ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 148

وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۴۸﴾
اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے، جس کی طرف وہ منہ پھیرنے والا ہے، سو نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تمھیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 148) ➊ {وِجْهَةٌ:} وہ جگہ جس طرف منہ کیا جائے۔ اس کا وزن {فِعْلَةٌ} ہے، جو اس {فِعْلٌ} کا مؤنث ہے جو بمعنی مفعول ہے، جیسے {ذِبْحٌ} بمعنی {مَذْبُوْحٌ} (ابن عاشور)
➋ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ اگرچہ کعبہ تھا، مگر بعد میں ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی سے کسی نہ کسی سمت کو اپنا قبلہ مقرر کر لیا۔ چنانچہ یہود نے بیت المقدس کے صخرہ کو قبلہ قرار دے لیا اور نصاریٰ نے بیت المقدس کی مشرقی جانب کو۔ اب تمھارے لیے کعبہ کو قبلہ مقرر کر دیا گیا ہے، اس لیے ان لوگوں سے اس بحث کا کوئی خاص فائدہ نہیں کہ کون سی سمت افضل ہے۔ اصل چیز نیکیوں میں سبقت ہے، اس کا اہتمام کرو، کیونکہ تم جہاں بھی ہو گے تمھیں اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا، جیسا کہ فرمایا: نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگ دستی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔ [البقرۃ: ۱۷۷] نیکیوں میں سبقت میں نماز کو وقت پر ادا کرنا، پہلی صف میں پہلی تکبیر کے ساتھ شامل ہونا، اسی طرح جہاد کی اولین صفوں میں پہنچنا بھی شامل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

148۔ 1 یعنی ہر مذہب والے نے اپنا پسندیدہ قبلہ بنا رکھا ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ کہ ہر ایک مذہب نے اپنا ایک راستہ اور طریقہ بنا رکھا ہے، جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ) 5:48 یعنی اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور ضلالت دونوں کی وضاحت کے بعد انسان کو ان دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے کی جو آزادی دی ہے، اس کی وجہ سے مختلف طریقے اور دستور لوگوں نے بنا لئے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی راستے یعنی ہدایت کے راستے پر چلا سکتا تھا، لیکن یہ سب اختیارات دینے سے مقصود ان کا امتحان ہے۔ اس لئے اے مسلمانوں تم تو خیر کی طرف سبقت کرو، یعنی نیکی اور بھلائی ہی کے راستے پر گامزن رہو یہ وحی الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا راستہ ہے جس سے دیگر محروم ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

