرمانبرداری میں استقلال سے لگے رہنا چاہے انسان پر شاق گزرے طبیعت کے خلاف ہو جی نہ چاہے یہ بھی ایک صبر ہے۔ دوسرا صبر اللہ تعالیٰ کی منع کئے ہوئے کے کاموں سے رک جانا ہے چاہے طبعی میلان اس طرف ہو خواہش نفس اکسا رہی ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:144/1] امام زین العابدین فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ اٹھیں اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف بڑھیں گے فرشتے انہیں دیکھ کر پوچھیں گے کہ کہاں جا رہے ہو؟ جواب دیں گے ہم صابر لوگ ہیں اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے، مرتے دم تک اس پر اور اس پر صبر کیا اور جمے رہے، فرشتے کہیں گے پھر تو ٹھیک ہے بیشک تمہارا یہی بدلہ ہے اور اسی لائق تم ہو جاؤ جنت میں مزے کرو اچھے کام والوں کا اچھا ہی انجام ہے۔
یہی قرآن فرماتا ہے آیت «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» [39-الزمر: 10] صابروں کو ان کا پورا پورا بدلہ بے حساب دیا جائے گا۔ حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرے اور مصیبتوں کا بدلہ اللہ کے ہاں ملنے کا یقین رکھے ان پر ثواب طلب کرے ہر گھبراہٹ پریشانی اور کٹھن موقعہ پر استقلال اور نیکی کی امید پر وہ خوش نظر آئے۔
پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا۔ [صحیح مسلم:1887]
مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی، [مسند احمد:455/2:صحیح] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے۔