پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے
En
(آیت 137) ➊ {شِقَاقٍ:} یہ {”شِقٌّ“} میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، یعنی بعض کا ایک شق میں اور بعض کا دوسری شق میں ہو کر مقابلے میں آ جانا۔ ➋ یعنی یہ لوگ ان چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، تو واقعی وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ منہ موڑیں تو محض مخالفت اور ضد کی وجہ سے ایسا کریں گے۔ ➌ اس وعدے کے مطابق واقعی اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کافی ہو گیا، بنو نضیر اور بنو قینقاع مدینہ سے نکالے گئے، بنو قریظہ قتل ہوئے اور بالآخر تمام یہود و نصاریٰ پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کر دیے گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
137۔ 1 صحابہ کرام بھی اسی مزکورہ طریقے پر ایمان لائے تھے، اس لئے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح سے صحابہ کرام! تم ایمان لائے ہو تو پھر یقینا وہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ اگر وہ ضد اور اختلاف میں منہ موڑیں گے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی سازشیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرنے والا ہے۔ چناچہ چند سالوں میں ہی یہ وعدہ پورا ہوا اور بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا گیا اور بنو قریظہ قتل کئے گئے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت ایک مصحف عثمان ان کی اپنی گود میں تھا اور اس آیت کے جملہ (فَسَيَكْفِيْكَهُمُاللّٰهُ) 2:137 پر ان کے خون کے چھینٹے گرے بلکہ دھار بھی۔ کہا جاتا ہے یہ مصحف آج بھی ترکی میں موجود ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
137۔ سو اگر یہ اہل کتاب ایسے ہی ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پا لیں گے اور اگر اس سے منہ پھیریں تو وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہیں۔ لہذا اللہ ان کے مقابلے میں آپ کو کافی [169] ہے اور وہ ہر ایک کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے
[169] یعنی ان اہل کتاب کا حق سے اعراض اور ہٹ دھرمی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اللہ انہیں سزا دینے کو کافی ہے۔ یعنی یہود بنو نضیر جلا وطن ہوئے اور جزیہ دینا قبول کیا اور بنو قریظہ قیدی اور قتل ہوئے اور نجران کے عیسائیوں نے بھی جزیہ دینا قبول کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شرط نجات ٭٭
یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُاللّٰهُ ۚ وَھُوَالسَّمِيْعُالْعَلِيْمُ»[2۔ البقرہ: 137] کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [رضی اللہ عنہما]۔[تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔[تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] جسے «فطرۃ اللہ» میں۔[30-الروم:3] مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «وَعْدَاللَّـهِ ۖ»[30-الروم:6] ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔[تفسیر ابن ابی حاتم:403/1]“یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