148۔ ہر ایک کے لیے ایک مقررہ جہت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے۔ [185] سو تم نیک کاموں میں پیش قدمی کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر لائے گا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
[185] یعنی اصل چیز رخ کرنا نہیں بلکہ وہ بھلائیاں ہیں جن کے لیے تم نماز پڑھتے ہو۔ لہٰذا سمت اور مقام کے جھگڑوں میں پڑنے کے بجائے تمہیں اصل مقصد یعنی نیکیوں کے حصول کی فکر کرنا چاہیے۔ اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کوشش کرنا چاہیے۔ کیونکہ قیامت کے دن یہی نیکیاں تمہارے کام آئیں گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سچا قبلہ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب والوں کا ایک قبلہ ہے لیکن سچا قبلہ وہ ہے جس پر مسلمان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:193/3]‏‏‏‏ ابوالعالیہ کا قول ہے کہ یہود کا بھی قبلہ ہے نصرانیوں کا بھی قبلہ ہے اور تمہارا بھی قبلہ ہے لیکن ہدایت والا قبلہ وہی ہے جس پر اے مسلمانو تم ہو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:121/1]‏‏‏‏ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کعبہ کو قبلہ مانتی ہے وہ بھلائیوں میں سبقت کرے آیت «مُوَلِّيهَا» کی دوسری قرأت «مُوَلَّاھَا» ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا» [5۔ المائدہ: 48]‏‏‏‏، یعنی ہر شخص کو اپنے اپنے قبلہ کی پڑی ہوئی ہے ہر شخص اپنی اپنی راہ لگا ہوا ہے پھر فرمایا کہ گو تمہارے جسم اور بدن مختلف ہو جائیں گو تم ادھر ادھر بکھر جاؤ لیکن اللہ تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے اسی زمین سے جمع کر لے گا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لیے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لیے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے، یہی سعادت کا عنوان اور ولایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کر لیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا اور اسی کا اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم دیا۔
نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کا حکم، نیکی کرنے کے حکم پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ نیکیوں کی طرف سبقت، نیکیوں کے کرنے، ان کی تکمیل، کامل ترین احوال میں ان کو واقع کرنے اور نہایت سرعت سے ان کی طرف بڑھنے کو متضمن ہے۔ جو کوئی اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے وہ آخرت میں جنت کی طرف سبقت لے جائے گا، پس سابقون (سبقت کرنے والے) تمام مخلوق میں بلند ترین درجے پر فائز ہوں گے۔
اور نیکیوں کا لفظ تمام فرائض، نماز، نوافل، روزے، زکٰوۃ، حج و عمرہ، جہاد اور لوگوں کو نفع پہنچانے وغیرہ کو شامل ہے۔ جب بات یہ ہے کہ سب سے طاقتور داعیہ جو نفوس کو نیکیوں میں مسابقت و مسارعت پر آمادہ کرتا ہے اور انھیں نشاط عطا کرتا ہے، وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں پر عطا کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ﴿ اَیْنَ مَا تَكُ٘وْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ تم جہاں کہیں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو لے آئے گا،بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ قیامت کے روز اپنی قدرت سے تمھیں اکٹھا کرے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى (النجم: 53؍31) تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ہیں ان کو نیک بدلہ دے۔
اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر اس فضیلت کو اختیار کرنا چاہیے جس سے کوئی عمل متصف ہو سکتا ہے، مثلاً اول وقت پر نماز ادا کرنا، روزے، حج، عمرہ اور زکٰوۃ کی ادائیگی سے فوری طور پر بری الذمہ ہونا۔ تمام عبادات کی سنن و آداب کو پوری طرح ادا کرنا۔ پس کتنی جامع اور کتنی نفع مند آیت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كل أهل دين وملة له وجهة يتوجه إليها في عبادته، وليس الشأن في استقبال القبلة فإنه من الشرائع التي تتغير بها الأزمنة والأحوال ويدخلها النسخ والنقل من جهة إلى جهة، ولكن الشأن كل الشأن في امتثال طاعة الله والتقرب إليه وطلب الزلفى عنده، فهذا هو عنوان السعادة ومنشور الولاية، وهو الذي إذا لم تتصف به النفوس حصلت لها خسارة الدنيا والآخرة، كما أنها إذا اتصفت به فهي الرابحة على الحقيقة، وهذا أمر متفق عليه في جميع الشرائع، وهو الذي خلق الله له الخلق وأمرهم به، والأمر بالاستباق إلى الخيرات قدر زائد على الأمر بفعل الخيرات، فإن الاستباق إليها يتضمن فعلها وتكميلها وإيقاعها على أكمل الأحوال والمبادرة إليها، ومن سبق في الدنيا إلى الخيرات فهو السابق في الآخرة إلى الجنات، فالسابقون أعلى الخلق درجة، والخيرات تشمل جميع الفرائض والنوافل من صلاة وصيام وزكاة وحج وعمرة وجهاد ونفع متعدٍّ وقاصر، ولما كان أقوى ما يحث النفوس على المسارعة إلى الخير وينشطها ما رتب الله عليها من الثواب قال: {أينما تكونوا يأت بكم الله جميعاً إن الله على كلِّ شيء قدير}؛ فيجمعكم ليوم القيامة بقدرته، فيجازي كل عامل بعمله؛ {ليجزي الذين أساءوا بما عملوا ويجزي الذين أحسنوا بالحسنى}.

ويستدل بهذه الآية الشريفة على الإتيان بكل فضيلة يتصف بها العمل، كالصلاة في أول وقتها، والمبادرة إلى إبراء الذمة من الصيام والحجِّ والعمرة وإخراج الزكاة، والإتيان بسنن العبادات وآدابها، فلله ما أجمعها وأنفعها من آية.