ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 139

قُلۡ اَتُحَآجُّوۡنَنَا فِی اللّٰہِ وَ ہُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ۚ وَ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ۚ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُخۡلِصُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾ۙ
کہہ دے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال اور ہم اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں۔ En
(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
En
آپ کہہ دیجیئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 139) یہود مسلمانوں سے جھگڑتے کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں، پھر یہ آخری نبی عرب سے کیسے مبعوث ہو گئے؟ ہمارا دین سب سے بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے، تو اس آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے کہ ہمارا تمھارا سب کا رب ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں، پھر تمھارا یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں، یہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

139۔ 1 کیا تم ہم سے اس بارے میں جھگڑتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لئے اخلاص و نیاز مندی کے جذبات رکھتے ہیں اور اسی کے احکامات کی پیروی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ ہمارا ہی نہیں تمہارا بھی ہے اور تمہیں بھی اس کے ساتھ یہی معاملہ کرنا چاہیے جو ہم کرتے ہیں اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہارا عمل تمہارے ساتھ، ہمارا عمل ہمارے ساتھ۔ ہم تو اسی کے لئے خاص عمل کا اہتمام کرنے والے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

139۔ آپ ان سے کہیے: ”کیا تم لوگ ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جبکہ وہی ہمارا بھی [171] پروردگار ہے اور تمہارا بھی؟“ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ اور ہم خالصتاً اسی کی بندگی کرتے ہیں۔
[171] اللہ کے لطف و کرم کی بنیاد:۔
یہود و نصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ لہٰذا اس کی جملہ نوازشات اور الطاف و اکرام کے مستحق صرف ہم ہی ہیں۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اللہ جیسا تمہارا پروردگار ہے ویسا ہی ہمارا بھی ہے۔ وہ تو جس طرح کے کوئی شخص عمل کرے گا اسی کے مطابق اس پر نوازشات کرے گا۔ اور اس لحاظ سے ہم تم سے بہتر بھی ہیں کہ ہم فقط اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تم شرک بھی کئے جاتے ہو اور یہ اندازہ اب تم خود لگا سکتے ہو کہ آئندہ اس کی نوازشات اور الطاف و اکرام کس پر ہونا چاہئیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کے اعمال پر بیزاری ٭٭
مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے کہ تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں اور جگہ فرمایا آیت «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» الخ یعنی اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے [نیک]‏‏‏‏ کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «حَاجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [3۔ آل عمران: 20]‏‏‏‏ اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہہ دے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئیے۔ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا آیت «وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ» [6۔ الانعام: 80]‏‏‏‏ کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟ اور جگہ ہے؟ آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ» [2۔ البقرہ: 258]‏‏‏‏ تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم [علیہ السلام]‏‏‏‏ سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟ کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا آیت «مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [3۔ آل عمران: 67]‏‏‏‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

(مَحَاجَۃ) دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان اس مباحثہ اور مجادلہ کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق اختلافی مسائل سے ہوتا ہے، ہر فریق اپنے مدمقابل کے خلاف اپنی بات میں کامیابی حاصل کرنا اور مدمقابل کے قول کا ابطال کرنا چاہتا ہے، اس لیے دونوں ہی دلیل قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں مطلوب یہ ہے کہ یہ مباحثہ نہایت احسن طریقے سے ہو۔ قریب ترین راستے کے ذریعے سے گمراہ کو حق کی طرف لوٹایا جائے۔ فریق مخالف کے سامنے دلیل بیان کر کے حق اورباطل کو واضح کر دیا جائے۔ اگر آپ ان مذکورہ امور سے باہر نکل جائیں تو مباحثہ نہیں بلکہ جھگڑا کہلائے گا۔ یہ ایک مخاصمت ہو گی جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس جھگڑے اور مخاصمت سے برائی جنم لیتی ہے۔
پس اہل کتاب اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ مسلمانوں کی نسبت، وہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ یہ ان کا محض دعویٰ تھا جو دلیل اور برہان کا محتاج تھا۔۔۔ جب تمام لوگوں کا رب ایک ہے تمھارا کوئی اور رب نہیں۔ ہم اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ تو اعمال بجا لانے میں ہم اور آپ برابر ہیں۔ پس یہ چیز اس بات کی ہرگز موجب نہیں کہ ہم میں سے کوئی، دوسرے سے زیادہ، اللہ تعالیٰ، کے قریب ہے۔ کیونکہ کسی مشترک چیز میں بغیر کسی موثر فرق کے تفریق کرنا محض باطل دعویٰ، ایک جیسی دو چیزوں کے مابین تفریق پیدا کرنا اور کھلا انکار حق ہے۔
فضیلت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اعمال کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے اور یہ حالت صرف اہل ایمان کا وصف ہے۔ اور اس سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان ہی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں، اس لیے کہ اخلاص ہی نجات کا راستہ ہے۔ یہی وہ حقیقی اوصاف ہیں جن سے اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان کے مابین فرق ہوتا ہے جنھیں تمام عقلمند لوگ تسلیم کرتے ہیں اور جاہل منکر حق کے سوا کوئی اس میں نزاع پیدا نہیں کرتا۔
اس آیت کریمہ میں نہایت لطیف طور پر طریق مباحثہ کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ تمام امور اس اصول پر مبنی ہیں کہ دو متماثل اشیاء اکٹھی ہوتی ہیں اور دو مختلف اشیاء میں فرق ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المحاجة: هي المجادلة بين اثنين فأكثر تتعلق في المسائل الخلافية حتى يكون كل من الخصمين يريد نصرة قوله وإبطال قول خصمه، فكل واحد منهما يجتهد في إقامة الحجة على ذلك، والمطلوب منها أن تكون بالتي هي أحسن بأقرب طريق يرد الضال إلى الحق، ويقيم الحجة على المعاند، ويوضح الحق، ويبين الباطل، فإن خرجت عن هذه الأمور كانت مماراة ومخاصمة لا خير فيها، وأحدثت من الشرِّ ما أحدثت، فكان أهل الكتاب يزعمون أنهم أولى بالله من المسلمين، وهذا مجرد دعوى تفتقر إلى برهان ودليل، فإذا كان رب الجميع واحداً ليس ربًّا لكم دوننا، وكلٌّ منا ومنكم له عمله، فاستوينا نحن وأنتم بذلك، فهذا لا يوجب أن يكون أحد الفريقين أولى بالله من غيره؛ لأن التفريق مع الاشتراك في الشيء من غير فرق مؤثر دعوى باطلة، وتفريق بين متماثلين ومكابرة ظاهرة، وإنما يحصل التفضيل بإخلاص الأعمال الصالحة لله وحده، وهذه الحالة وصف المؤمنين وحدهم فتعين أنهم أولى بالله من غيرهم لأن الإخلاص هو الطريق إلى الخلاص.

فهذا هو الفرق بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان بالأوصاف الحقيقية التي يسلمها أهل العقول ولا ينازع فيها إلا كل مكابر جهول، ففي هذه الآية إرشاد لطيف لطريق المحاجة، وأن الأمور مبنية على الجمع بين المتماثلين، والفرق بين المختلفين.